| 88706 | ایمان وعقائد | اسلامی فرقوں کابیان |
سوال
(تیسری روایت پیش کرتے ہوئےموصوف اسکالر نےکہا کہ) صحیح مسلم میں ہے کہ غزوہ تبوک کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ہمارے صحابہ میں بارہ منافق ہیں۔جوایک سازش میں شریک تھے اور وہ بہت خطرناک تھی یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو شہید کرنے کےلیے اس غزوہ میں شریک ہوئے تھے اور انکے ارادے بہت ہی خطرناک تھے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان بارہ منافقین میں سے آٹھ کو دبیلہ مرض ہوگا یعنی پیٹھ کی خطرناک پھوڑے کا مرض ہوگااور تاریخ سے ثابت ہے کہ معاویہ رضی اللہ عنہ کو یہ مرض ہوا تھا۔اور متعدد قرائن حضرت معاویہ کی تعیین کرتے ہیں۔
سؤال: کیا یہ روایت اور واقعہ ثابت اور مذکورتطبیق صحیح ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
ٍ جواب سے پہلے پوری اصل روایت ملاحظہ ہو۔
صحيح مسلم للنيسابوري - (ج 8 / ص 122):
حدثنا أبو بكر بن أبى شيبة حدثنا أسود بن عامر حدثنا شعبة بن الحجاج عن قتادة عن أبى نضرة عن قيس قال قلت لعمار أرأيتم صنيعكم هذا الذى صنعتم فى أمر على أرأيا رأيتموه أو شيئا عهده إليكم رسول الله -صلى الله عليه وسلم- فقال ما عهد إلينا رسول الله -صلى الله عليه وسلم- شيئا لم يعهده إلى الناس كافة ولكن حذيفة أخبرنى عن النبى -صلى الله عليه وسلم- قال قال النبى -صلى الله عليه وسلم- « فى أصحابى اثنا عشر منافقا فيهم ثمانية لا يدخلون الجنة حتى يلج الجمل فى سم الخياط ثمانية منهم تكفيكهم الدبيلة وأربعة ». لم أحفظ ما قال شعبة فيهم.
اس حدیث کا عدالت حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ پر جرح سے درج ذیل دلائل و قرائن کی بناء پرکوئی تعلق نہیں:
پہلی بات تو یہ ہےکہ صحیح مسلم کی یہ روایت اگرچہ صحیح ہے،لیکن محدثین کی تشریح کے مطابق اس میں اصحابی سے بالمعنی الاعم صحابہ مرادہیں،چنانچہ محدثین نے لکھا ہے کہ اصحابی سے مراد من جملۃ من ینسبون الی صحبتی فی الظاھر ہے، اس لیے کہ صحابی کبھی منافق نہیں ہوسکتا۔(شرح مسلم از امام نووی ،تکملہ فتح الملہم از عثمانی) اور اس مفہوم کی تاییدوتوثیق امام مسلم رحمہ اللہ تعالی کی صنیع سے بھی ہوتی ہے کہ اس روایت کے بعد دوسری روایت جو لائے ہیں اس میں فی اصحابی کی جگہ فی امتی کا لفظ ہے۔لہذاامام مسلم رحمہ اللہ تعالی کے نزدیک بھی ا صحابی سے یہی عام مفہوم مرادہے۔
دوسری بات یہ کہ اس حدیث میں عہد نبوی کے ان منافقین کی طرف اشارہ ہے، جو بعد میں عام صحابہ میں بالعموم اور حضرت علی اور حضرت معاویہ کے درمیان بالخصوص اختلاف کا باعث بنے۔جیساکہ خودراوی قیس کے عمار رضی اللہ عنہ سے سؤال سے معلوم ہوتا ہے۔( تکملہ فتح الملہم)لہذا اس میں خود حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو مراد لینا درست نہیں،بلکہ یہ حدیث متعلقہ قرائن کی روشنی میں دلیل ہے کہ یہ حضرات خودتو حقیقی اور کامل صحابہ میں سے تھے ،البتہ اس قسم کے منافقین سے یہ خود متاثر ضرورتھے۔
تیسری بات یہ کہ بالفرض اگر اس میں اصحابی سے بالمعنی الاخص صحابہ مرادہوں( یعنی فی الوقت آپ کے تابعداروپیروکار مسلمان مراد ہوں جو بعد میں مرتد یا منافق بننے والے ضعیف الایمان صحابہ کوبھی شامل ہو) تو بھی اس میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ چند وجوہ سے داخل نہیں،پہلی وجہ تو یہ ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے اسلام اورصحابیت پر تمام اہلسنت کا اتفاق بلکہ امت مسلمہ بلکہ اجماع ہے۔دوسر ی وجہ یہ ہے کہ تفسیر ابن کثیر اور مجمع الزوائد میں بحوالہ طبرانی ان بارہ منافقین کی جو فہرست منقول ہے، اس میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا نام شامل نہیں۔تیسری وجہ یہ ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ علماء امت کی تصریحات کے مطابق قرآن مجید میں مہاجرین وانصار سابقین اولین وآخرین کے لیے نیز فتح مکہ سے قبل اور اس کےبعد جہاد وانفاق کرنے والے صحابہ کے لیے وراد قرآنی قطعی بشارتوں اور فضائل کے عموم میں داخل ہیں ،نیز وہ جنگ حنین اور تبوک میں شامل رہنے والے صحابی رسول بھی ہیں۔(فتاوی ابن تیمیہ رحمہ اللہ تعالی)لہذا انہیں کسی بھی طرح اس جیسی کسی روایت میں مذکورمنافق وغیرہ کا مصداق قرار دینا تکذیب و تحریف دین ہونے کی بناء پرناجائز اور حرام ہے۔
باقی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا دبیلہ مرض سے وفات پانےکے دعوی سے نعوذ باللہ ان کا نفاق اس لیے ثابت نہیں ہوتا کہ :
اولا تو یہ بات محض ایک دعوی ہے ،جو کسی صحیح دلیل یامستند تاریخی ثبوت سے ثابت نہیں، بلکہ بظاہر جھوٹ ہی معلوم ہوتا ہے،چنانچہ اشراف الانساب میں ان کا مرض وفات بخار لکھا ہے۔
ثانیابالفرض اس مرض سے وفات پانا ثابت ہوبھی جائے تو بھی دبیلہ مرض سے وفات پانا منافق ہونےکی علت یا قطعی علامت نہیں،بلکہ اس بارے میں اصل مدار عقیدہ اور عمل پر ہے ،جبکہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں احادیث اور صحابہ وتابعین کے آثار صحیحہ سے،ہادی ومہدی ہونا، اعلی درجے کاصحابی رسول ،فقیہ اسلام ،بلکہ کاتب وحی اورخال المؤمنین ہونا اور دورفارقی اور دور عثمانی میں ان کا بطور شام کے گورنر کے منصب پر قائم رہنا ثابت ومعروف ومشہور ہے۔لہذا محض اس مرض سے وفات پانے کی بنیاد پر اصول شریعت کی روشنی میں نفاق کی نسبت ان کی طرف قطعادرست نہ ہوگی،بلکہ یہ طرز عمل مسلمہ حقائق کی تکذیب کے علاوہ انکار و تحریف دین اور تفسیق خلفاء راشدین وصحابہ وائمہ دین کے مترادف ہوگا۔(مزید تفصیل کے لیے سل السنان في الذب عن معاویۃ بن أبي سفيان - (ج 1 / ص 116) ملاحظہ ہو۔)
حوالہ جات
إكمال المعلم شرح صحيح مسلم - للقاضي عياض - (ج 8 / ص 155):
فى أصحابى اثنا عشر منافقا فيهم ثمانية! لا يدخلون الجنة حتى يلج الجمل فى سم الخياط . ثمانية!منهم تكفيكهم الدبيلة ، واربعة) لم أحفظ ما قال شعبة فيهم .
شرح النووي على مسلم - (ج 17 / ص 125):
أما قوله صلى الله عليه و سلم فى أصحابى فمعناه الذين ينسبون إلى صحبتى كما قال فى الرواية الثانية فى أمتى
تفسير ابن كثير - (ج 4 / ص 182):
وما رواه مسلم أيضا، من حديث قتادة، عن أبي نَضْرة، عن قيس بن عباد، عن عمار بن ياسر قال: أخبرني حذيفة عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: "في أصحابي اثنا عشر منافقا، لا يدخلون الجنة، ولا يجدون ريحها حتى يلج [الجمل] في سم الخياط: ثمانية تكفيكهم الدُّبَيْلة: سراج من نار يظهر بين أكتافه حتى ينجم من صدورهم"
ولهذا كان حذيفة يقال له: "صاحب السر، الذي لا يعلمه غيره" أي: من تعيين جماعة من المنافقين، وهم هؤلاء، قد أطلعه عليهم رسول الله صلى الله عليه وسلم دون غيره، والله أعلم. وقد ترجم الطبراني في مسند حذيفة تسمية أصحاب العقبة، ثم روى عن علي بن عبد العزيز، عن الزبير بن بكار أنه قال: هم مُعَتِّب بن قشير، ووديعة بن ثابت، وجد بن عبد الله بن نَبْتَل بن الحارث من بني عمرو بن عوف، والحارث بن يزيد الطائي، وأوس بن قَيْظِي، والحارث بن سُوَيْد۔
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد لنور الدين الهيثمي - (ج 1 / ص 304)
قال الطبراني : حدثنا علي بن عبد العزيز حدثنا الزبير بن بكار قال : تسمية أصحاب العقبة : معتب بن قشير بن مليل من بني عمرو بن عوف شهد بدرا وهو الذي قال : يعدنا محمد كنوز كسرى وقيصر وأحدنا لا يأمن على خلائه وهو الذي قال : لو كان لنا من الأمر شيء ما قتلنا ههنا قال الزبير : وهو الذي شهد بهذا الكلام
ووديعة بن ثابت بن عمرو بن عوف وهو الذي قال : إنما كنا نخوض ونلعب وهو الذي قال : مالي أرى قرانا هؤلاء أرغبنا بطونا وأجبننا عند اللقاء
وجد بن عبد الله بن نبتل بن الحارث من بني عمرو بن عوف وهو الذي قال عنه جبريل عليه السلام : يا محمد من هذا الأسود كثير شعر عيناه كأنهما قدران من صفر ينظر بعيني شيطان وكبده كبد حمار يخبر المنافقين بخبرك وهو المخبر بخبره . ص . 305
والحارث بن يزيد الطائي حليف لبني عمرو بن عوف وهو الذي سبق إلى الوشل - يعني البئر - التي نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم أن يسبقه أحد فاستقى منه
وأوس بن قبطي وهو من بني حارثة وهو الذي قال : إن بيوتنا عورة وهو جد يحيى بن سعيد بن قيس والجلاس بن سويد بن الصامت وهو من بني عمرو بن عوف وبلغنا أنه تاب بعد ذلك
وسعد بن زرارة من بني مالك بن النجار وهو المدخن - الدخن : الحقد . وفي المطبوع : المدخر : من الخر : وهو الذل والصغار - على رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو أصغرهم سنا وأخبثهم
وسويد، وراعش وهما من بلحبلى وهما ممن جهز ابن أبي في غزوة تبوك لخذلان الناس ( بخطه - أي : بخط المؤلف لعله : وهما ممن جهر بقول من أتى في غزوة تبوك يخذلان الناس . كما في هامش الأصل )
وقيس بن عمرو بن فهد ،وزيد بن اللصيب وكان من يهود قينقاع فأظهر الإسلام وفيه غش اليهود ونفاق من نافق، وسلالة بن الحمام من بني قينقاع فأظهر الإسلام ۔ رواه الطبراني في الكبير من قول الزبير بن بكار كما ترى
أنساب الأشراف - (ج 2 / ص 128):
حدثني هشام بن عمار عن الوليد بن مسلم وغيره قال: جامع معاوية جارية له خراسانية ثم حم من يومه فمات من مرضه ذلك.
سل السنان في الذب عن معاوية بن أبي سفيان - (ج 1 / ص 116):
الحديث السادس : حديث حذيفة وعمار بن ياسر « في أصحابي اثنا عشر منافقاً لا يدخلون الجنة حتى يلج الجمل في سم الخياط » والحديث في مسلم .
انظر كيف جعل المالكي وغيره من أهل الأهواء معاوية من المنافقين الذين حاولوا قتل الرسول صلى الله عليه وسلم بمجرد ظن ووساوس !
والجواب عن هذا يسير :
كيف يكون معاوية أمينا عند رسول الله صلى الله عليه وسلم يكتب له الوحي ولم يتهمه في كتابته ثم يجعله من المنافقين ؟!
وكيف يوليه عمر رضي الله عنه الشام وهو من أخبر الناس بالرجال ولا يتهمه في ولايته وهو من المنافقين ؟! ثم عثمان كذلك .بل كيف يكون معاوية منافق من المنافقين وقد شهد حنين ودخل في قوله تعالى : ثم أنزل الله سكينته على رسوله وعلى المؤمنين وأنزل جنودا لم تروها وعذب الذين كفروا وذلك جزاء الكافرين!
ودخل معاوية في قوله تعالى : لا يستوي منكم من أنفق من قبل الفتح وقاتل أولئك أعظم درجة من الذين أنفقوا من بعد وقاتلوا وكلا وعد الله الحسنى.
قال شيخ الإسلام في « الفتاوى » (4/459) رحمه الله : « وأعظم جيش غزا مع النبي صلى الله عليه وسلم جيش تبوك فإنه كان كثيراً لا يحصى غير أنه لم يكن فيه قتال . وهؤلاء المذكورون دخلوا في قوله تعالى : لا يستوي منكم من أنفق من قبل الفتح وقاتل أولئك أعظم درجة من الذين أنفقوا من بعد وقاتلوا وكلا وعد الله الحسنىفإن هؤلاء الطلقاء مسلمة الفتح : هم ممن أنفق من بعد الفتح وقاتل وقد وعدهم الله الحسنى فإنهم أنفقوا بحنين والطائف وقاتلوا فيهما رضي الله عنهم . وهم أيضاً داخلون فيمن رضي الله عنهم حيث قال تعالى : والسابقون الأولون من المهاجرين والأنصار والذين اتبعوهم بإحسان رضي الله عنهم ورضوا عنها.هـ.نعوذ بالله من الهوى وعمى البصيرة .
نواب الدین
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
۲۹ ربیع الاول۱۴۴۷ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | نواب الدین | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


