| 89027 | سود اور جوے کے مسائل | سود اورجوا کے متفرق احکام |
سوال
رِبا/سود کے بارے میں شرعی احکام کیا ہیں ؟ کیااس میں رعایت کی کوئی گنجائش ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
شریعت میں سود لینا اور دینا اور اس میں واسطہ بننا حرام ہے۔ اس میں کسی قسم کی رعایت نہیں ہے، لہذا ہر صورت میں سود سے بچنا ضروری ہے۔اس پر قرآن وحدیث میں سخت وعیدیں وارد ہیں۔واضح رہے کہ اللہ سبحانہ وتعالی سود خور کے بارے میں فرماتے ہیں کہ"جو لوگ سود کھاتے ہیں وہ (قیامت کے دن)اس شخص کی طرح اٹھیں گے جسے شیطان نے جنون کے باعث پاگل کر دیا ہو۔ یہ اس لیے کہ وہ کہتے ہیں کہ تجارت بھی تو سود ہی کی مانند ہے، حالانکہ اللہ تعالی نے تجارت کو حلال کیا ہے اور سود کو حرام قرار دیا ہے"۔اور دوسری آیات میں فرماتے ہیں کہ "اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور اگر تم واقعی مؤمن ہوتو جو سود باقی رہ گیا ہے اسے چھوڑ دو ۔پھر اگر تم نے ایسا نہ کیا تو یقین کر لو کہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے جنگ کے اعلان کا سامنا کرنا پڑے گا"۔اور حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ بیان کرتے ہیں کہ " رسول اللہ ﷺ نے سود کھانے والے، سود دینے والے، اس کے دو گواہوں اور لکھنے والے پر لعنت فرمائی"۔
حوالہ جات
سورة البقرۃ: (275)
قوله تعالى: {الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرِّبَا لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَانُ مِنَ الْمَسِّ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا إِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الرِّبَا وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا ...}
سورت آل عمران 🙁 130)
"يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا الرِّبَا أَضْعَافًا مُضَاعَفَةً وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ"
سورۃالبقرۃ : (278)
{يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ. فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ...}
صحيح البخاري (3/ 60)
"نهى النبي صلى الله عليه وسلم عن ثمن الكلب وثمن الدم، ونهى عن الواشمة والموشومة، وآكل الربا وموكله، ولعن المصور".
سنن الترمذي ت شاكر (3/ 504)
عن ابن مسعود قال: «لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا، وموكله، وشاهديه، وكاتبه». (حديث عبد الله حديث حسن صحيح).
الهداية في شرح بداية المبتدي (3/ 60)
قال: "الربا محرم في كل مكيل أو موزون إذا بيع بجنسه متفاضلا" فالعلة عندنا الكيل.
المبسوط للسرخسي (12/ 109)
الربا: هو الفضل الخالي عن العوض المشروط في البيع؛ لما بينا: أن البيع الحلال مقابلة مال متقوم بمال متقوم فالفضل الخالي عن العوض إذا دخل في البيع كان ضد ما يقتضيه البيع فكان حراما شرعا، واشتراطه في البيع مفسد للبيع. ..وقد ذكر الله تعالى لآكل الربا خمسا من العقوبات (أحدها:) التخبط قال الله تعالى: {لا يقومون إلا كما يقوم الذي يتخبطه الشيطان من المس.} [البقرة: 275]...(والثاني): المحق قال الله تعالى: {يمحق الله الربا} [البقرة: 276].(والثالث): الحرب. قال الله تعالى: {فأذنوا بحرب من الله ورسوله.} [البقرة: 279] والمعنى من القراءة بالمد: أعلموا الناس أكلة الربا أنكم حرب الله ورسوله بمنزلة قطاع.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 168)
الربا ... فالظاهر من كلام المصنف تعريف ربا الفضل، لأنه هو المتبادر عند الإطلاق، ولذا قال في البحر فضل أحد المتجانسين. نعم هذا يناسب تعريف الكنز بقوله فضل مال بلا عوض في معاوضة مال بمال اهـ .فإن الأجل في أحد العوضين فضل حكمي بلا عوض، ولما كان الأجل يقصد له زيادة العوض كما مر في المرابحة صح وصفه بكونه فضل مال حكما تأمل.
محمد شاہ جلال
دار الافتاء، جامعۃ الرشید، کراچی
17/جماد الاولی1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد شاہ جلال بن خلیل حولدار | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


