| 88829 | پاکی کے مسائل | غسل واجب کرنے والی چیزوں، فرائض اور ،سنتوں کا بیان |
سوال
زید سو رہا تھا، خواب میں اسے اپنی والدہ کے ساتھ ایسا منظر دکھائی دیا جس سے اسے انزال ہونے کا غالب گمان ہوا، اسی دوران آنکھ کھل گئی تو دیکھا کہ والدہ قریب لیٹی ہوئی تھیں۔ زید اس حالت میں ان پر ہاتھ رکھ دیا جبکہ انزال ہاتھ رکھنے سے پہلے ہی شروع ہو چکا تھا۔ تھوڑا دماغ چلتے ہی فوراً ہاتھ ہٹا لیا۔ یہ سارا واقعہ تقریباً دس سے پندرہ سیکنڈ کے اندر پیش آیا۔ دھندلی یاداشت کے مطابق ممکن ہے والدہ کے ہاتھ کو بغیر کسی حائل چیز کے ہاتھ لگا ہو مگر یقین نہیں ہے بلکہ صرف گمان ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اس حالت میں زید پر کیا شرعی حکم عائد ہوگا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
انزال ہونے سے غسل واجب ہوا۔اپنی محرم خاتون کے ساتھ سنگل بیڈ پر سونا جائز نہیں ہے،آئندہ احتیاط کریں اوراپنی سوچ کو بھی حتی الامکان پاکیزہ رکھیں۔تاہم اس صورت میں حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوئی ۔
حوالہ جات
وفي شرح التحریر(1/295):
وفرض الغسل عند خروج مني من العضو بشهوة أي لذة ولو حکما کمحتلم.
وفي الهندية(1/16):
المعاني الموجبة للغسل وهي ثلاثة:منها الجنابة،وهي تثبت بسببين أحدهما:خروج المني على وجه الدفق والشهوة من غير إيلاج باللمس أو النظر أو الاحتلام أو الاستمناء كذا في محيط السرخسي،من الرجل و المرأة في النوم واليقظة،وتعنبر الشهوة عند انفصاله عن مكانه لا عند خروجه من رأس الإحليل.
وفي الهداية(15/3):مكتبة البشرى
و لو مس فأنزل،فقد قيل:إنه يوجب الحرمة،والصحيح:أنه لايوجبها؛لأنه بالإنزال تبين أنه غير مفض إلى الوطء.
وفي فتح القدير(215/3):
ثم شرط الحرمة بالنظر أو المس أن لاينزل،فإن أنزل قال الأوزجندي و غيره:تثبت؛لأن بمجرد المس بشهوة تثبت الحرمة،و الإنزال لايوجب رفعهابعد الثبوت، والمختار لاتثبت كقول المصنف وشمس الأئمةو البزدوي بناء على أن الأمر موقوف حال المس إلى ظهور عاقبته إن ظهر أنه لم ينزل حرمت و إلا لا.
احسان اللہ گل محمد
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
04/جمادی الاولی /7144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | احسان ولد گل محمد | مفتیان | شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب |


