| 88691 | میراث کے مسائل | مناسخہ کے احکام |
سوال
ایک اہم مسئلے پر آپ سے مکمل رہنمائی کا درخواست گزار ہوں۔ میرے چچا جان سید علی حیدر شاہ صاحب آج سے تقریبا 23 سال پہلے مورخہ 2002-04-11 کو وفات پاگئے تھے، وفات کے وقت ان کا ایک ذاتی مکان تھا جس کے مالکانہ حقوق ان کے پاس تھے ۔ میرے چچا جان کی زندگی میں مذکورہ مکان کی بالائی منزل میں ان کا ایک بیٹا اور نشیبی منزل میں ان کا دوسرا بیٹا اپنے اہل خانہ کے ساتھ رہائش پذیر تھے، اور مرحوم چچا جان بھی اسی مکان میں اپنے ایک بیٹے کے ساتھ رہائش پذیر تھے۔ چچا جان کی وفات کے کچھ عرصہ بعد مذکورہ مکان میں چچا جان کے ایک مقیم بیٹے کی بھی وفات ہو گئی ،لیکن مرحوم کی بیوہ اور بچے اب بھی مکان کی نشیبی منزل میں مستقل رہائش پذیر ہیں۔
محترم جناب! مرحوم چچا جان کے مکان میں رہائش پذیر بیان کردہ بیٹوں کے علاوہ ان کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں اور بھی ہیں، جو بالغ ہیں اور اپنے والد مرحوم کی جائیداد کے قانونی وارث ہیں، لیکن وہ سب اپنے اپنے گھروں میں رہتے ہیں اور اپنے والد مرحوم کی جائیداد کا ابھی تک ان کو کسی قسم کا کوئی فائدہ حاصل نہیں ہے۔ بہر حال کچھ عرصہ قبل میرے چچا جان مرحوم کی تمام اولاد کو ایک قریبی عزیز نے یہ مشورہ دیا کہ آپ کے والد کی وفات کو ایک طویل عرصہ گزر گیا ہے، لیکن آپ لوگوں نے آج تک مرحوم کی وراثت کی شرعی تقسیم نہیں کی ، جو کہ بہت غلط بات ہے اور گناہ کے زمرے میں آتا ہے، لہٰذا فوری طور پر مکان کی وراثتی تقسیم کریں۔جب اس جانب اقدامات اٹھائے گئے تو مکان کی بالائی منزل میں مقیم بیٹے نے باقی ورثاء سے یہ مطالبہ کر دیا کہ میں نے اپنی رہائش کے لیے اپنی رقم سے بالائی منزل تعمیر کی تھی، لہٰذا مجھے میرے وراثتی حصے کے علاوہ تعمیری اخراجات بھی دیے جائیں، جبکہ دیگر ورثاء جو کہ مذکورہ مکان میں رہا ئش نہیں رکھتے،ان کا موقف یہ ہے کہ والد صاحب کی 2002-04-11 میں وفات کے بعد سے یہ مکان ہم سب کی وراثت میں آگیا تھا،لہٰذا مکان میں رہائش پذیر دونوں ورثاء کو اپنے حصے کا کرایہ منہا کر کے مکان کا باقی کرایہ دیگر چار ورثاء کو دینا چاہیے جو اس مکان میں رہائش نہیں رکھتے، یا مکان کے کرائے کو تعمیری خرچ میں شامل (ایڈجسٹ) کر کے حتمی حساب بنالیں، لیکن مکان میں رہائش پذیر دونوں ورثاء دیگر ورثاء کے اس موقف کو کسی طرح بھی دینی وشرعی لحاظ سے تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہیں،وہ اسے غلط مطالبہ قرار دے رہے ہیں اور تعمیراتی خرچ مانگ رہے ہیں۔
اس ضمن میں ایک غور طلب بات یہ ہے کہ مذکورہ مکان میں رہائش پذیر وارث کو اس کے مطالبے پر اگر تعمیراتی خرچ ادا کر دیا جائے اور ان سے کرایہ وصول کیا جائے تو مکان کےکرا یہ کی رقم تعمیراتی خرچ سے دوگنی بنتی ہے،جس سے تعمیراتی خرج کا مطالبہ کرنے والے کو مالی نقصان ہو گا۔ اس بناء پر دیگر ورثاء کا انتہائی ہمدردانہ اور مخلصانہ مشورہ یہ ہے کہ آپ لین دین کے اس تنازعہ میں نہ پڑیں ،اور پچھلی باتیں چھوڑ کر سادگی کے ساتھ موجود ہ وراثت کی تقسیم کر لیں جوکہ سب کے لیے بہتر ہوگی۔
تنقیح :سائل نے وضاحت کی ہے کہ میت کی وفات کے وقت ان کی اہلیہ اور والدین زندہ نہیں تھے ۔مکان کی نشیبی منزل کی تعمیر میت نے خود اپنے خرچ سے کروائی تھی،جبکہ بالائی منزل کی تعمیر اس میں رہائش پذیر بیٹے نے والد صاحب کی اجازت سے اپنے خرچ پر کی ،اور میت کے جو بیٹے وفات پا گئے ہیں ان کے ورثاء میں ایک بیوہ،دوبیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مسئولہ میں چونکہ مرحوم کے ایک بیٹے نے مکان کی بالائی منزل ان کی اجازت سے اپنے خرچ پر تعمیر کی تھی،لہٰذا یہ بالائی منزل مرحوم کے ترکہ میں شمار نہیں ہوگی۔اسی طرح مرحوم کی وفات سے اب تک اس مکان کی بالائی اورنشیبی منزل میں رہائش پذیر دونوں بیٹوں سے کوئی کرایہ بھی نہیں لیا جا سکتا کہ وہ مشترکہ مکان خود ہی استعمال کر رہے تھے،البتہ اگر وہ یہ مکان کسی اور کو دے کر کرایہ وصول کرتے تو ان سےاتنی رقم وصول کر کے ترکہ کی تقسیم میں شامل کی جاتی ۔ (از تبویب :74106 )
نیز واضح رہے کہ مرحوم کے کل ترکہ (بالائی منزل کے بغیرمکان،نقدی اور جو بھی چھوٹا بڑا سازوسامان چھوڑاہو) سے پہلے مرحوم کی تجہیز و تکفین کےمعتدل اخراجات (اگركسی وارث نے یہ بطورتبرع اپنے ذمے نہ لیے ہوں( نکالےجائیں ، پھر اگر مرحوم کے ذمہ کسی کاقرض ہو (بیوی کا مہرادا نہ کیا ہوتو وہ بھی دَین یعنی قرض میں شامل ہے) تو وہ ادا کیا جائے ، پھر اگرمرحوم نے کسی غیروارث کے لئےکوئی جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی ترکہ کی حد تک اس کے مطابق عمل کیا جائے،اس کےبعدجوترکہ بچ جائے اس کوپہلےمرحوم کےانتقال کےوقت موجودورثہ (چار بیٹوں اوردو بیٹیوں) میں تقسیم کیاجائے گا۔
تقسیم کاطریقہ یہ ہوگاکہ مرحوم کےکل ترکہ یعنی رقم،سازوسامان اور (بالائی منزل کو منہا کر کے ) مکان کی قیمت کو ملا کرکل رقم کےدس حصے بنائے جائیں،ان میں سے ہر بیٹی کو ایک حصہ اور ہر بیٹے کو دوگنا حصہ ملے گا،جبکہ فیصدی اعتبار سے ہر بیٹی کا 10%اور ہر بیٹے کا20% حصہ ہوگا۔ذیل میں تقسیم ِ میراث کا نقشہ ملاحظہ ہو:
|
نمبرشمار |
وارث |
عددی حصہ |
فیصدی حصہ |
|
1 |
بیٹا |
2 |
20% |
|
2 |
بیٹا |
2 |
20% |
|
3 |
بیٹا |
2 |
20% |
|
4 |
بیٹا |
2 |
20% |
|
5 |
بیٹی |
1 |
10% |
|
6 |
بیٹی |
1 |
10% |
اس کے بعد فوت شدہ بیٹے کا حصہ ان کے ورثاء(ایک بیوہ،دوبیٹوں اور دو بیٹیوں) میں تقسیم کیا جائے گا۔اس کی تقسیم کا طریقہ یہ ہے کہ فوت شدہ بیٹے کے حصۂ میراث کےاڑتالیس حصے کیے جائیں،اور ان حصوں میں سے چھ حصے بیوہ کو،چودہ حصے ہر بیٹے کو اور سات حصے ہر بیٹی کو ملیں گے، جبکہ فیصدی اعتبار سے بیوہ کا حصہ 2.5%،ہر بیٹے کا 5.8333%اور ہر بیٹی کا 2.9166% حصہ ہوگا۔ذیل میں تقسیم ِ میراث کا نقشہ ملاحظہ ہو:
|
نمبرشمار |
وارث |
عددی حصہ |
فیصدی حصہ |
|
1 |
بیوہ |
6 |
2.5% |
|
2 |
بیٹا |
14 |
5.8333% |
|
3 |
بیٹا |
14 |
5.8333% |
|
4 |
بیٹی |
7 |
2.9166% |
|
5 |
بیٹی |
7 |
2.9166% |
ترکہ کی کل رقم کو مذکورہ حصوں میں تقسیم کرنے کے بعد جو دو ورثاء مکان میں رہائش پذیر ہیں ،ان میں سے جو جتنے دیگر ورثاء کوان کے حصے کی رقم دے گا وہ مکان میں ان ورثاء کے حصے کا مالک بن جائے گا،البتہ اگربالغ ورثاء میں سے کوئی اپنا مکمل یا بعض حصہ کسی وارث کو ہبہ(گفٹ) کرنا چاہے، تو وہ اپنے حصے کی رقم معلوم ہوجانے یا اس پر باقاعدہ قبضہ کرلینے کے بعد(نہ کہ حصہ معلوم ہونےسے پہلے)اپنی رضامندی سے ایک وارث یا زیادہ کو ان میں تقسیم کرکے ہبہ بھی کرسکتا ہے۔اگر تقسیم مشکل ہو تو معمولی رقم پر اپنا مشاع حصہ جس کو دینا چاہےاس کو بیچ دے۔
حوالہ جات
مجلة الأحكام العدلية (ص: 206،207):
(المادة 1073) تقسيم حاصلات الأموال المشتركة في شركة الملك بين أصحابهم بنسبة حصصهم ...أما في سكنى الدار المشتركة وفي الأحوال التي تعد من توابع السكنى كالدخول والخروج، فيعتبر كل واحد من أصحاب الدار المشتركة صاحب ملك مخصوص على وجه الكمال. مثلا لو أعار أحد الشريكين البرذون المشترك ،أو أجره بدون إذن الآخر، وتلف البرذون في يد المستعير أو المستأجر فللآخر أن يضمنه حصته... أما إذا سكن أحد صاحبي الدار المشتركة فيها بلا إذن الآخر مدة فيكون قد سكن في ملكه،فلذلك لا يلزمه إعطاء أجرة لأجل حصة شريكه ،واذا احترقت الدار قضاء فلا يلزمه ضمانها.
(المادة 1077) لو أجر أحد الشريكين المال المشترك لآخر وقبض الأجرة يعطي الآخر حصته منها ويردها إليه.(المادة 1078) يسوغ للحاضر أن ينتفع بقدر حصته من الملك المشترك في حالة غيبة الشريك الآخر إذا وجد رضاؤه دلالة كما سيبين في المواد الآتية.(المادة 9 7 1) يعد الغائب راضيا عن انتفاع الشريك الحاضر بالملك المشترك على وجه غير مضر بالغائب.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 688):
شرائط صحتها (في الموهوب أن يكون مقبوضا غير مشاع مميزا غير مشغول) كما سيتضح ... [فائدة] من أراد أن يهب نصف دار مشاعا يبيع منه نصف الدار بثمن معلوم ثم يبريه عن الثمن بزازية.
قره عين الأخيار لتكملة رد المحتار علي الدر المختار (8/ 208):
ولو قال تركت حقي من الميراث أو برئت منها ومن حصتي لا يصح وهو على حقه؛ لان الارث جبري لا يصح تركه اهـ.
محمدعبدالمجیدبن مریدحسین
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
18/ربیع الثانی /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمدعبدالمجید بن مرید حسین | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


