| 88826 | سود اور جوے کے مسائل | مختلف بینکوں اور جدید مالیاتی اداروں کے سود سے متعلق مسائل کا بیان |
سوال
السلام وعلیکم! مفتی صاحب! ایک مسئلہ کی وضاحت طلب کرنی تھی۔ میں ایک جاب کرتا ہوں جس میں ہماری تنخواہ میں سے10%کاٹ لیا جاتا ہے اور 8.33% ادارہ اپنی طرف سے اس میں اپنی contribution کرتا ہے۔ اور وہ پیسہ بینک میں جمع کرایا جاتاہے۔ اب ہمیں ادارے کی طرف سے2 آپشنز دیے گئے ہیں کہ ریٹائرمنٹ کے وقت یا تو Conventional interest یا پھر شرعی منافع۔ اب وضاحت طلب امر یہ ہے کہ شرعی منافع سود میں آتے ہیں یا جائز ہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر ادارہ پیسے کسی اسلامک بینک، مضاربہ کمپنی یا شریعہ کمپلائنٹ میوچل فنڈ میں رکھتا ہے اور وہاں سے نفع ملتا ہے تو یہ جائز ہے، کیونکہ آج کل پاکستان میں شریعہ کمپلائنٹ ادارے مضاربت اور شرکت کے اصولوں پر کام کرتے ہیں جو کہ جائز شرعی عقود ہیں اور ہر ادارے میں شرعیہ بورڈ ہوتا ہے جو ان کی شریعت کے مطابق صحیح اور درست نگرانی کرتا ہے، اس لیے یہ نفع شرعا حلال ہے۔
اگر ادارہ پیسے کسی سودی بینک میں رکھتا ہے تو اس سے حاصل شدہ نفع شرعی نفع نہیں ہوسکتا بلکہ وہ سود ہے اورسود لینا یا سود کے معالمے پر راضی ہونا ہرگز جائز نہیں ہے۔
حوالہ جات
بحوث فی قضایا فقیۃ معاصرۃ للمفتی محمد تقی العثمانی(1/256)
أما البنوك الإسلامية فلا يستقيم فيها هذا الوضع، أما حساباتها الجارية فإنها تدرج في المطلوبات كما تدرج في البنوك التقليدية، وذلك لما أسلفنا من أن الحسابات الجارية ديون على البنك يستحقها أصحابها ، أما حسابات الاستثمار فليست ديوناً على البنك، وإنما هي أموال شركة أو مضاربة اختلطت مع أموال البنك الأخرى، وليست هذه الأموال مضمونة على البنك، فلا يستقيم إدراجها في قائمة المطلوبات بالمعنى الدقيق.
بحوث فی قضایا فقیۃ معاصرۃ للمفتی محمد تقی العثمانی (1/348)
يختلف تكييف الودائع الثابتة وحسابات التوفير في البنوك الإسلامية عن تكييفها في البنوك التقليدية، فإن هذه الودائع قروض أيضاً في البنوك التقليدية قدمت إليها على أساس الفائدة الربوية، ولكن البنوك الإسلامية لا تعمل على أساس الفائدة الربوية، بل إنما تقبل هذه الودائع على أن يشاركها أصحابها في ربحها إن كان هناك ربح، فليست هذه الودائع في البنوك الإسلامية قروضاً ، وإنما هي رأس مال في المضاربة، وإنها تستحق حصة مشاعة من ربح البنك، وتتحمل حصة مشاعة من الخسران إن كان هناك خسران وليست مضمونة على البنك، فلا يضمن البنك أصلها ولا ربحها، إلا إذا حصل هناك تعد من قبل البنك، فإنه يضمن بقدر التعدي .
زبیر احمد ولد شیرجان
دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی
05/جمادی الاولی/1447
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | زبیر احمد ولد شیرجان | مفتیان | شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب |


