03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کاروبار کے لیے پیسہ دے کر نفع لینا
88677سود اور جوے کے مسائلسود اورجوا کے متفرق احکام

سوال

   ایک شخص کو ایک کاروبار کے لیے رقم درکار ہے۔ کاروبار میں بارہ فیصد منافع ہوگا۔ میرے دیے گئے پیسوں کی واپسی پر مجھے چھ فیصدمنافع ادا کرے گا۔اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ چھ فیصد منافع سود ہوگا یاکہ جائز؟ کتاب وسنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

   سرمایہ کی یقینی واپسی کی شرط کی وجہ سے یہ معاملہ شراکت داری کا نہیں، بلکہ قرض کاہے اور قرض پر نفع لینا سود ہے ،جو شرعا ناجائز ہے۔لہذا ،یہ 6 فیصد نفع لینا آپ کے لیے جائز نہیں۔

   اگر آپ شراکت داری یا مضاربت کا معاملہ کریں اور سرمایہ کی بجائے نفع کا فیصدی حصہ طے کریں، تو آپ کے لیے حقیقی نفع سے اپنا حصہ لینا جائز ہوگا۔ اگر نقصان ہوا تو شرکت میں آپ کو اپنے سرمایے کے تناسب سے نقصان اٹھانا ہوگا۔ اور مضاربت کی صورت میں اوّلا حاصل شدہ نفع سے نقصان پورا کیا جائے گا اور اگر نقصان نفع سے زائد ہو تو باقی ماندہ نقصان سرمایہ لگانے والے کو برداشت کرنا پڑے گا۔

حوالہ جات

   الدر المختار و حاشیۃ ابن عابدین(15/212) دار الثقافۃ و التراث دمشق

قوله (کل قرض جر نفعا حرام) أي:إذا کان مشروطا کما علم مما نقله عن ''البحر'' و ''الخلاصة''، و في''الذخیرة'' و إن لم یکن النفع مشروطا في القرض فعلی قول ''الکرخي''لابأس به.

   الهداية شرح البداية (6/167) إدارة القرآن و العلوم الاسلامية کراتشی

قال: ومن شرطها أن یکون الربح بينهما مشاعا لایستحق أحدھما دراهم مسماة من الربح، لأن شرط ذلك یقطع الشركة بينهما، ولابد منه کما فی عقد الشركة.

   المحیط البرهاني (18/126)

الشرط الخامس: أن یکون نصیب المضارب من الربح معلوما علی وجه لاتنقطع به الشركة فی الربح.

زبیر احمد

دارالافتاء جامعۃ الرشید، کراچی

19/ربیع الآخر/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

زبیر احمد ولد شیرجان

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب