| 89059 | زکوة کابیان | سونا،چاندی اور زیورات میں زکوة کے احکام |
سوال
مفتی صاحب میں نے سنا ہے کہ جس شخص کے پاس جتنے بھی پیسے ہوں، اگر اُس پر سال گزر جائے تو اُس پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے، اگر ایک ہزار روپے بھی کسی کے پاس ہوں تو زکوٰۃ واجب ہوتی ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
زکوٰۃ ہر آدمی پرفرض نہیں، صرف اس پر فرض ہے جو صاحب نصاب ہو۔ اگر کسی کے پاس سونا، چاندی نہیں صرف نقدی ہے تو وہ اس دن صاحب نصاب ہوگا جب پہلی دفعہ اس کے پاس موجود نقدی ساڑھے باون تولے چاندی کی قیمت کے برابر ہوجائے، پھر اس پر سال گزرنے کی صورت میں زکوٰۃ واجب ہوگی۔جبکہ سوال میں ایک ہزار روپے کے بارے میں پوچھا گیا ہے، صرف ایک ہزار سے آدمی پر زکوٰۃ واجب نہیں ۔ ہاں اس کے ساتھ سونا، چاندی یا مال تجارت میں سے کچھ ہو اور انکی مجموعی رقم ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر یا اس سے زائد ہو تو اس پر ایک قمری سال گزرنے کے بعد زکوٰۃ واجب ہوگی۔
حوالہ جات
الدر المختار مع رد المحتار (3/173)
وشرط افتراضها عقل وبلوغ وإسلام وحرية وسببه ملك نصاب حولي تام فارغ عن دين له مطالب من جهة العباد و عن حاجته الأصلية نام ولو تقديرا.
رد المحتار علی الدر المختار (3/224)
(نصاب الذهب عشرون مثقالا والفضة مائتا درهم كل عشرة) دراهم (وزن سبعة مثاقيل) والدينار عشرون قيراطا، والدرهم أربعة عشر قيراطا، والقيراط خمس شعيرات، فيكون الدرهم الشرعي سبعين شعيرة والمثقال مائة شعيرة، فهو درهم وثلاث أسباع درهم، وقيل يفتى في كل بلد بوزنهم وسنحققه في متفرقات البيوع (والمعتبر وزنهما أداء ووجوبا) لا قيمتهما.
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2/16)
أما الأثمان المطلقة وهي الذهب والفضة أما قدر النصاب فيهما فالأمر لا يخلو إما أن يكون له فضة مفردة أو ذهب مفرد أو اجتمع له الصنفان جميعا، فإن كان له فضة مفردة فلا زكاة فيها حتى تبلغ مائتي درهم وزنا وزن سبعة فإذا بلغت ففيها خمسة دراهم لما روي أن رسول الله صلى الله عليه وسلم لما كتب كتاب الصدقات لعمرو بن حزم ذكر فيه الفضة ليس فيها صدقة حتى تبلغ مائتي درهم فإذا بلغت مائتين ففيها خمسة دراهم.
فتح القدير للكمال بن الهمام - ط الحلبي (2/ 208)
(ليس فيما دون مائتي درهم صدقة) لقوله عليه الصلاة والسلام ''ليس فيما دون خمس أواق صدقة'' والأوقية أربعون درهما (فإذا كانت مائتين وحال عليها الحول ففيها خمسة دراهم) ''لأنه عليه الصلاة والسلام كتب إلى معاذ رضي الله عنه أن خذ من كل مائتي درهم خمسة دراهم، ومن كل عشرين مثقالا من ذهب نصف مثقال''.
زبیر احمد بن شیرجان
دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی
20/05/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | زبیر احمد ولد شیرجان | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


