| 88832 | نان نفقہ کے مسائل | نان نفقہ کے متفرق مسائل |
سوال
میرے دادا نے میرے امی ابو کو اپنے گھر سے تقریبا پندرہ سال پہلے نکال دیا تھا اور دادا ابو کے چار بیٹے ان کے ساتھ ہیںانہیں نہیں نکالا، اور چاروں بیٹوں میں سے تین بیٹوں کے بچے ہیں، انہیں اپنے گھر میں رکھا ہے اور مجھے اور میری بہنوں اور امی ابو کو نہیں چھوڑتے۔
دادا ابو کے گھر میں سولر لگے ہوے ہیں ،دادا ابو نے سولر میں سب سے زیادہ پیسے دیے ہیں اور استعمال اتنا نہیں ہے سولر کو چاچوں اور ان کے بچے استعمال کرتے ہیںاور مجھے دادا ابو نے سولر کے پیسےنہیں دیے اور ان کے اور پوتے سولر استعمال کرتے ہیں ،اور میں دادا کو جھوٹبولتاہوں مجھے پیسے چاہیے فلانی چیز کے لیے تو وہ دیتے ہیں اگر سچ کہوں کہ میرا اس چیز میں حق بنتا ہے تو وہ نہیں دیتے، مثلا دادا کالج میں داخلہ لینا ہے اتنے پیسے دے دیں،تووہدیتے ہیں اگر سچ کہوں کہ میرا اس چیز میں حق ہے تو وہ نہیں دیتے تو وہ پیسے میرے لیے جائز ہے یا نہیں ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
بالغ لڑکے کا نفقہ والد پر نہیں ہے،البتہ اگر وہ کسی مرض و غیرہ کی وجہ سے کسب معاش پر قادر نہ ہو اور اس کا اپنا مال نہ ہو تو اس کا نفقہ والد پر ہے۔آپ کے والد صاحب کا نفقہ اپنے والد پر واجب نہیں ہے،لہذا دادا کی حیات میں آپ کا اور آپ کے والد کاان کے مال میں کوئی حق نہیں ہے۔ اس لیے ان کی خوشی کے بغیر جھوٹ بول کر ان سے رقم وصول کرناناجائز ہے۔
حوالہ جات
في الهندية(585/1) دارالكتب العلمية:
لايجب على الأب نفقة الذكور الكبار إلا أن يكون الولد عاجزا عن الكسب لزمانة أو مرض.
و في رد المحتار(336/5) :
و تجب النفقة بأنواعها على الحر لطفله يعم الأنثى و الجمع الفقير الحر.
احسان اللہ گل محمد
دارالافتاجامعۃالرشید کراچی
5/جمادی الاولی 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | احسان ولد گل محمد | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


