03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بیوی کی زکوۃ کو اپنے ذمہ لینا کلمہ کفر نہیں
88825زکوة کابیانزکوة کے جدید اور متفرق مسائل کا بیان

سوال

میرا سوال یہ ہے کہ میرے شوہر نے مجھے کہا :کہ عورت پر زکوۃ فرض نہیں ہے میں نے کہا :نہیں عورت ،مرد سب پہ فرض ہے جو بھی  صاحب نصاب ہو گا ،انہوں نے کہا :ہاں لیکن شادی کے بعد عورت کی زکوۃ شوہر پرفرض ہے تو میں نے کہا نہیں ، عورت کو ہی دینی ہے تو  میرے شوہر نے کہا :ہاں جب اکیلی ہو پھر میں نے ان سے  کہا :کہ شوہر تب دے سکتا ہے جب عورت اجازت دے دے تو کہتے ہیں میں نے تم سے کتنی دفعہ اجازت مانگی ہے پھر بھی تم بھروسہ نہیں کرتی ہو بار بار پوچھتی ہو کہاں دی ،کہاں دی اب یہ میرے اوپر ہے ،لیکن  مجھے تسلی نہیں ہوتی کہ وہ صحیح جگہ دیں گے کہ نہیں دیں گےآخر میں  انہوں نے کہا  :کہ تم نے اس چیز سے اپنے آپ کو آزاد کر دیا ہے تم فری ہو اس چیزسے تو اب یہ میری ذمہ داری ہے میں جیسے بھی  دوں۔تو مجھے پوچھنا تھا کہ یہ کفر تو نہیں ہے ؟

تنقیح : سائل سے  زبانی پوچھنے پر اس نے بتایا کہ شوہر کا مقصد زکوۃ کی ادائیگی سے آزاد کرنا تھا اور یہ پوچھنا ہے  کہ  کیا یہ کفریہ کلمات تو نہیں ہیں ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مذکورہ کلمات شرکیہ یا کفریہ نہیں ہیں ،ان سے شوہر کی غرض صرف بیوی کو مطمئن کرنا ہے ،کہ آئندہ شوہر اس کی   زکوۃ کی ادائیگی اور مصرف کے چناؤ کی ذمہ داری خود ادا کرے گا ۔یاد رہے کہ اگر آپ  شوہر کی بات کو قبول کر لیں ،تو ان کی ادائیگی سے آپ  کی زکوۃ ادا ہو جاۓ گی ،اور اگر آپ انہیں صراحتا ًمنع کردیں تو پھر ان کے ادا کرنے سے زکوۃ ادا نہ ہو گی ۔

حوالہ جات

شرح العقائد النسفییۃ :(383   

ورد النصوص بأ ن ینکر الأحکام التی دلت عليها النصوص القطعية من الكتاب والسنة كحشر الأجساد مثلا،كفر؛لكونه تكذيبا صريحا لله تعالی،ورسوله تعالیٰ  ،واستحلال المعصیۃ صغیرۃ کانت او کبیرۃ کفرالخ۔۔۔۔

(اکفار الملحدین: (54

قال العلامة الکشمیری۔ رحمه اللہ۔ والمراد "بالضروریات علی ما اشتهر فی الکتب: ما علم کونه من دین محمد – صلی اللہ علیه وسلم - بالضرورة، بأن تواتر عنه واستفاض، وعلمته العامة، کالوحدانیة، والنبوة، وختمها بخاتم الأنبیاء، وانقطاعها بعدہ... وکالبعث والجزاء، ووجوب الصلاة والزکاة، وحرمة الخمر ونحوها، سمي: ضروریاً، لأن کل أحد یعلم أن هذا الأمر مثلاً من دین النبي - صلی اللہ علیه وسلم - ... فالضرورة فی الثبوت عن حضرة الرسالة، وفي کونه من الدین".

حنبل اکرم

دارالافتاء،جامعۃ الرشید، کراچی

04/جمادی الاولی1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

حنبل اکرم بن محمد اکرم

مفتیان

شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب