| 88957 | نماز کا بیان | امامت اور جماعت کے احکام |
سوال
عذرکی وجہ سےکسی سٹور والےمصلی میں باجماعت نماز ادا کرتے ہیں،اب مصلی میں جماعت قائم ہونے کی وجہ سے دوسرے لوگ، جن کا کوئی عذر نہیں ہے وہ بھی اس جماعت میں شریک ہوجائیں تو اس کا کیا حکم ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ مسجد میں جا کر باجماعت نماز پڑھنا سنت مؤکدہ(واجب کے قریب)ہے۔ بڑی جماعت کےساتھ نماز پڑھنے کی فضیلت زیادہ ہے،اور ثواب بھی زیادہ ملتا ہے۔مسلسل مسجد کے باہر نماز پڑھنا اور سستی کی وجہ سے جماعت میں شریک نہ ہونےکی بالکل اجازت نہیں ہے۔ جو لوگ شرعا معقول عذر کی وجہ سےمصلی میں نماز پڑھ رہے ہیں ، ان کے ساتھ ان لوگوں کو نماز نہیں پڑھنی چاہیےجن کا کوئی عذر نہیں ہےبلکہ انہیں مسجد میں جا کر باجماعت نماز ادا کرنی چاہیے۔اس میں ثواب بھی زیادہ ملےگا اورجو وعید مسجد میں باجماعت نماز نہ پڑھنے والوں کے بارے میں جناب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ارشاد فرمائی گئی ہے اس سے بھی حفاظت ہو جائےگی۔
حوالہ جات
سنن أبي داود ت الأرنؤوط (1/ 419)
عن أبي هريرة قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: "صلاة الرجل في جماعة تزيد على صلاته في بيته وصلاته في سوقه خمسا وعشرين درجة، ...ثم لم يخط خطوة إلا رفع له بها درجة، أو حط بها عنه خطيئة، حتى يدخل المسجد..."
المحيط البرهاني في الفقه النعمان(428/1)
الجماعة سنّة لا يجوز لأحد التأخر عنها إلا بعذر، والأصل فيه قوله عليه السلام: «لقد هممت أن آمر رجلاً يصلي بالناس وأنظر إلى أقوام تخلفوا عن الجماعة فأحرق بيوتهم» ، ومثل هذا الوعيد إنما يلحق تارك الواجب أو تارك السنّة المؤكدة، والجماعة ليست بواجبة فعلم أنها سنّة مؤكدة؛ ولأنها من أعلام الدين...
المحیط البرھانی فی الفقہ النعمانی(1/211)
وقال أبو یوسف رحمہ اللہ تعالی:سألت أبا حنیفۃ رحمہ اللہ تعالی عن الأمطاروالأرداغِِ،أیأتی فیہا المساجد؟اویصلی فیہا المنازل؟فقال: ماأحب أن یترکوا حضور المساجد،قال أبو یوسف رحمہ اللہ تعالی:هذاأحسن ماسمعنا فیہ.
محمد شاہ جلال
دار الافتاء، جامعۃ الرشید، کراچی
16/جماد الاولی 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد شاہ جلال بن خلیل حولدار | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


