| 88912 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | کرایہ داری کے متفرق احکام |
سوال
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے حق مسئلہ ذیل کے بارے میں: میرا محمد طالب ہے ، میں اور میرے دیگر مسلم ساتھی لکڑی کا کام کرتے ہیں ، یعنی گھروں ، بنگلوں اور ہاسپیٹل وغیرہ میں لکڑی کی بہت ساری وہ تمام اشیاء بناتے ہیں جو ایک بڑھی کا کام ہوتا ہے ، اسی میں بعض مرتبہ جب کسی غیر مسلم کے یہاں ہم کام کررہے ہوتے ہیں تو وہ ہم سے لکڑی کا ایک چھوٹا سا مورتی رکھنے کے لیے باکس بنوالیتا ہے اور ہم بنادیتے ہیں ، اگر ہم منع کریں تو ہمارا کام بگڑنے کا خطرہ ہوتا ہے یعنی اس طرح اگر ہم منع کریں گے تو ڈر یہ ہے کہ ایک ایسا آئے گا کہ ہمیں کوئی کام پر اپنے یہاں نہیں بلائے گا ، تو اس صورت میں آپ سے گزارش ہے کہ کیا ہم مورتی رکھنے کے لیے وہ لکڑی کا باکس بنا سکتے ہیں یا نہیں ؟ اور بعض مرتبہ ہم بناتے نہیں بنا ہوا دوکان سے لاکر دے دیتے ہیں یا کہہ کر کسی اور سے بنوادیتے ہیں اور اتنے پیسے اسی صانع باکس کو دے دیتے ہیں ، آپ سے گزارش ہے کہ اس مسئلہ میں اگر جواز کا کوئی راستہ ہو تو مدلل و مبرھن طریقہ سے ہماری رہنمائی فرمائیں ، آپ ان شاءاللہ عند اللہ ماجور ہونگے ۔ مستفتی: محمد طالب امروہوی
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ اسلام عقیدہ توحید کا حامل مذہب ہے ، لہذا کسی مسلمان کے لیے شرک ،بت پرستی یا گناہ کے کسی کام میں کسی سے تعاون کرنا جائز نہیں ، صورت مسئولہ میں غیر مسلم کے گھر میں باقی کام وغیرہ تو جائز ہے ، اور اس کی آمدن بھی جائز ہے ، لیکن اس گھر میں خاص مورتی کے لیے ڈبہ بنانا خالص حرام کام ہے ۔گاہک ٹوٹنے کے خوف سے کام کرنے کی بالکل اجازت نہیں ۔
تاہم اگر جان کا خطرہ ہو تو مجبورابناکردینے کی گنجائش ہوگی اس صورت میں اس ڈبہ کے بقدر اجرت صدقہ کردی جائے، ساتھ خوب استغفاربھی کیا جائے۔ ممکن ہو تو خود کام کرنے سے بہتر ہوگا کہ کسی ہندو بڑھئی کی طرف رہنمائی کر دی جائے ۔
اللہ رزاق ہے، وہ پاک رزق عطا کرنے پر قادر ہے ۔اس ڈر سے کہ گاہک باقی کام ہم سے نہیں کروائے گا حرام کی طرف نہ جائیں ۔
حوالہ جات
(سورة المائدة، رقم الآية: (٢)
قال الله تعالى : ولا تعاونوا على الإثم والعدوان۔
(المائدة، ج 3، ص : 296، ط: دار إحياء التراث العربي)
احکام القرآن للجصاص میں ہے:
وقوله تعالى: (وتعاونوا على البر والتقوى يقتضي ظاهره إيجاب التعاون على كل ما كان طاعة الله تعالى: لأن البر هو طاعات الله وقوله تعالى: ولا تعاونوا على الأثم والعدوان ) نھي عن معاونة غيرنا على معاصي الله تعالى.
(تفصيل الكلام في مسئلة الإعانة على الحرام، ج:2، ص: 439 إلى 453، ط: مكتبة دار العلوم)
وحاصل المعنى حرمة الإعانة على المعصية، ولكن العون والإعانة والتسبب لامرشي واسع يضيق عنه دائرة الحصر، ولها درجات متفاتة قربا وبعدا، فإطلاق الحرمة على جميعها مطلقا يلحق بتكليف مالا يطاق، فأن مكاسب الإنسان كلها ينتفع بها كل إنسان برهم وفاجرهم، ولا يمكن التحرز عنه ألا ترى؟ أن من صنع ثوبا أو أوانيا أو شيئا آخر من الحوائج الإنسانية، لا بد أن ينتفع به برهم وفاجرهم ، وحينند لابد من تفصيل في الكلام قد تصدى له الفقهاء رحمهم الله تعالى .
فتنقيح الضابطة في هذا الباب على مأمن به على ربي :أن الإعانة على المعصية حرام مطلقا بنص القرآن، أعنى قوله تعالى " ولا تعاونوا على الإثم والعدوان"، وقوله تعالى فلن أكون ظهيرا للمجرمين "، ولكن الإعانة حقيقة هي ما قامت المعصية بعين فعل المعين ولا يتحقق إلا بنية الإعانة أو التصريح بها أو تعينها في استعمال هذا الشيئ بحيث لا يحتمل غير المعصية، وما لم تقع المعصية بعينه لم يكن من الإعانة حقيقة، بل من التسبب، ومن أطلق عليه لفظ الإعانة فقد تجوز لكونه صورة إعانة كما مر من السير الكبير .
ثم السبب ان كان سببا محركا وداعيا إلى المعصية فالتسبب فيه حرام كالإعانة على المعصیة بنص القرآن كقوله تعالى: " لاتسبوا الذين يدعون من دون الله "، وقوله تعالى " فلا يخضعن بالقول ". وقوله تعالى " لا تبرجن " الآية، وان لم يكن محركا و داعيا، بل موصلا محضا، وهو مع ذلك سبب قريب بحيث لا يحتاج في اقامة المعصية به إلى احداث صنعة من الفاعل كبيع السلاح من اهل الفتنة وبيع العصير ممن يتخذه خمرا وبيع الأمرد من يعصي به وإجارة البيت ممن يبيع فيه الخمر و يتخذها كنيسة أو بيت نار و أمثالها، فكله مكروه تحريما بشرط ان يعلم به البائع والأجر من دون تصريح به باللسان، فانه إن لم يعلم كان معذورا، وإن علم كان داخلا في الإعانة المحرمة، وإن كان سببا بعيدا بحيث لا يقضي إلى المعصية على حالته الموجودة، بل يحتاج إلى إحداث صنعة فيه كبيع الحديد من اهل الفتنة وأمثالها فتكره تنزیها."
عادل ارشاد
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
۱۰/جمادی الاولی/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عادل ولد ارشاد علی | مفتیان | شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب |


