03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
تحفہ کا کہہ کر قبضہ نہ دینے کا شرعی حکم
88994ہبہ اور صدقہ کے مسائلہبہ کےمتفرق مسائل

سوال

ایک خاتون کے والد نے اپنی زندگی میں زبانی طور پر فرمایا تھا کہ یہ زمین میں نے اپنی بیٹی کو دی ہے تاکہ وہ اس پر گھر بنا سکے۔ بعض بھائیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے بھی یہ بات والد سے سنی تھی۔ تاہم والد کی زندگی میں نہ تو بیٹی نے اس زمین پر قبضہ کیا اور نہ ہی والد نے کوئی قانونی یا تحریری دستاویز اس کے نام منتقل کی۔اور ہمارے ہاں یہ کلچر ہے کہ زمین وغیرہ  کی تقسیم والد کے انتقال کے بعد ہی ہوتی ہے ،جس کے باعث مذکورہ زمین کی ملکیت  بیٹی کے حصے میں منتقل نہیں ہوئی۔اب والد کے انتقال کو 22 سال گزر چکے ہیں۔ خاتون کے 6 بھائی تھے، جن میں سے دو کا انتقال ہو چکا ہے اور ایک بھائی بیمار ہے جو حالات کو پوری طرح نہیں سمجھ پاتا۔ اس کے بیٹے اس زمین کو تحفہ ماننے سے انکار کرتے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ والد یعنی دادا  نے زندگی میں تمام بیٹوں کو بھی گھر بنانے کے لیے زمین دی تھی، جو بعد میں شرعی حصے میں شمار کی گئی۔ لہٰذا یہ زمین بھی تحفہ نہیں مانی جا سکتی، البتہ وہ اسے خاتون کے شرعی وراثتی حصے کے طور پر دینے پر آمادہ ہیں۔دوسری طرف خاتون کا کہنا ہے کہ یہ زمین والد کی طرف سے تحفہ تھی، اس لیے اسے وراثت سے الگ سمجھا جائے۔اس مناسبت سے شرعی رہنمائی درکار ہے کہ آیا یہ زمین خاتون کو صرف وراثتی حصے کے طور پر ملے گی یا والد کے زبانی قول اور بعض بھائیوں کے بیان کی بنیاد پر اسے بطور تحفہ   تسلیم کیا جا سکتا ہے۔

تنقیح:سائل سے رابطہ کرنے پر معلوم ہوا کہ یہ والد صاحب کی دیگر جائیداد میں آخر تک شامل رہی۔اور والد صاحب کے تصرف میں رہی۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سوال میں ذکر کردہ صورت اگر حقیقت پر مبنی ہے  تو   چونکہ والد نے بیٹی کو زمین کا قبضہ نہیں دیا تھا اور نہ  ہی بیٹی نے اس  پر قبضہ کیا تھا۔ محض نام کرنے یا زبانی بتانے سے اس میں ہبہ مکمل نہیں ہو ا۔اس لیے وہ زمین ترکہ   میں شامل ہے۔ اس زمین میں تمام ورثہ شرعی اصولوں کے مطابق حق دار ہوں گے، اور مذکورہ خاتون بھی دیگر ورثہ کے ساتھ اپنے شرعی حصے کی حقدار ہوگی۔البتہ  اگر بھائی اور دوسرے ورثہ راضی ہوں  تو اب بھی یہ زمین مذکورہ عورت  کو دے سکتے ہیں۔

حوالہ جات

المبسوط للسرخسي (12/ 48):

ثم الملك لا يثبت في الهبة بالعقد قبل القبض عندنا ...وحجتنا في ذلك ما روي عن النبي صلى الله عليه وسلم: "لا تجوز الهبة إلا مقبوضة "معناه: لا يثبت الحكم، وهو الملك؛ إذ الجواز ثابت قبل القبض بالاتفاق، والصحابة اتفقوا على هذا؛ فقد ذكر أقاويلهم في الكتاب،  ولأن هذا عقد تبرع، فلا يثبت الملك فيه بمجرد القبول كالوصية، وتأثيره: أن عقد التبرع ضعيف في نفسه؛ ولهذا لا يتعلق به صفة اللزوم. والملك الثابت للواهب كان قويا؛ فلا يزول بالسبب الضعيف حتى ينضم إليه ما يتأيد به: وهو موته في الوصية؛ لكون الموت منافيا لملكه، وتسليمه في الهبة لإزالة يده عنه بعد إيجاب عقد التمليك لغيره، يوضحه: أن له في ماله ملك العين وملك اليد. فتبرعه بإزالة ملك العين بالهبة لا يوجب استحقاق ما لم يتبرع به عليه - وهو اليد -. ولو أثبتنا الملك للموهوب له قبل التسليم وجب على الواهب تسليمه إليه، وذلك يخالف موضوع التبرع .

الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (4/ 374):

وأن يكون الموهوب متميزا عن غير الموهوب ولا يكون متصلا ولا مشغولا بغير الموهوب حتى لو وهب أرضا فيها زرع للواهب دون الزرع، أو عكسه أو نخلا فيها ثمرة للواهب معلقة به دون الثمرة، أو عكسه لا تجوز.

المحيط البرهاني (6/ 238):

قال محمد رحمه الله في «الأصل» : لا تجوز الهبة إلا محوزة مقسومة مقبوضة يستوي فيها الأجنبي والولد إذا كان بالغا، وقوله لا يجوز: لا يتم الحكم، فالجواز ثابت قبل القبض باتفاق الصحابة، والقبض الذي يتعلق به تمام الهبة؛ القبض بإذن الواهب وذلك نوعان: صريح، ودلالة ففيما إذا أذن له بالقبض صريحا يصح قبضه في المجلس وبعد الافتراق عن المجلس ويملكه قياسا واستحسانا، ولو نهاه عن القبض بعد الهبة لا يصح قبضه لا في المجلس ولا بعد الافتراق عن المجلس ولا يملكه قياسا، ولو لم يكن أذن له بالقبض ولم ينهه عنه إن قبضه في المجلس صح قبضه استحسانا ولم يصح قبضه قياسا، وإن قبضه بعد الافتراق عن المجلس لا يصح قبضه قياسا واستحساناَ.

اسفندیارخان بن عابد الرحمان

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

17/جمادی   الاولی/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

اسفندیار خان بن عابد الرحمان

مفتیان

شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب