03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
معاملات میں بد دیانتی کا حکم
88831جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

میرے دادا  پی ٹی سی ایل میں سرکاری ملازم تھے انہیں فری میں پی ٹی سی ایل والوں نے گھر اور گھر میں فری ہیٹراور اس کے علاوہ اور چیزیں بھی دی تھی اور فری میں دوائیاں بھی دیتے تھے، دادا ابو پی ٹی سی ایل والوں کو جھوٹ کہتے تھے کے ہیٹر خراب ہو گیا ہے تو وہ نیاہیٹر لے آتے لیکن ہیٹر خراب نہیں ہوتا تھا اور دادادفتر سے اپنی خالہ کا کہتے تھے کے ان کے لیے دوائیاں دے دیں، تو وہ دے دیتے اور داداابو لے جاتے، دادا ابو جھوٹ بولتے تھے داداابو کی خالہ نہیں ہے اور دادا  ابو نے لوگوں کو پیسے دیے ہیں کاروباد کے لیے ،نفع مانتے ہیں  نقصان نہیں مانتے ۔اس کا شرعی حکم بتائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

کسی محکمے سے غلط بیانی کرکے کوئی چیز وصول کرنا دھوکہ دہی اور ناجائز ہے، اس سے جو مال آتاہے  اس کا محکمے کو واپس کرنا  ضروری ہے۔اسی طرح سودی لین کرنا بھی حرام ہے،کار و بار میں نفع و نقصان دونوں میں شراکت ہوتی ہے،صرف نفع وصول کرنا اورنقصان سے بری  ہونا یہ سود کی  ایک قسم ہے۔

حوالہ جات

في شرح التنوير(47/5)ایچ ایم سعید کمپنی:لايحل كتمان العيب في مبيع أو ثمن ؛لأن الغش حرام .وتحته في الشامية:لأن الغش من أكل أموال الناس بالباطل.

في صحيح الإمام مسلم (321/1)مكتبة البشرى:عن أبي هريرة (رضي الله عنه)أن رسول الله (صلى الله عليه وسلم)قال:من حمل علينا السلاح فليس منا،ومن غشنا فليس منا.

و في سنن أبي داوود: عن عبدالله ابن عمرو قال:قال رسول الله :لا یحل سلف و بیع،و لاشرطان في بیع،و لاربح ما لم یضمن،و لا ربح ما لیس عندک.

  احسان اللہ گل محمد

 دارالافتاجامعۃالرشید کراچی

5/جمادی الاولی  1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

احسان ولد گل محمد

مفتیان

شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب