| 88690 | وقف کے مسائل | وقف کے متفرّق مسائل |
سوال
کیا فرماتے ہیں علماء کرام اور مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے بڑوں نے پشاور میں مقیم اپنی کمیونٹی کی غربت کو پیش نظر رکھتے ہوئے"البر کمیٹی" کے نام سےایک کمیٹی تشکیل دی ہے۔ اس کمیٹی کے مخصوص اراکین ہیں اور ہر رکن سالانہ 3000 روپے باقاعدگی سے بطورِ چندہ جمع کرواتا ہے ۔ کمیٹی کا بنیادی مقصداسی چندہ کی رقم سے مندرجہ ذیل خدمات انجام دینا ہے :
1-اگر ہمار ے گاؤں سے کوئی مریض ( جو کمیٹی کے اراکین میں سےکسی کا قریبی رشتہ دار ہو) ہمارے شہرمیں جہاں ہم مقیم ہیں، آکر فوت ہوجائےتو گاؤں تک میت کی منتقلی کے اخراجات کمیٹی برداشت کرتی ہے۔
2- اگر ہماری کمیٹی کے اراکین میں سے کوئی مسافر ساتھی فوت ہوجائےتو اس کی تجہیزوتکفین اوراسے گاؤں تک پہنچانے کا بندوبست بھی کمیٹی کے ذمہ ہوتا ہے۔
3- اگر کسی رکن ِکمیٹی کا قریبی رشتہ دار (جن کی فہرست پہلے سے طے شدہ ہے ) گاؤں میں فوت ہو جائے تو کمیٹی اس رکن کو گاؤں جانے کے سفری اخراجات مہیا کرتی ہے۔
4-بعض مواقع پر کمیٹی میت کے اہل خانہ کو ایک یا دو وقت کا کھانا بھی فراہم کرتی ہے، جس پر کبھی کم رقم خرچ ہوتی ہے اور کبھی زیادہ۔
5-اراکین یہ مذکورہ بالا تمام سہولیات کمیٹی سے اپنا لازمی حق سمجھ کر وصول کرتے ہیں اور کمپنی پر یہ تمام سہولیات مہیاکر نا لازم سمجھا جاتا ہے۔
6- میت گاؤں تک پہنچانے کے لیے کمیٹی بعض اوقات ایک گاڑی اور بعض اوقات دو گاڑیوں کا بندوست کرتی ہے، یعنی میت پہنچانے کے لیے سہولیات مہیا کرنا متعین نہیں ،کبھی یہ سہولیات کم ہوتی ہیں اور کبھی زیادہ ۔
7- بعض اراکین ایسے ہیں جو کئی سالوں سے چندہ دے رہے ہیں، لیکن ابھی تک ان کے ہاں کوئی فوتگی نہ ہونے کی وجہ سے وہ کمیٹی سے کوئی سہولت نہیں لے سکے،جبکہ بعض ایسے ہیں جن کے ہاں کئی فوتگیاں ہونے کی وجہ سے وہ کئی بار کمیٹی سے سہولت لے چکے ہیں۔
ہم اس نظام کو منظم طریقے سے لے کر چل رہے ہیں جس پر تمام ارکان رضا مند ہیں۔کمیٹی کا دائرۂِ خدمات صرف اپنے ممبر ان تک محدود ہے جو باقاعدہ چندہ جمع کرتے ہیں،البتہ بعض اوقات گاؤں کا کوئی فرد جو کمیٹی کے ارکان میں سے کسی کا قریبی رشتہ دار نہیں ہوتا، اور وہ پشاور میں فوت ہو جاتا ہے تو کمیٹی اس کے ساتھ کچھ نہ کچھ تعاون کرتی ہے۔اسی طرح یہاں طلبہ (جو چندہ دینے سے مستثنیٰ ہیں ) کے ساتھ حادثہ کی صورت میں بھی مکمل تعاون کیا جاتا ہے۔اب ہم شریعت کی روشنی میں یہ معلوم کرنا چاہتے ہیں :
1- کیا "البر کمیٹی "کےاس نظام اور خدمات کی یہ شکل شرعی اصولوں کے مطابق ہے؟
2- کیا ممبران سے مقررہ رقم مثلا 3000 سالانہ بطورِ شرط لینا اور صرف چنده دینے والے اراکین کو یہ خدمات فراہم کرنا جائز ہے ؟
3-کیا یہ نظام وقف على النفس (فی النقود) یا قمار کی ممانعت میں تو نہیں آتا ؟
4-اگر کوئی شرعی قباحت ہو تو اسی کاشرعی متبادل کیا ہو سکتا ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مذکورہ "البرکمیٹی" کے بنیادی مقصدکے طورپر ذکر کردہ خدمات کےپیشِ نظر آپ کے سوالات کےجوابات درج ذیل ہیں:
1-آپ کی" البر کمیٹی" کےاس نظام اور خدمات کی یہ شکل شرعی اصولوں کے عین مطابق نہیں ہے۔
2- ممبران سے مقررہ رقم مثلا 3000 سالانہ بطورِ شرط لینا اور صرف چنده دینے والے اراکین ہی کو یہ خدمات فراہم کرنے کو لازم قراردیناجائزنہیں،بلکہ اس میں بعض اوقات کسی رکنِ کمیٹی کے چندہ دینے میں اس کی طیبِ خاطر نہ ہونےکی خرابی کے علاوہ چندہ کے بدلےمشروط طور پر سہولیات لینےمیں قمار اور سود کا عنصربھی لازم آتا ہے۔
3-اگرچہ نقود کو اس طور پر وقف کرنا کہ ان کی اصل مقدارکو باقی رکھتے ہوئے انہیں قرض کے طور پر خرچ کیا جائےیا صرف ان سے جائز طریقہ سے سرمایہ کاری کے ذریعے حاصل کی گئی آمدن موقوف علیہم پر خرچ کی جائے ،یہ جائز ہےاور وقف میں واقف اپنے آپ پر خرچ کی شرط بھی لگا سکتا ہے،مگر آپ کی البرکمیٹی کا موجودہ نظام اس سے مختلف ہے،اور یہ قمارکی ممانعت کے تحت آتا ہے ۔
4- آپ کی البر کمیٹی میں مذکورہ بالا خرابیوں کے علاوہ چندہ دینے کے بعد اس جمع شدہ فنڈ سے اپنے لیے سہولیات لینے کو لازم حق سمجھنااورکمیٹی کا دائرۂِ خدمات صرف چندہ دینےوالے ممبر ان تک محدود رکھنا بھی درست نہیں ۔نیز اس کمیٹی کایہ بنیادی مقصد کہ اس کے اراکین میں سےکسی کا قریبی رشتہ دار فوت ہویا ان میں سے کوئی سفر میں وفات پاجائے،تو اسے اس کے گاؤں یا شہرمیں منتقل کرنے کو لازم سمجھنا اور اس میں تعاون کے مقصد سے باقاعدہ کمیٹی تشکیل دینا صرف ایک مکروہ عمل کےارتکاب میں تعاون ہی نہیں،بلکہ یہ اس کے التزام کو یقینی بنانے کے ساتھ اس پر اصرارکرنا ہے۔لہٰذا اس غلط فہمی اور رواج کی درستگی کے لیے یہ تفصیل سمجھ کر آئندہ مدِ نظررکھی جائے کہ میت کو مقامِ وفات سے دوسری جگہ منتقل کرنے کی دو صورتیں ہیں:
پہلی صورت یہ ہے کہ آدمی کی وفات اپنے مقام (گاؤں یاشہر)میں ہوئی ہو،اس صورت میں نعش کو اس کے اپنے مقام کے قبرستان سے دوسرے مقام کے قبرستان (جوکہ ایک میل یا دو میل سے زیادہ فاصلے پرنہ ہو )میں دفن کے لیے لے جانا خلافِ اولیٰ ہے ، اور اگر اس سے زیادہ دور ہو توراجح قول کے مطابق ناجائز اور مکروہ تحریمی ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ کسی شخص کا انتقال اپنے مقام اور شہرکے بجائے کسی دوسرے شہر میں ہوا ہو،اس کا حکم یہ ہے کہ جس شہر میں میت کا انتقال ہوا ہےاسی شہر میں اس کو دفن کر نا مستحب ہے، لیکن اگر اپنے شہر لے آئیں تو اس میں فقہائے حنفیہ میں اختلاف ہے،بعض کے ہاں جائز اور بعض کے ہاں مکروہِ تحریمی ہے،لہٰذا (شدید حاجت کے سوا)اس کو عام معمول بنالینا درست نہیں کہ فتویٰ کراہت ہی پر ہے۔(احسن الفتاوٰی:4/218-221،فتاوٰی عثمانی:1/270-282)
اسی طرح فوتگی کے موقع پر میت کی تجہیزوتکفین میں اصل یہ ہے کہ میت کے اپنے ترکہ سے اس کے اخراجات منہا کیے جائیں ،لیکن اگر کوئی رشتہ دار وغیرہ تبرع اور احسان کے طور یہ اخراجات اپنی طرف سے کرلے تو اس میں بھی حرج نہیں۔نیز میت کے رشتہ داروں اور پڑوسیوں پرمیت کے اہلِ خانہ کےلیےایک دن اور ایک رات کے کھانے کا انتظام کرناشرعًامستحب ہےاورحسبِ ضرورت اس سےزیادہ تین اوقات یادوتین دن تک کا انتظام کرنابھی جائز ہے ،البتہ اتنےدور سےآئے ہوئےمہمانوں کوکھانا کھلانےکی گنجائش ہے جواسی دن دوبارہ اپنےگھروں تک نہ پہنچ پاتے ہوں،جبکہ ان کے علاوہ آس پاس کے باقی لوگوں کو کھلاناسنت سے ثابت نہیں، بلکہ اس سے کئی خرابیاں پیدا ہونے کی وجہ سے احتراز لازم ہے۔
چونکہ آج کل مصروفیات اور دینی امور میں غفلت بڑھ جانے کی وجہ سے اور لوگوں کی سہولت کی خاطر فوتگی کے مواقع کے لیے باقاعدہ نظم بنانا پڑتا ہے،لہذا ان جیسے باہمی تعاون کے امورکے لیے مذکورہ بالا تفصیل کو مدِنظر رکھ کر شرعی حدود میں رہتے ہوئے کمیٹی قائم کرنے،یا پہلے سے قائم شدہ کمیٹی کےنظم کو درج ذیل متبادل طریقے پر چلانے کی گنجائش ہے،تاہم اب تک "البرکمیٹی" کاشرعی رہنمائی لیے بغیر نظم چلانے پر جو کوتاہی ہوچکی ،اس پرکمیٹی کے ارکان توبہ و استغفار کے ساتھ آپس میں معافی تلافی بھی کرلیں ،اور آئندہ اس طرح کا کوئی نیا اقدام کرنے سے پہلے ہی شرعی رہنمائی لینے کا اہتمام کریں۔اب ذیل میں "البرکمیٹی" چلانے کا متبادل شرعی طریقہ ملاحظہ کیجئے:
الف- فنڈ یا کمیٹی وقف کی بنیاد پر ہو،جس کے لیے کمیٹی کے ارکان اپنی رضامندی سے چندہ کے طور پر جمع کی گئی سابقہ یا اس کے علاوہ کچھ رقم جمع کرکےایک وقف قائم کریں،جس کی آخری جہت فقراء ومساکین ہوں، یعنی یہ طے کیا جائے کہ اگر کبھی یہ وقف ختم کرنا پڑا تو اس میں موجود رقم فقراء ومساکین پر خرچ کی جائے گی۔ ( يہ یاد رہے کہ جتنی رقم سے شروع میں وقف قائم کیا جائے گا اتنی رقم وقف میں باقی رکھنا ضروری ہو گا، اس کے علاوہ بطورفنڈ دی جانے والی رقم خرچ کی جاسکے گی۔)
ب-وقف فنڈ بنانے کا مقصدصرف اورصرف باہمی تعاون وتناصر ہو،اوران مواقع پر جو بدعات یا غیر شرعی رسمیں ہوتی ہیں ان میں تعاون نہ کیا جائے،کیونکہ گناہ کے کاموں میں تعاون ناجائز ہے۔نیز مخیر حضرات جو چندہ دیں گے وہ وقف کی ملکیت ہوگا اور کسی بھی ممبر کو دوبارہ واپس مانگنے کا حق حاصل نہیں ہوگا۔
ج-اس وقف کی شرائط میں یہ بھی لکھا جائے کہ جو شخص اس وقف کو ماہانہ اتنا چندہ دےگا تو اس وقف کی پہلی ترجیح یہ ہوگی کہ اس کے گھر میں فوتگی کی صورت میں اس کے ساتھ حسبِ استطاعت تعاون کیا جائے گا، نیز یہ تعاون چندہ کی رقم کی کمی بیشی کے ساتھ مربوط نہیں ہو گا، بلکہ وقف کے منتظمین متاثرہ گھرانے کی مالی حیثیت اورمہمانوں کی تعداد وغیرہ کا لحاظ رکھتے ہوئے تعاون کی مقدار کا فیصلہ کریں گے۔
د-چندہ دینے پر کسی شخص کو مجبور نہ کیا جائے اور نہ ہی ان لوگوں کو طعن و تشنیع کا نشانہ بنایا جائے جو اس وقف کو چندہ نہ دینا چاہتے ہوں، بلکہ حسبِ صوابديد اپنی خوشی سے جو شخص چاہے اس وقف کو چندہ دینے والوں میں شامل ہو، البتہ وقف کی مصلحت کے لیے چندے کی کم از کم حد مقرر کرکے صاحبِ استطاعت لوگوں کو اتنا چندہ دینے کی ترغیب دی جاسکتی ہے۔
ذ-کمیٹی کے انتظامی معاملات جیسےوقف کی آمد اور خرچ وغیرہ کا باقاعدہ تحریری ثبوت اور ریکارڈ رکھنے کا بھی اہتمام کیا جائے۔ نیز بہتر یہ ہے کہ وقف فنڈ کسی مستند عالم یا مفتی کے زیر نگرانی رہے۔
ر- وقف فنڈ کے موقوف علیہم صرف وہ لوگ نہیں ہوں گے جو چندہ دینے والے ہوں، بلکہ موقوف علیہم تمام مستحق ممبران ہوں گے،خواہ وہ چندہ دیں یا کچھ لوگ کسی مجبوری کی وجہ سے چندہ نہ دے سکیں ۔
ز- انتظامی کمیٹی کی ذمہ داری ہوگی کہ وقف سے تعاون صرف چندہ دینے والوں کے ساتھ مخصوص نہ کریں ،بلکہ وقت بر وقت ایک معتد بہ مقدار میں (کم از کم بیس فیصد یا اس سےزائد)ان ممبران سے بھی تعاون کریں جنہوں نے وقف فنڈ میں چندہ جمع نہ کیا ہو ۔
س - چندہ دینے والے ممبران پر تحریری طور پر یہ بات واضح کی جائےکہ انہیں چندہ دہندہ ہونے کی بنیاد پر وقف سے کسی اختصاصی یا ترجیحی دعویٰ (claim) کا حق نہیں ہوگا۔ فوتگی کے وقت وقف فنڈ سے تجہیز وتکفین اور کھانے وغیرہ کا انتظام کمیٹی کے بنائے گئے اصولوں پر ہوگا۔
و- اگر وقف فنڈ میں گنجائش نہ ہو تو کسی بھی درجے میں منتظمین کی یہ ذمہ داری نہ ہو کہ وہ موقوف علیہم کے ساتھ تعاون کریں یا اس کے لیے قرضے وصول کریں ،البتہ اگر منتظمین اپنی صوابدید پر بوقت ضرورت وقف فنڈ کے لیے قرض حاصل کریں، اور بعد میں چندہ کی رقم سے یا کسی دوسرے جائز ذریعے سے اس کی ادائیگی کریں تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
ہ- فنڈ کے منتظمین کے پاس اس بات کا اختیار ہوگا کہ فوتگی کے وقت مخصوص کردہ رقم دیں ،یا ضرورت کے وقت مختص کردہ رقم سے کم یا زائد دیں۔ (از تبویب:74888)
حوالہ جات
أحكام القرآن للجصاص ط العلمية (1/ 398):
قال الله تعالى: {يسألونك عن الخمر والميسر قل فيهما إثم كبير} قال أبو بكر: دلالته على تحريم الميسر كهي على ما تقدم من بيانه. ..وقال ابن عباس وقتادة ومعاوية بن صالح وعطاء وطاوس ومجاهد: الميسر القمار...وروى حماد بن سلمة عن قتادة عن حلاس أن رجلا قال لرجل: إن أكلت كذا وكذا بيضة فلك كذا وكذا، فارتفعا إلى علي فقال: هذا قمار، ولم يجزه.ولا خلاف بين أهل العلم في تحريم القمار وأن المخاطرة من القمار.
تفسير القرطبي (3/ 383):
ياأيها الذين آمنوا إذا تداينتم بدين إلى أجل مسمى فاكتبوه وليكتب بينكم كاتب بالعدل...وقال الجمهور: الأمر بالكتب ندب إلى حفظ الأموال وإزالة الريب.
أحكام القرآن للجصاص ت قمحاوي (3/ 296):
وقوله تعالى "وتعاونوا على البر والتقوى" يقتضي ظاهره إيجاب التعاون على كل ما كان (طاعۃ للہ)تعالى؛ لأن البر هو طاعات الله، وقوله تعالى "ولا تعاونوا على الإثم والعدوان" نهي عن معاونة غيرنا على معاصي الله تعالى .
مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (3/ 1241):
1739 - وعن عبد الله بن جعفر قال: «لما جاء نعي جعفر قال النبي صلى الله عليه وسلم: " اصنعوا لآل جعفر طعاما، فقد أتاهم ما يشغلهم» " رواه الترمذي، وأبو داود، وابن ماجه...قال الطيبي: دل على أنه يستحب للأقارب والجيران تهيئة طعام لأهل الميت اهـ. والمراد طعام يشبعهم يومهم و ليلتهم، فإن الغالب أن الحزن الشاغل عن تناول الطعام لا يستمر أكثر من يوم، وقيل: يحمل لهم طعام إلى ثلاثة أيام مدة التعزية، ثم إذا صنع لهم ما ذكر من أن يلح عليهم في الأكل لئلا يضعفوا بتركه استحياء، أو لفرط جزع.واصطناعه من بعيد أو قريب للنائحات شديد التحريم ؛ لأنه إعانة على المعصية.واصطناع أهل البيت له لأجل اجتماع الناس عليه بدعة مكروهة، بل صح عن جرير رضي الله عنه: كنا نعده من النياحة، وهو ظاهر في التحريم. قال الغزالي: ويكره الأكل منه، قلت: و هذا إذا لم يكن من مال اليتيم أو الغائب، وإلا فهو حرام بلا خلاف. (رواه الترمذي)
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 363):
مطلب في وقف الدراهم والدنانير (قوله: بل ودراهم ودنانير) عزاه في الخلاصة إلى الأنصاري و كان من أصحاب زفر، وعزاه في الخانية إلى زفر حيث قال: وعن زفر شرنبلالية .وقال المصنف في المنح: ولما جرى التعامل في زماننا في البلاد الرومية وغيرها في وقف الدراهم والدنانير دخلت تحت قول محمد المفتى به في وقف كل منقول فيه تعامل كما لا يخفى؛ فلا يحتاج على هذا إلى تخصيص القول بجواز وقفها بمذهب الإمام زفر من رواية الأنصاري، والله تعالى أعلم. وقد أفتى مولانا صاحب البحر بجواز وقفها ولم يحك خلافا. اهـ.
مجموع الفتاوى (31/ 234):
قال أبو البركات: وظاهر هذا جواز وقف الأثمان لغرض القرض أو التنمية والتصدق بالربح كما قد حكينا عن مالك والأنصاري. .. وقال محمد بن عبد الله الأنصاري: يجوز وقف الدنانير؛ لأنه لا ينتفع بها إلا باستهلاك عينهاوتدفع مضاربة ويصرف ربحها في مصرف الوقف،ومعلوم أن القرض والقراض يذهب عينه ويقوم بدله مقامه، وجعل المبدل به قائما مقامه لمصلحة الوقف، وإن لم تكن الحاجة ضرورة الوقف لذلك.
حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح (ص: 613):
"ويستحب الدفن في" المقبرة "محل مات به أو قتل؛" لما روي عن عائشة رضي الله عنها أنها قالت حين زارت قبر أخيها عبد الرحمن، وكان مات بالشام وحمل منها: لو كان الأمر فيك إلي ما نقلتك ولدفنتك حيث مت ".فإن نقل قبل الدفن قدر ميل أو ميلين"ونحو ذلك "لا بأس به"؛ لأن المسافة إلى المقابر قد تبلغ هذا المقدار ،"وكره نقله لأكثر منه" أي أكثر من الميلين، كذا في الظهيرية. وقال شمس الأئمة السرخسي: وقول محمد في الكتاب لا بأس أن ينقل الميت قدر ميل أو ميلين بيان أن النقل من بلد إلى بلد مكروه. وقال قاضيخان، وقد قال قبله،:لو مات في غير بلده يستحب تركه، فإن نقل إلى مصر آخر لا بأس به...قوله: "لما روي عن عائشة الخ" ولأنه اشتغال بما لا يفيد إذ الأرض كلها كفات مع ما فيه من تأخير دفنه، وكفي بذلك كراهة...قوله: "بيان أن النقل من بلد إلى بلد مكروه" أي تحريما؛ لأن قدر الميلين فيه ضرورة ولا ضرورة في النقل إلى بلد آخر، وقيل :يجوز ذلك إلى ما دون مدة السفر، وقيل :في مدة السفر أيضا كذا في الحلبي، وفيه: أن كلام محمد مطلق عن قيد لضرورة ،وأيضا لا تظهر الكراهة في نقله من بلد إلى بلد إلا إذا كانت المسافة أكثر من ميلين. قوله: "وقد قال قبله" أي قاضيخان قبل نقله عبارة شمس الأئمة السرخسي. قوله: "فإن نقل إلى مصر آخر لا بأس به" وظاهره عدم كراهة النقل من بلد إلى بلد مطلقا.
البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (2/ 210):
قال: وقد جزم في التاجية بالكراهة، وفي التجنيس وذكر أنه إذا مات في بلدة يكره نقله إلى أخرى؛ لأنه اشتغال بما لا يفيد، وفيه تأخير دفنه وكفى بذلك كراهة.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 239):
(قوله: يندب دفنه في جهة موته) أي في مقابر أهل المكان الذي مات فيه أو قتل، وإن نقل قدر ميل أو ميلين فلا بأس شرح المنية، ويأتي الكلام على نقله. قلت: ولذا صح «أمره - صلى الله عليه وسلم - بدفن قتلى أحد في مضاجعهم» مع أن مقبرة المدينة قريبة، ولذا دفنت الصحابة الذين فتحوا دمشق عند أبوابها ولم يدفنوا كلهم في محل واحد .(قوله وتعجيله) أي تعجيل جهازه عقب تحقق موته، ولذا كره تأخير صلاته ودفنه ليصلي عليه جمع عظيم بعد صلاة الجمعة كما مر ...(قوله ولا بأس بنقله قبل دفنه) قيل مطلقا، وقيل إلى ما دون مدة السفر، وقيده محمد بقدر ميل أو ميلين؛ لأن مقابر البلد ربما بلغت هذه المسافة فيكره فيما زاد. قال في النهر عن عقد الفرائد: وهو الظاهر اهـ
محمدعبدالمجیدبن مریدحسین
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
18/ربیع الثانی /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمدعبدالمجید بن مرید حسین | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


