03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
“غور تے سنڑ میں تنوں طلاق دینا واں”کہنے کا حکم
88919طلاق کے احکامالفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان

سوال

بخدمت جناب مفتی صاحب عرض  ہے کہ  میں مسماۃ  دعاءز وجہ فاروق احمد آپ سے سوال کرتی ہوں کہ ہمارے سامنے ہمارے والد محترم نے ہماری امی کوان الفاظ : " غور تے سڑ میں تنوں طلاق دیناواں" سےدو طلاقیں دی ہیں،ان  کا اردو ترجمہ ہے :غور سے سنو، میں تمہیں طلاق دے رہا ہوں۔تیسری  مرتبہ کہنے سے پہلے ہم نے منہ پر ہاتھ رکھ کر چپ کرادیا تھا، کیا ہماری  امی دوبارہ اپنے خاوند کے گھر جاسکتی ہے ؟ جبکہ میرے والد کے یہ الفاظ کے آئندہ اس گھر آئی تو میں تیسری دفعہ بھی طلاق کا لفظ استعمال کروں گا۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورتِ مسئولہ میں جب شوہر نے پنجابی زبان میں دو بار یہ کہا" غور تے سنڑ میں تنوں طلاق دینا واں "  اس سے دو طلاقیں واقع ہوگئی ہیں۔اس کے  بعد جب یہ الفاظ  کہے کہ آئندہ اس گھر آئی تو میں تیسری دفعہ بھی طلاق کا لفظ استعمال کروں گا۔ یہ جملہ مستقبل  کا ہے، اس سے   کچھ نہیں ہوا۔ لہذا صرف دو”طلاقِ رجعی “ واقع ہوگئی ہیں ۔

طلاقِ رجعی کے بعد شوہرکو بیوی کی عدت )اگر حمل نہ ہو تو تین ماہواریاں  (گزرنے سے پہلے پہلے رجوع کا حق ہے، اگر اس دوران رجوع کرلیا تو  دونوں کا نکاح برقرار رہے گا، اوررجوع کا  مستحب طریقہ یہ ہے کہ مرد اپنی بیوی سے زبان سے کہہ دے کہ میں نے رجوع کرلیا،اس سے قولی طور پر رجوع ہوجائے گا،اور اگر زبان سے کچھ نہ کہے بلکہ بیوی سے تعلق قائم کرلے یاخواہش و رغبت سے اسے چھولے تو اس سے بھی رجوع ہوجائے گا۔ قولی رجوع کرکے اس پر گواہان قائم کرنا  بھی مستحب ہے۔

 اگر  بیوی کی عدت میں رجوع نہیں کیا ، یعنی  طلاق کے بعد  عدت کی تیسری ماہواری گزرگئی تو اس صورت میں دونوں کا نکاح ختم ہوجائے گا، مطلقہ دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی۔اس کے بعد  اگر میاں بیوی باہمی رضامندی سےدوبارہ ایک ساتھ رہنا چاہیں تو شرعی گواہان کی موجودگی میں نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کرکے  رہ سکیں  گے ۔واضح رہے کہ مذکورہ بالا دونوں صورتوں میں  آئندہ کے لیے شوہر کے پاس صرف ایک طلاق کا حق باقی رہے گا۔

اگر آئندہ ایک طلاق دے دی تو پھر رجوع یا دوبارہ نکاح  کی بھی گنجائش باقی نہیں رہےگی۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 397):

"(هي استدامة الملك القائم) بلا عوض ما دامت (في العدة) ... (بنحو) متعلق باستدامة (رجعتك) ورددتك ومسكتك بلا نية لأنه صريح (و) بالفعل مع الكراهة (بكل ما يوجب حرمة المصاهرة) كمس.(قوله: بنحو راجعتك) الأولى أن يقول بالقول نحو راجعتك ليعطف عليه قوله الآتي وبالفعل ط، وهذا بيان لركنها وهو قول، أو فعل... (قوله: مع الكراهة) الظاهر أنها تنزيه كما يشير إليه كلام البحر في شرح قوله والطلاق الرجعي لا يحرم الوطء رملي، ويؤيده قوله في الفتح - عند الكلام على قول الشافعي بحرمة الوطء -: إنه عندنا يحل لقيام ملك النكاح من كل وجه، وإنما يزول عند انقضاء العدة فيكون الحل قائماً قبل انقضائها. اهـ. ... (قوله: كمس) أي بشهوة، كما في المنح".

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 409):

"(وينكح مبانته بما دون الثلاث في العدة وبعدها بالإجماع) ومنع غيره فيها لاشتباه النسب".

محمد ابرہیم عبد القادر

دارالافتاءجامعۃ الرشید ، کراچی

05/جمادی الاولی /7144ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد ابراہیم بن عبدالقادر

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب