03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کیابہنوں کا نفقہ بھائی کے ذمہ ہوتا ہے؟ کیا یوٹیوب پر صرف و نحو پڑھنا جائز ہے؟
88827نان نفقہ کے مسائلدیگر رشتہ داروں کے نفقحہ کے احکام

سوال

تہذیب سوال:

ہمارے گھر میں میرے والدین اور تین بہنیں رہتی ہیں۔ میں بے روزگار ہوں اور کمانے والے صرف میرے والد صاحب ہیں۔والد صاحب کے پاس پیسہ بہت ہوتا ہے لیکن وہ صحیح خرچ نہیں کرتے۔ گھر میں فریج نہیں لگاتے، گرمیوں میں صرف ایک پنکھا چلاتے دیتے ہے،اس وجہ سے ہم سب ایک ہی کمرے میں سوتے ہیں۔ والد صاحب میرے دو بہنوں کو ماہانہ پانچ سو روپے جیب خرچ دیتے ہیں اور تیسری بہن کو کچھ بھی نہیں دیتے ہیں۔

گھر کی اس صورتحال میں میرا سوال یہ ہے کہ:

  1. اگر میں تخصص فی الافتاء میں داخلہ لیتا ہوں تو کیا میرے لیے اس صورتحال میں داخلہ لینا جائز ہوگا؟
  2. کیا یوٹیوب پر نحو و صرف کی تعلیم حاصل کرنا جائز ہے کیونکہ یہ بھی کھبی کھبار  بائیکا ٹ کی لسٹ میں داخل ہوتا  ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

والد کے ہوتے ہوئے غیر شادی شدہ بچیوں کا نفقہ باپ کے ذمہ فرض ہے ، بھائی پر نہیں، لہذا آپ اگر پڑھائی کے لیے مدرسہ جانا چاہتے ہو تو جا سکتے ہو۔

یوٹیوب پر صرف و نحو کی تعلیم حاصل کرنے میں کوئی قباحت نہیں  ہے۔یاد رہے کہ بائیکاٹ  دشمن کو معاشی نقصان پہنچانے کے لیے ہوتا ہے۔ سوشل میڈیا کا استعمال تعلیمی و دعوتی مقاصد میں انتہائی مفید ثابت ہوا ہے اس کا بائیکاٹ کرنے سے دشمن کےنقصان سے زیادہ خود تحریک کو نقصان پہنچے گا۔ لہذا اس کے استعمال کی گنجائش ہوگی۔

حوالہ جات

الفتاوی  الہندیۃ (1/584)

وقال الإمام الحلواني : إذا كان الابن من أبناء الكرام ولا يستأجره الناس فهو عاجز وكذا طلبة العلم إذا كانوا عاجزين عن الكسب لا يهتدون إليه لا تسقط نفقتهم عن آبائهم إذا كانوا مشتغلين بالعلوم الشرعية لا بالخلافيات الركيكة وهذيان الفلاسفة ولهم رشد وإلا لا تجب كذا في الوجيز للكردري، ونفقة الإناث واجبة مطلقاً على الآباء ما لم يتزوجن إذالم يكن لهن مال كذا في الخلاصة، ولا يجب على الأب نفقة الذكور الكبار إلا أن يكون الولد عاجزاً عن الكسب الزمانة أو مرض، ومن يقدر على العمل لكن لا يحسن العمل فهو بمنزلة العاجز كذا في فتاوى قاضيخان.

الدر المختار و حاشیۃ ابن عابدین (5/336)

(وتجب)النفقۃ بانواعھا علی الحر (لطفلہ)یعم الانثی و الجمع (الفقیر) الحر۔

الفتاوی التاتارخانیۃ (13/419)

وکذلک الاناث من الاولاد نفقتھن بعد البلوغ علی الآباء مالم یتزوجن ان لم یکن لھن مال، ثم ذکر ان نفقۃ البالغین من الذکور الزمن و من الاناث علی الآباء۔

زبیر احمد بن شیرجان

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

05/جمادی الاولی1447

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

زبیر احمد ولد شیرجان

مفتیان

شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب