03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ولی کی اجازت کے بغیرزناکے خوف سےخفیہ نکاح کاحکم
88590نکاح کا بیانولی اور کفاء ت ) برابری (کا بیان

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

میری پہلے شوہرسے طلاق ہوئی ہے اُس نے ایک ساتھ تین طلاقیں دیں تھیں اور ایک طلاق الگ سے بھی دی تھی، اس واقعہ کو 10 سال کا عرصہ گزر چکا ہے۔

اب حالات کچھ ایسے ہیں کہ گھر والے دوسری شادی کرنے نہیں دے رہےہیں، میں نے زنا سے بچنے کے لیے، فیملی سے چھپا کر ایک اورمردسے نکاح کیا ہے،اس مردنے بھی اور میں نے بھی اللہ کو حاضر ناظر جان کر دو گواہوں کی موجودگی میں نکاح کیاہے۔

یہ نکاح ایک عام شخص نے کرایا نکاح نامہ نہیں بھرا گیا، صرف زبانی طور پر ایجاب و قبول اور حقِ مہر کے ساتھ نکاح کیا گیا۔ نکاح خواں بھی عام شخص تھا، اُس نے مرد اور عورت دونوں سے ایجاب و قبول کروایا، اور دو گواہ بھی موجود تھے،خطبہ نہیں پڑھا تھا۔یہ نکاح میں نے صرف اس لیے کیا تاکہ زنا سے بچ سکوں اور گناہ میں نہ پڑوں۔

اب میرا سوال یہ ہے کہ:

١۔کیا یہ نکاح شرعاً جائز ہے؟

۲۔کیا یہ زنا کے زمرے میں تو نہیں آتا؟

۳۔کیا ہم ایک دوسرے کے لیے حلال ہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر واقعۃً آپ کو پہلے شوہر نے تین طلاقیں دی تھیں تو اس کے بعد آپ اس پر ہمیشہ کے لیے حرام ہوگئی تھیں اور عدت گزرنے کے بعد آپ کا اس کے ساتھ نکاح ختم ہوگیا تھا۔ اس کے بعد آپ کو دوسرا نکاح کرنے کا پورا حق حاصل تھا، اور والدین کے لیے اس میں رکاوٹ ڈالنا یا آپ کو نکاح سے روکنا جائز نہیں تھا، بلکہ ان کی شرعی ذمہ داری تھی کہ اپنی بالغ بیٹی کی عصمت بچانے کے لیے جلد از جلد اس کا نکاح کسی مناسب جگہ کراتے، ورنہ اگر اس تاخیر کی وجہ سے کوئی گناہ صادر ہوتا تو اس کا وبال والدین پر بھی آتا۔

تاہم اگر والدین کسی مصلحت کی بنا پر شادی میں تاخیر کر رہے تھے تو آپ کے لیے یہ درست نہیں تھا کہ ان کو اعتماد میں لیے اور راضی کیے بغیر کسی نامحرم مرد سے تعلقات قائم کرتیں، عشق و معاشقہ میں پڑتیں، اپنے دین و دنیا دونوں کا نقصان کرتیں اور والدین کی عزت کو بھی داغ دار کرتیں۔ لیکن جب والدین نے شادی نہ کرائی اور آپ فطری تقاضے کے دباؤ میں گناہ کے خوف سے اس شخص کے ساتھ خفیہ نکاح کرنے پر مجبور ہوگئیں، تو اگر یہ نکاح واقعتاً دو گواہوں کی موجودگی میں باقاعدہ ایجاب و قبول کے ساتھ ہوا تھا اورلڑکا آپ کا کفؤ (برابری اور جوڑکا)تھا تو شرعاً یہ نکاح منعقد ہوگیا۔ اگرچہ اس طرح کا خفیہ نکاح معاشرتی اعتبار سے پسندیدہ نہیں اور شریعت نے نکاح کو اعلان کے ساتھ کرنے کی ترغیب دی ہے، لیکن چونکہ نکاح کی بنیادی شرائط (ایجاب و قبول اور گواہوں کی موجودگی) پوری ہوگئی تھیں، اس لیے یہ نکاح درست ہے۔ البتہ اگر وہ مرد آپ کا کفؤ (برابری اور جوڑکا) نہ ہوتو مفتی بہ قول کے مطابق یہ نکاح منعقد نہیں ہوا ۔

اب آپ کے سوالوں کے جوابات یہ ہیں:

1. اگر واقعی ایجاب و قبول ہواتھا اور دو گواہ موجود تھے اورلڑکا آپ کا کفؤ (برابری اور جوڑکا)تھا تو شرعاً یہ نکاح صحیح ہوگیا تھا۔

2. اگرمذکورہ بالاشرائط موجودتھے توچونکہ نکاح صحیح ہوگیا تھا،لہٰذا ایسی صورت میں یہ زنا کے زمرے میں نہیں آئے گا۔

3. بشرطِ صحتِ نکاح آپ دونوں ایک دوسرے کے لیے حلال تھے۔

حوالہ جات

{وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلَا تَعْضُلُوهُنَّ أَنْ يَنْكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ إِذَا تَرَاضَوْا بَيْنَهُمْ بِالْمَعْرُوفِ ذَلِكَ يُوعَظُ بِهِ مَنْ كَانَ مِنْكُمْ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ذَلِكُمْ أَزْكَى لَكُمْ وَأَطْهَرُ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ} [البقرة: 232]

"مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح":

"قال رسول الله صلى الله عليه وسلم :من ‌ولد ‌له ‌ولد فليحسن اسمه وأدبه فإذا بلغ فليزوجه فإن بلغ ولم يزوجه فأصاب إثما فإنما إثمه على أبيه.

(فأصاب) أي: الولد (إثما) أي: من الزنا ومقدماته (فإنما إثمه على أبيه) أي: جزاء الإثم عليه لتقصيره."

(ص:٢٠٦٤،ج:٥،كتاب النكاح ،باب الولي في النكاح واستئذان المرأة،ط:دار الفكر،بيروت)

وفيه ايضا:

"عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: فصل ما بين الحلال والحرام الصوت والدف في النكاح.

(الصوت) أي: الذكر والتشهير بين الناس...(والدف) أي: ضربه (في النكاح) فإنه يتم به الإعلان... المراد الترغيب إلى إعلان أمر النكاح بحيث لا يخفى على الأباعد، فالسنة إعلان النكاح بضرب الدف وأصوات الحاضرين بالتهنئة أو النغمة في إنشاد الشعر المباح."(ص:٢٠٧٣،ج:٥،كتاب النكاح ،باب إعلان النكاح والخطبة والشرط،ط:دار الفكر،بيروت)

"الفتاوي الهندية":

"ينعقد بالإيجاب والقبول وضعا للمضي أو وضع أحدهما للمضي والآخر لغيره مستقبلا كان كالأمر أو حالا كالمضارع، كذا في النهر الفائق فإذا قال لها أتزوجك بكذا فقالت قد قبلت يتم النكاح."(ص:٢٧٠ج: ١،کتاب  النکاح،الباب الثانی،ط:دار الفکر،بیروت)

"رد المحتار على الدر المختار":

يستحب للمرأة تفويض أمرها إلى وليها كي لا تنسب إلى الوقاحة بحر وللخروج من خلاف الشافعي في البكر، وهذه في الحقيقة ولاية وكالة (قوله على المكلفة) أي البالغة العاقلة."(ص:٥٤-٥٦،ج:٣،کتاب النکاح،باب الولی،ط:ایج ایم سعید)

و فی الدر المختار،کتاب النکاح (باب الولی ج:۳،ص:۵۶)

 ویفتیٰ فی غیر الکفو بعدم جوازہ أصلا وھو المختار للفتویٰ لفساد الزمان.

وفی الشامیۃ (۵۷/۳):

قوله ( بعدم جوازه أصلا ) هذه رواية الحسن عن أبي حنيفة وهذا إذا كان لها ولي لم يرض به قبل العقد فلا

يفيد الرضا بعده  بحر ۔۔۔  قوله ( وهو المختار للفتوى ) وقال شمس الأئمة وهذا أقرب إلى الاحتياط كذا في تصحيح العلامة قاسم.

وفی الھندیۃ (۲۹۲/۱):

ثم المرأة إذا زوجت نفسها من غير كفء صح النكاح في ظاهر الرواية عن أبي حنيفة رحمه الله تعالى ۔۔۔ وروى الحسن عن أبي حنيفة رحمه الله تعالى أن النكاح لا ينعقدوبه أخذ كثير من مشايخنا رحمهم الله تعالى كذا في المحيط والمختار في زماننا للفتوى رواية الحسن وقال الشيخ الإمام شمس الأئمة السرخسي رواية الحسن أقرب إلى الاحتياط كذا في فتاوى قاضي خان في فصل شرائط النكاح.

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

04/04/1447ھ

 

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب