| 88578 | ہبہ اور صدقہ کے مسائل | کئی لوگوں کو مشترکہ طور پرکوئی چیز ہبہ کرنے کا بیان |
سوال
میرا چھوٹا بیٹا جو کہ اپنی مرضی سے شادی کر کے الگ رہ رہا تھا ۔ پچھلے 12 سالوں سے اس کو میری بیماری یا میرے کسی کام سے کوئی غرض نہیں تھی۔ چونکہ میں 80 سال سے زائد عمر میں ہوں اور دل کا مریض ہوں، اس لئے میں نے اپنے بیٹے کو بے حد اصرار کر کے اپنے گھر بلایا اور اوپروالا پورشن اس کو رہنے کےلیے دیا، لیکن یہ میری کسی بھی امید پر پورا نہیں اترا۔ بجائے میرا خیال کرنے کے مجھےذہنی اذیت دیتا ہے، زبانی بد سلوکی کرتا ہے اور نا فرمان بھی ہے، میں نے اپریل میں پریشان ہو کر اس کو گھر خالی کرنے کا کہا ، لیکن وہ جانے کے لئے مجھ سے رقم کا مطالبہ کر رہا ہے کہ 90,000 دو تو جاؤں گا، اس سے پہلے بھی یہ مجھ سے 1,35000 لے چکا ہے اور اس کے علاوہ میں تقریباً 6 ماہ کے کرایہ کی رقم 50000 دے چکا ہوں، اب میں سوچ رہا ہوں کہ یہ ہر بار رقم کا مطالبہ کرتا ہے تو میں اپنے مکان میں سے اس کو اس کا جو حصہ بنتا ہے وہ اس کو دےدوں، تاکہ بعد میں یہ اپنے بھائی کو پریشان نہ کرے،سوال یہ ہے کہ اگر میں اپنی زندگی میں اپنے حصے کا مکان (جبکہ میری کل جائیدادیہی ہے) اپنی اولادکو اپنی خوشی سے بطور گفٹ دینا چاہوں تو کیاشرعا سب کو برابر دینا ہو گا یا بیٹے کو دو اور بیٹی کو ایک حصہ دینا ہو گا؟نیز اگر میں اس چھوٹے بیٹے کو نہ دوں تو کیا شرعاً اس کی اجازت ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
بطورِ تمہید جاننا چاہیے کہ زندگی میں آدمی کااپنی اولاد کو کوئی جائیداد دینا شرعی اعتبار سے وراثت نہیں، بلکہ یہ ہبہ (ہدیہ،گفٹ) کہلاتا ہے، جس میں آدمی شرعاً باختیار ہوتا ہے کہ وہ جتنا مال چاہے اپنے پاس رکھے اور جتنا چاہے اپنی اولاد کے درمیان تقسیم کرے، البتہ اولاد کو دینے کی صورت میں عدل وانصاف کے تقاضے پورے کرنا ضروری ہے، لہذا عام حالات (جب سب اولاد دینداری، مالداری اور خدمت وغیرہ میں برابر ہو) میں شرعی حکم یہ ہے کہ تمام اولاد کو برابر حصہ دیا جائے یا کم از کم بیٹیوں کو بیٹوں کی بنسبت آدھا حصہ دیا جائے،اوربغیر کسی معتبر شرعی وجہ کے زندگی میں اپنی مکمل جائیداد بعض اولادکونہ دی جائے، کیونکہ اس میں دیگر اولاد کو محروم کرنا لازم آتا ہے، جس کی شریعت اجازت نہیں دیتی۔
البتہ اگر اولاد میں سے کوئی بیٹا یا بیٹی اپنی خدمت یا دینداری میں ممتاز ہو یا وہ معاشی تنگی کا شکار ہو تو آپ اس کو دوسروں کی بنسبت کچھ زائد حصہ دے سکتے ہیں۔نیز اگر اولاد میں سے کوئی شخص والد کا نافرمان اور ان کو تکلیف پہنچاتا ہو یا وہ فسق وفجور میں مبتلا ہو تو ایسی صورت میں شریعت نے والد کو اختیار دیا ہے کہ وہ اپنا مال اس کو نہ دے، بلکہ اپنی دیگر فرمانبردار اولاد کے درمیان تقسیم کر دے، چنانچہ علامہ طاہربن عبدالرشید بخاری رحمہ اللہ نے خلاصة الفتاوی میں اور علامہ ابن شحنہ رحمہ اللہ نے لسان الحکام میں تصریح کی ہے کہ رشد وہدایت اور دینداری کی وجہ سے اپنا سارا مال بعض اولاد کو دینا اور دیگر اولاد کو کچھ نہ دینا جائز ہے، اسی طرح اگر ایک بیٹا فاسق ہو تو اپنا مکمل مال کارِ خیر میں خرچ کرنا بھی جائز ہے اور اگر آدمی فاسق بیٹے کو دینا چاہے تو اس کی ضرورت سے زائد نہ دے،تاکہ گناہ کے کاموں میں اعانت کرنا لازم نہ آئے۔اسی طرح علامہ کاسانی رحمہ اللہ نے بدائع الصنائع میں لکھا ہے کہ اولاد کو عطیہ دینے کی صورت میں متاخرین فقہائے کرام رحمہم اللہ کے نزدیک صالح اولاد کو دینا اور فساق وفجار کو نہ دینا بھی جائز ہے۔
اس کے علاوہ اردو فتاوی میں بھی بعض حضراتِ اکابر رحمہم اللہ نے اس بات کی اجازت دی ہےکہ تندرستی کی حالت میں والد کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنا مال صرف نیک اور فرمانبردار اولاد کو دے، بشرطیکہ دل میں فرمانبردار اولاد کو نفع پہنچانے کی نیت ہو، دوسروں کو نقصان پہنچانے کا ارادہ نہ ہو، چنانچہ حضرت مفتی محمود صاحب رحمہ اللہ ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں:
"اپنی زندگی میں ایسا شخص فرمانبردارلڑکوں کو کچھ مال و جائید او تقسیم کر کے قبضہ کرا دے اور نافرمان کو کچھ نہ دے یا تھوڑا دے تو یہ تصرف نافذ ہوگا، لیکن اس میں بھی نیت اپنے فرمانبردار لڑکوں کو نفع رسانی کی کرے " (فتاوی مفتی محمود:178/9)
حضرت مفتی رشید احمد صاحب لدھیانوی رحمہ اللہ ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں:
"بے دین اولاد کو گزارے كے لائق سے زیادہ نہیں دینا چاہیے، ان کو محروم کرنا اور زائدمال امورِ دینیہ میں صرف کرنا مستحب ہے۔" (احسن الفتاوی:256/7)
اسی طرح حضرت مفتی عبدالرحیم صاحب لاجپوری رحمہ اللہ نے فتاوی رحیمیہ (314/9) میں بھی بعض اولاد کو عطیہ کے ساتھ خاص کرنے کی اجازت دی ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر آپ مکان میں موجود اپنا حصہ صرف اپنی بیٹی اور بڑے بیٹے کو دے دیں اور چھوٹے نافرمان بیٹے کو کچھ نہ دیں تو اس کی شرعاً اجازت ہے، البتہ بہتر یہ ہے کہ اگر یہ بیٹا بھی ضرورت مند ہے تو اس کو بھی ضرورت کے مطابق حصہ دے دیا جائے، جیسا کہ فقہائے کرام نے صراحت کی ہے۔
نوٹ:مذکورہ بالا تفصیل زندگی میں ہبہ کرنے کی صورت میں ہے، جہاں تک میراث کا تعلق ہے تو وہ ہر وارث کا شرعی حق ہے، جس سے کوئی بھی شخص کسی وارث کو محروم نہیں کر سکتا، لہذا زندگی میں اپنی میراث سے عاق کر دینے یااس کومیراث نہ دینے کی وصیت کر جانےکی شرعی کوئی حیثیت نہیں، بلکہ آدمی کی وفات کے بعد ہر وارث اپنے شرعی حصہ کے مطابق بہرصورت حق دار ہو گا۔
حوالہ جات
لسان الحكام (ص: 371) لابن الشّحْنَةالثقفي الحلبي– القاهرة:
نوع الأفضل في هبة الابن والبنت التثليث كالميراث وعند أبي يوسف رحمه الله تعالى التنصيف وهو المختار ولو وهب جميع ماله من ابنه جاز وهو آثم نص عليه محمد رحمه الله تعالى ولو خص بعض أولاده لزيادة رشده فلا بأس به وإن كانوا سواء في الرشد لا يفعله وإن أراد أن يصرف ماله إلى الخير وابنه فاسق فالصرف إلى الخير أفضل من تركه له؛ لأنه إعانة على المعصية وكذا لو كان ابنه فاسقا لا يعطيه أكثر من قوته.
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (6/ 127) دار الكتب العلمية، بیروت:
(وأما) كيفية العدل بينهم فقد قال أبو يوسف العدل في ذلك أن يسوي بينهم في العطية ولا يفضل الذكر على الأنثى وقال محمد العدل بينهم أن يعطيهم على سبيل الترتيب في المواريث للذكر مثل حظ الأنثيين كذا ذكر القاضي الاختلاف بينهما في شرح مختصر الطحاوي وذكر محمد في الموطإ ينبغي للرجل أن يسوي بين ولده في النحل ولا يفضل بعضهم على بعض.وظاهر هذا يقتضي أن يكون قوله مع قول أبي يوسف وهو الصحيح لما روي أن بشيرا أبا النعمان أتى بالنعمان إلى رسول الله - صلى الله عليه وسلم - فقال إني نحلت ابني هذا غلاما كان لي فقال له رسول الله - صلى الله عليه وسلم - أكل ولدك نحلته مثل هذا فقال لا فقال النبي- عليه الصلاة والسلام - فأرجعه وهذا إشارة إلى العدل بين الأولاد في النحلة وهو التسوية بينهم ولأن في التسوية تأليف القلوب والتفضيل يورث الوحشة بينهم فكانت التسوية أولى ولو نحل بعضا وحرم بعضا جاز من طريق الحكم؛ لأنه تصرف
في خالص ملكه لا حق لأحد فيه إلا أنه لا يكون عدلا سواء كان المحروم فقيها تقيا أو جاهلا فاسقا على قول المتقدمين من مشايخنا وأما على قول المتأخرين منهم لا بأس أن يعطي المتأدبين والمتفقهين دون الفسقة الفجرة.
خلاصة الفتاوى للعلامة طاهر بن عبدالرشيد(400/4)مكتبة رشيدية كوئٹة:
فى الفتاوى رجل له ابن وبنت أراد أن يهب لهما شيئا فالأفضل أن يجعل للذكر مثل حظ الأنثيين عند محمد رح وعند أبي يوسف رح بينهما سواء هو المختار لورود الآثار ولو وهب جميع ماله لابنه جاز فى القضاء وهو آثم نص عن محمد هكذا في العيون ولو أعطى بعض ولده شيا دون البعض لزيادة رشدك لا باس به وان كانا سواء لا ينبغى أن يفضل ولو كان ولده فاسقا فأراد أن يصرف ماله إلى وجوه الخير وبحرمه عن الميراث هذا خير من تركه؛ لأن فيه إعانة على المعصية كان ولده فاسقا لا يعطى له أكثر من قوته.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (5/ 696) الناشر: دار الفكر-بيروت:
وفي الخانية لا بأس بتفضيل بعض الأولاد في المحبة لأنها عمل القلب، وكذا في العطايا إن لم يقصد به الإضرار، وإن قصده فسوى بينهم يعطي البنت كالابن عند الثاني وعليه الفتوى ولو وهب في صحته كل المال للولد جاز وأثم.
فتاوى قاضيخان (3/ 154) فخر الدين حسن بن منصور الأوزجندي الفرغاني الحنفي المتوفى سنة 592:
ولو وهب رجل شيئاً لأولاده في الصحة وأراد تفضيل البعض في ذلك على البعض لا رواية لهذا في الأصل عن أصحابنا رحمهم الله تعالى روي عن أبي حنيفة رحمه الله تعالى أنه لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل له في الدين فإن كانا سواء يكره وروى المعلى رحمه الله تعالى عن أبي يوسف رحمه الله تعالى أنه لا بأس به إذا لم يقصد به الإضرار وإن قصد به الإضرار سوّى بينهم يعطي للابنة مثل ما يعطي للابن، وقال محمد رحمه الله تعالى يعطي للذكر ضعف ما يعطي للأنثى والفتوى على قول أبي يوسف رحمه الله تعالى، رجل وهب في صحته كل المال للولد جاز في القضاء ويكون آثماً فيما صنع، رجل قال جعلت هذا لولدي فلان كانت هبة ولو قال هذا الشيء لولدي الصغير فلان جاز ويتم من غير قبول كما لو باع ماله من ولده الصغير جاز ولا يحتاج إلى القبول، رجل وهب لابنه الصغير داراً هي مشغولة بمتاع الأب قال أبو نصر رحمه الله تعالى جاز ولا يحتاج إلى التفريغ لأنها مشغولة بمتاع القابض وهو الأب، ولو تصدق على ابنه الصغير بدار والأب ساكن فيها لا يجوز في قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى ويجوز في قول أبي يوسف رحمه الله تعالى وعليه الفتوى لما قلنا في الهبة.
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی
28/ ربیع الاول 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


