| 88599 | نکاح کا بیان | ولی اور کفاء ت ) برابری (کا بیان |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
بندۂ ناچیز، ذوالکفل اکرم ولد اکرم الحق، عمر 25 سال، لاہور شہر سے تعلق رکھتا ہوں۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکہ آیا ہوں اور فی الحال امریکہ کے شہر ایمز (Ames) میں مقیم ہوں۔ میں اہلِ سنت والجماعت (حنفی) کے عقیدہ و مسلک پر قائم ہوں۔
لڑکی کا پس منظر:
والدہ: اہلِ سنت سید ہیں۔ والد: اہلِ تشیع ہیں اور اب تک درباروں پر حاضری، بزرگوں سے مانگنا، بند باندھنا وغیرہ جیسے اعمال کرتے ہیں ۔ لڑکی خود کو اہلِ سنت کہتی ہے اور اہلِ سنت کے عقائد پر قائم ہے۔
لڑکی کے عقائد و افکار:
قرآن مجید کو مکمل اور غیر محرف اللہ کا کلام مانتی ہے۔حضور نبی اکرم ﷺ کو خاتم النبیین مانتی ہے اور عقیدہ رکھتی ہے کہ آپ ﷺ کے بعد کسی پر وحی نازل نہیں ہوتی۔ عقیدہ رکھتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اولیاء کرام معصوم نہیں ہیں۔
میری عرض (دلائل کے طور پر):
قرآن میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "کوئی جان کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گی۔" حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والد مشرک تھے لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام توحید پر قائم اور اللہ کے برگزیدہ نبی تھے۔ اسلامی تاریخ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی زندگیوں میں کئی مثالیں ملتی ہیں کہ والدین مشرک یا غیر مسلم تھے لیکن اولاد نے اسلام قبول کرکے اپنا دین بچایا۔ نکاح کے لیے لڑکی کا اپنا عقیدہ، ایمان اور عمل دیکھا جاتا ہے۔ خاندان یا والدین کے رسم و رواج کو نکاح کے لیے شرعی شرط نہیں بنایا گیا۔
میرے والد صاحب کا اعتراض/تشویش:
بیٹی اپنے باپ کے دین پر ہوتی ہے۔ جس خاندان میں شرک و بدعات کا رجحان ہو اس کا اثر آئندہ نسل پر ضرور ہوتا ہے۔ تمہیں دین کی سمجھ نہیں، تم ان مسائل کو سطحی لے رہے ہو۔
سوالات:
1. مذکورہ بالا تمام تفصیلات کی روشنی میں کیا شرعاً اس لڑکی سے نکاح کرنا جائز ہے؟ کیا یہ نکاح بلا کراہت ہوگا یا اس میں کراہت (ناپسندیدگی) کا پہلو باقی رہے گا؟
2. اگر بعد میں لڑکی پر والدین یا خاندان کا اثر ہوا اور وہ بدعات کی طرف مائل ہوگئی تو اس کی اصلاح کا کیا طریقہ ہوگا؟ اور ایسی صورت میں خلع یا طلاق کا شرعی محل کب آئے گا؟
3. اگر نذر/سبیل محض صدقہ کی نیت سے ہو (مثلاً کربلا کی پیاس کو یاد کرکے پانی پلانا) اور اسے عبادت یا لازم نہ سمجھا جائے، تو اس کا شرعی حکم کیا ہوگا؟
درخواست:
برائے کرم اس پورے معاملے میں افضل، احوط اور عملی رہنمائی بھی ارشاد فرمائیں۔میں نے دیانت داری سے جتنا جانتا تھا لکھ دیا ہے۔ مزید وضاحت درکار ہو تو عرض کرنے کے لیے تیار ہوں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
١۔ اگرلڑکی کے عقائد واقعةً صحیح ہوجیسے کہ آپ نے لکھا توشرعاتویہ نکاح جائز اورصحیح تو ہوجائے گا۔تاہم چونکہ ماحول کے اثرات کا خطرہ موجود ہےجیسے کہ آپ کے والد محسوس فرمارہےہیں اوروالدین سے زیادہ انسان کے لئے خیرخواہ کوئی نہیں ہوسکتا۔اس لیے بہتراور احتیاط کا پہلو یہ ہوگا کہ اگر کوئی اور ایسا رشتہ دستیاب ہو جہاں ماحول مکمل طور پر صاف اور اہلِ سنت کا ہواوروالد مطمئن ہوتو وہ زیادہ پرسکون اور محفوظ رہے گا۔
۲۔بہترتویہ ہوگا کہ والد کے مشورہ پر عمل کیاجائےتاہم اگررشتہ کی ترتیب یہی بن جاتی ہے اورکہیں اورلڑکا مطمئن نہ ہوتو بہترہوگاکہ شادی سے پہلے لڑکی اور اس کے گھر والوں کے ساتھ واضح طور پرشرعی شرائط طے کر لی جائیں، تاکہ بعد میں دینی حوالے سے آزمائش نہ آئےاس کے باوجود بھی اگر عقائد میں بگاڑ آنے کاخطرہ والد محسوس کرے توبوقت نکاح طلاق کااختیارلڑکے سے لیکراپنے پاس رکھے تاکہ ناقابل اصلاح فساد کی صورت میں وہ خود طلاق دے سکے ۔
والد کومشروط اختیار دینے کےلیےدرج ذیل عبارت نکاح نامہ میں لکھی جاسکتی ہے:
"میں [دولہے کا پورا نام] اپنے والد [والد کا پورا نام] کوہمیشہ کےلیے یہ اختیار دیتا ہوں کہ وہ
میری جانب سے صرف اس صورت میں میری بیوی کو طلاق دے کہ جب شرط: مثلاً بیوی کی طرف سے ناقابلِ اصلاح فساد ظاہر ہو جائے]پائی جائے۔
بعد میں فساد ظاہرہونے کی صورت میں پہلےشوہر پر لازم ہوگا کہ اصلاح و تربیت کے ذریعے نرم اور حکیمانہ انداز میں بیوی کو سمجھائے۔اوربدعات وغیرہ سے اسےروکےاور اصلاح کے لیے وقت دے۔تاہم اگرلڑکی پھربھی توبہ نہ کرےاوربچوں پرغلط ماحول کے اثرات کا خطرہ موجود ہوتو توپھروالدیاآپ خود اپنے طلاق کا اختیاراستعمال کرسکتے ہیں ۔
۳۔ صدقہ و خیرات اگر ایصالِ ثواب کے طور صرف اللہ کے نام پردن کی تعیین اوراعتقادی لزوم کے بغیر کیاجائےتواسکے جوازمیں کوئی شک نہیں،مگر مروجہ نذرونیاز اورسبیل لگاناچونکہ اہل بدعت کا شعارہے،لہذا ان سے مشابہت کی وجہ سےاس دن مذکورہ چیزوں سے احتراز لازم ہے ۔
حوالہ جات
وفی سنن أبى داود-ن - (2 / 174)
عن أبى هريرة عن النبى -صلى الله عليه وسلم- قال « تنكح النساء لأربع لمالها ولحسبها ولجمالها ولدينها فاظفر بذات الدين تربت يداك ».
قال الملاعلی القاری رحمہ اللہ :" ( «فاظفر بذات الدين» ) أي: فز بنكاحها. قال القاضي - رحمه ﷲ-: " من عادة الناس أن يرغبوا في النساء ويختاروها لإحدى أربع خصال عدها، واللائق بذوي المروءات وأرباب الديانات أن يكون الدين من مطمح نظرهم فيما يأتون ويذرون، لا سيما فيما يدوم أمره ويعظم خطره. ( «تربت يداك» ) يقال: ترب الرجل أي: افتقر كأنه قال: تلتصق بالتراب، ولا يراد به هاهنا الدعاء، بل الحث على الجد والتشمير في طلب المأمور به. قيل: معناه صرت محروما من الخير إن لم تفعل ما أمرتك به، وتعديت ذات الدين إلى ذات الجمال وغيرها، وأراد بالدين الإسلام والتقوى، وهذا يدل على مراعاة الكفاءة، وأن الدين أولى ما اعتبر فيها".
"رد المحتار" (3/ 46):
"وبهذا ظهر أن الرافضي إن كان ممن يعتقد الألوهية في علي، أو أن جبريل غلط في الوحي، أو كان ينكر صحبة الصديق، أو يقذف السيدة الصديقة فهو كافر لمخالفته القواطع المعلومة من الدين بالضرورة".
"بدائع الصنائع" (5/ 456):
" ومنها إسلام الرجل إذا كانت المرأة مسلمة فلا يجوز إنكاح المؤمنة الكافر ؛ لقوله تعالى: { ولا تنكحوا
المشركين حتى يؤمنوا } ولأن في إنكاح المؤمنة الكافر خوف وقوع المؤمنة في الكفر ؛ لأن الزوج يدعوها إلى دينه ، والنساء في العادات يتبعن الرجال فيما يؤثرون من الأفعال ويقلدونهم في الدين إليه وقعت الإشارة في آخر الآية بقوله عز وجل : { أولئك يدعون إلى النار } لأنهم يدعون المؤمنات إلى الكفر ، والدعاء إلى الكفر دعاء إلى النار ؛ لأن الكفر يوجب النار ، فكان نكاح الكافر المسلمة سببا داعيا إلى الحرام فكان حراما ، والنص وإن ورد في المشركين لكن العلة ، وهي الدعاء إلى النار يعم الكفرة أجمع فيتعمم الحكم بعموم العلة فلا يجوز إنكاح المسلمة الكتابي كما لا يجوز إنكاحها الوثني والمجوسي ؛ لأن الشرع قطع ولاية الكافرين عن المؤمنين بقوله تعالى : { ولن يجعلﷲ للكافرين على المؤمنين سبيلا } فلو جاز إنكاح الكافر المؤمنة لثبت له عليها سبيل ، وهذا لا يجوز".
قال ابن الجوزی فی کتاب النساء ویستحب لمن أراد أن یزوج ابنتہ أن ینظرلھا شابا مستحسن الصورۃ ولا یزوجھا دمیما وھوالقبیح(الاقناع فی فقہ الامام احمد۳/۱۵۷)
"صحيح البخاري" 2 / 970:
2572 عن عقبة بن عامر رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم ( أحق الشروط أن توفوا به ما استحللتم به الفروج )
شرح النووي على مسلم (9/ 201)
قوله صلى الله عليه وسلم (إن أحق الشروط أن يوفى به ما استحللتم به الفروج) قال الشافعي وأكثر العلماء إن هذا محمول على شروط لا تنافي مقتضى النكاح بل تكون من مقتضياته ومقاصده كاشتراط العشرة بالمعروف والإنفاق عليها وكسوتها وسكناها بالمعروف وأنه لا يقصر في شيء من حقوقها ويقسم لها كغيرها وأنها لا تخرج من بيته إلا بإذنه ولا تنشز عليه ولا تصوم تطوعا بغير إذنه ولا تأذن في بيته إلا بإذنه ولا تتصرف في متاعه إلا برضاه ونحو ذلك وأما شرط يخالف مقتضاه كشرط أن لا يقسم لها ولا يتسرى عليها ولا ينفق عليها ولا يسافر بها ونحو ذلك فلا يجب الوفاء به بل يلغو الشرط ويصح النكاح بمهر المثل لقوله صلى الله عليه وسلم كل شرط ليس في كتاب الله فهو باطل وقال أحمد وجماعة يجب الوفاء بالشرط مطلقا لحديث إن أحق الشروط والله أعلم
المحیط البرہانی:
"والأصل في هذا: أن الزوج يملك إيقاع الطلاق بنفسه فيملك التفويض إلى غيره فيتوقف عمله على العلم؛ لأن تفويض طلاقها إليها يتضمن معنى التمليك، لأنها فيما فوض إليها من طلاقها عاملة لنفسها دون الزوج، والإنسان فيما يعمل لنفسه يكون مالكا."(كتاب الطلاق ج : 3 ص : 240 ط : دارالكتب العلمية)
فی سنن أبی داؤد: عبداللہ بن عمرو أن رجلا سأل رسول اللہﷺ: أی الإسلام خیر قال تُطْعِم الطّعام وتقرأ السلام علٰی من عرفت ومن لم تعرف. (ج/۲ ص: ۳۵۹)۔
وفی الشامیۃ: وفی البزازیۃ: ویکرہ اتخاذ الطعام فی الیوم الأول والثالث وبعد الاُسبوع ونقل الطعام إلی القبر فی المواسم، واتخاذ الدعوۃ لقرا؍ۃ القرآن وجمع الصلحاء والقراء للخمّ أو لقراءۃ سورۃ الانعام أو الاخلاص. والحاصل أن اتخاذ الطعام عند قراءۃ القرآن لأجل الأکل یکرہ وفیہا من کتاب الاستحسان: وإن اتخذ طعامًا للفقراء کان حسنًا اھ وأطال ذالک فی المعراج وقال وھذہ الأفعال کلہا للسمعۃ والریاء فیحترز عنہا لأنہم لا یریدون بہا وجہ اللہ. اھ (ج/ ۲ ص:۲۴۰) واللہ اعلم
عن ابن عمر، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من تشبه بقوم فهو منهم. (سنن ابی داؤد: (44/4، ط: المكتبة العصرية)
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
05/4/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب |


