03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
آن لائن گولڈ ٹریدنگ کا شرعی حکم
88765خرید و فروخت کے احکامبیع فاسد ، باطل ، موقوف اور مکروہ کا بیان

سوال

السلام علیکم ورحمة الله وبركاته محترم مفتی صاحب! میں آن لائن گولڈ ٹریڈنگ میں دلچسپی رکھتا ہوں، اس میں: - اصل سونا میرے پاس physically موجود نہیں ہوتا - لیکن جیسے ہی میں خریداری کرتا ہوں، وہ میرے اکاؤنٹ میں reflect ہوتا ہے - "قبضہ حکمی" (constructive possession) کے طور پر - - میں اس کو آگے بیچنے یا dispose کرنے کا اختیار رکھتا ہوں - بروکر کی طرف سے transparency اور control موجود ہوتا ہے - کوئی interest (swap) نہیں لیا جاتا مطلب swap free اکاؤنٹ ہوتا ہے - نیت صرف price speculation نہیں بلکہ تجارتی نفع ہے کیا یہ شرعی طور پر جائز تجارت کے زمرے میں آتی ہے؟ براہ کرم رہنمائی فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیراً ---

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

کسی بھی منقولی   چیزکوفروخت کرکے نفع کمانے کے لیے ضروری ہے کہ اس چیز   پربائع کا(حسی ہو یاحکمی )  قبضہ     ہوچکاہو۔ سوال میں پوچھی گئی صورت میں حسی یاحکمی قبضہ نہیں ہوا۔قبضہ  حکمی کے لیے ضروری ہوتاہے کہ وہ چیزمعین،ممیز ہو۔ نیز اگر مشتری کسی بھی وقت   اپنے پاس physically طورپرلینا چاہے تو    کوئی مانع نہ ہو۔ یہ شرائط موجودہ صورت میں نہیں پائی جاتی،لہذااسے حکمی قبضہ نہیں قرار دیاجاسکتا۔

لہذامروجہ آن لائن گولڈ ٹریڈنگ میں  پروڈکٹ فروخت کرکے نفع کماناجائز نہیں ۔تاجر اگر کوئی ادارہ یاپروڈکٹ باقاعدہ SECPسے شریعۃ سرٹیفائڈ ہوتو اس کی معلومات فراہم کرکے دوبارہ پوچھا جاسکتاہے۔

حوالہ جات

مسند الإما م أحمدبن حنبل (6/190):

 عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده، قال: نهى رسول الله صلي الله عليه وسلم عن بيعتين في بيعة،

وعن بيع وسلف، وعن ربح مالم يضمن، وعن بيع ‌ماليس ‌عندك.

صحيح البخاري (3/ 200):

عن ابن عمر رضي الله عنهما، أن النبي صلى الله عليه وسلم قال:"‌من ‌ابتاع ‌طعاما فلا يبيعه حتى يستوفيه".

فتح القدير(:5/264):

ومن اشترى شيأ مما ينقل ويحول لم يجزله بيعه حتى يقبضه.

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (5/ 244):

ولا يجوز للمشتري أن يتصرف فيه قبل الكيل؛ لأنه باعه قبل أن يقبضه.

حاشية ابن عابدين (5/ 73):

لأن بيع المنقول قبل قبضه لا يجوز ولو من بائعه.

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (5/ 244):

والقبض عندنا هو ‌التخلية، والتخلي وهو أن يخلي البائع بين المبيع وبين المشتري برفع الحائل بينهما على وجه يتمكن المشتري من التصرف فيه فيجعل البائع مسلما للمبيع، والمشتري قابضا له.

عزیزالرحمن 

دارالافتاءجامعۃ الرشید کراچی

26ربیع الثانی1447ھ 

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عزیز الرحمن بن اول داد شاہ

مفتیان

شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب