| 88824 | ایمان وعقائد | ایمان و عقائد کے متفرق مسائل |
سوال
میراسوال یہ ہے کہ میں روم میں کھڑے ہوکرایک دفعہ فتوے کے لیے مفتی سے بات کر رہی تھی ،مجھے ایسا لگا کہ کوئی سن رہا ہے تو میں واش روم چلے گئی، پہلے بھی میں اس لیے نہیں جا رہی تھی کہ واش روم میں اللہ اور نبی کا نام نہیں لینا چاہیے لیکن اس میں میں نے نام لے لیا ،روم ایک ہی تھا کہ کفر تو نہیں ہے حالانکہ میں جانتی تھی کہ یہ واش روم میں نام نہیں لینا چاہیے میری مجبوری تھی، روم میں کھڑے ہو کر بات نہیں کر سکتی تھی۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
آپ کو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا آپ بعد میں بھی بات کرسکتی تھیں ،تاہم آپ اس کو حرام سمجھتی تھیں اور نادانستہ غفلت میں الفاظ ادا ہو گئے ،تو ا س سے ایمان ضائع نہیں ہوا ۔بہر حال کوتاہی بڑی ہے ،اس پر استغفار کیا جاۓ،بہتر ہے صدقہ بھی کردیں تاکہ قلبی اطمینان حاصل ہو جاۓ،نیز آئندہ بچنے کا اہتمام کریں ۔
حوالہ جات
(رد المحتار علي الدر المختار(1/156
ويستحب أن لا يتكلم بكلام مطلقاً، أما كلام الناس؛ فلكراهته حال الكشف، وأما الدعاء؛ فلأنه في مصب المستعمل ومحل الأقذار والأوحال.
)حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح: (106
قوله: "ويستحب أن لا يتكلم بكلام معه ولو دعاء" أي هذا إذا كان غير دعاء بل ولوغالبا مع كشف العورة" فإن كان مستورا فلا بأس به ويستحب أن لا يتكلم بكلام معه ولو دعاء لأنه في مصب الأقذار ويكره مع كشف العورة ِ.
حنبل اکرم
دارالافتاء ،جامعۃ الرشید ،کراچی
5/جمادی الاولی /1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | حنبل اکرم بن محمد اکرم | مفتیان | شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب |


