03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
جنات کے اثر کی صورت میں حرمت مصاہرت کا حکم
88985نکاح کا بیانحرمت مصاہرت کے احکام

سوال

میری شادی اپنے تایا زاد سے ہوئی ہے۔ میرے سسر نے سوتے وقت میرے شرم گاہ کو ہاتھ لگایا ،اس کے علاوہ جب میں کمرے میں اکیلی ہوتی تو زبردستی میرے کمرے میں آکر میرے چہرے کا بوسہ لیتے تھے۔ میں نے یہ بات اپنے شوہر کو بتائی تو اُنہوں نے اپنے والد سے پوچھنے پر انہوں نے کہا کہ یہ سب میرے بجائے جنات نے کیا  ہے۔کیا یہ کام واقعی جنات کا ہوسکتا ہے؟ اور اس سے کیا مذکورہ عورت  اپنے شوہر کے لیے حرام ہوگئی ؟ ہمارے گھر میں کچھ عرصے سے جنات اور جادو کے اثرات کی پریشانیاں چل رہی ہیں۔ کبھی گھر میں عجیب آوازیں سنائی دیتی ہیں، کبھی بچوں کو تکلیف ہوتی ہے، اور خاص طور پر میری بہو کو اکثر اذیت اور خوف کا سامنا رہتا ہے۔ ایک بار تو جنات کے حملے سے میری بینائی چلی گئی اور دھکا لگنے سے میری ٹانگ بھی ٹوٹ گئی، البتہ ٹانگ ٹھیک ہونے کے بعد اللہ کے فضل سے بینائی واپس آ گئی۔اسی دوران ایک دن میری بہو نے میرے بیٹے سے کہا کہ سسر میرے ساتھ غلط حرکات کرتے ہیں۔جیسا کہ اوپر سوال میں ذکر ہوا ہے۔ یہ بات سن کر میرا بیٹا بہت پریشان ہوا اور مجھے بتایا، جس کے بعد گھر میں مزید بے چینی پھیل گئی۔ ہم نے فوراً ایک عامل سے رابطہ کیا۔ اس نے حساب دیکھ کر بتایا کہ کسی شخص نے تم پر جادو اور تعویذات کیے ہیں تاکہ تمہارے بیٹے کا گھر برباد ہو جائے۔ اس جادو کے اثر سے ایک ہم شکل جنات یہ سب کر رہا ہے، تمہارا اس میں کوئی قصور نہیں۔میں اللہ کو حاضر ناظر مان کر  اس بات کی قسم اٹھانے کو تیار ہوں  کہ اس معاملے میں میرا کوئی قصور نہیں ہے۔اپنے بے گناہی کے اثبات کے لیے میں قرآن پاک کی قسم اٹھانے  اور  اپنی بیوی کو طلاق دینے  کے لیے تیار ہوں ۔ عامل کے مطابق، جنات اس قسم کے افعال کر سکتے ہیں، اور اُس نے ہمیں مشورہ دیا ہے کہ ہم دوسرا گھر لے کر وہاں شفٹ ہو جائیں اور اتار وغیرہ کروائیں۔ میری ممانی روزانہ جنات کو دیکھتی ہیں، اور انہوں نے بھی گھر چھوڑنے کا مشورہ دیا ہے۔ میری بہو نے بھی خود اپنی آنکھوں سے ایک جن کو میری بیٹی کی شکل میں دیکھا ہے۔میں ہر طرح برات  دینے کے لیے تیار ہوں کہ یہ سب میرے ہاتھوں سے نہیں بلکہ جناتی اثرات کے تحت ہو رہا ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر فراہم کردہ  معلومات درست ہیں اور مذکورہ واقعے کے پیش ہونے پر سب کا اتفاق ہے تو حرمت مصاہرت ثابت ہوجائے گی۔کیونکہ حرمت مصاہرت کا تعلق خاص قسم کے واقعات کے ثبوت پر ہوتا ہے ۔ قصد ہونا یا نہ ہونا اس کے لیے اہم نہیں ہوتا۔

حوالہ جات

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (3/ 33):

وثبوت الحرمة  بلمسها مشروط بأن  يصدقها، و يقع في أكبر   رأيه صدقها  وعلى   هذا ينبغي أن يقال في مسه  إياها لا تحرم على أبيه وابنه  إلا أن يصدقاه.

المحيط  البرهاني (3/ 64):

«وقال أصحابنا رحمهم الله: وتثبت الحرمة بالتقبيل والمس والنظر إلى  الفرج بشهوة في جميع النساء؛ الدميمة وغيرها في ذلك سواء، بخلاف    العقد»

الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (1/ 276):

رجل قبل امرأة أبيه بشهوة أو قبل الأب امرأة ابنه بشهوة وهي مكرهة وأنكر الزوج أن يكون بشهوة فالقول قول الزوج، وإن صدقه الزوج وقعت الفرقة ويجب المهر على الزوج ويرجع بذلك على الذي فعل إن تعمد الفاعل الفساد، وإن لم يتعمد؛ لا يرجع وفي الوطء لا يرجع وإن تعمد بالوطء الفساد؛ لأنه وجب الحد والمال مع الحد لا يجتمع.

المحيط البرهاني (3/ 65):

وكذلك إذا قبلها ثم قال: لم تكن عن شهوة، أو لمسها أو نظر إلى فرجها (وقال) : لم يكن عن شهوة فقد ذكر الصدر الشهيد رحمة الله: أن في القبلة يفتى ثبوت الحرمة ما لم يتبين أنه قبل بغير شهوة، وفي المس والنظر إلى الفرج لا يفتى بالحرمة، إلا إذا تبين أنه فعل بشهوة؛ لأن الأصل في التقبيل الشهوة، بخلاف المس والنظر.

لقط المرجان في أحكام الجان:30

قال الثعلبي :زعموا ان التناكح والتلاقح قد يقعان بين الإنس والجن.

لقط المرجان في أحكام الجان:32

أخرج ابن عساكر ، عن الحسن : أنه سئل عن ملكة سبأ ، فقال : إن أحد أبواها جنى، فقال : الجن لا يتوالدون ، أى أن المرأة لا تلد من الجن .وأخرج الحكيم الترمذى فى نوادر الأصول عن عائشة : أن رسول الله ﷺ قال : وإن منكم مغربين ،قيل : يا رسول الله ، وما المغربون ؟ قال :الذين يشترك فيهم الجن ، قال ابن الأثير فى النهاية : سموا مغربين لأنهم دخل فيهم عرف غريب ، أو جاءوا من نسب بعيد . وقيل : أراد بمشاركة الجن فيهم : أمرهم إياهم بالزنى ، ومنه قوله تعالى 🙁 وشاركهم في الأموال والأولاد).

اسفندیارخان بن عابد الرحمان

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

18/جمادی   الاولی 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

اسفندیار خان بن عابد الرحمان

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب