03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ایک گواہ کی موجودگی میں ایجاب وقبول کرنا
89040نکاح کا بیاننکاح کے منعقد ہونے اور نہ ہونے کی صورتیں

سوال

میں نے  ایک لڑکی کےساتھ  اس   طرح نکاح کیا کہ اس کی فیملی کو اس کا علم نہیں تھااور میری طرف سے صرف ایک دوست بطورِ گواہ موجود تھا۔ ہم دونوں نے ایجاب و قبول کہا اور اپنے آپ کو میاں بیوی سمجھا۔ بعد میں جب معلوم ہوا کہ یہ نکاح شرعی طور پر درست نہیں ہوا، تب تک ہمارے درمیان تعلق قائم ہو چکا تھا۔ میں اپنی غلطی پر شرمندہ ہوں، میں نے توبہ بھی کر لی ہے، لیکن اب بھی مجھے اللہ کا بہت خوف ہے۔ کیا اللہ تعالیٰ مجھے معاف فرما دیں گے؟ اگر میں دل سے سچی توبہ کر لوں، جب کہ وہ لڑکی کہتی ہے کہ جب تک وہ مجھے معاف نہیں کرےگی اللہ بھی معاف نہیں کرے گا۔

      تنقیح:سائل نےفون پربتایا کہ لڑکی نے میرے دوست کے سامنےبطور ایجاب کہامیں اپنا نکاح تمہارے ساتھ کرتی  ہو ںکیا آپ کو قبول ہے؟ میں نے تین بار کہاں قبول ہے،اس وقت میرے دوست کے علاوہ کوئی دوسراگواہ موجودنہیں تھا۔نیز سائل نے یہ بھی بتایا کہ دونوں خاندان  کفو (دین داری ،مالداری  اور پیشہ وغیرہ میں) برابرہیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سائل کا بیان اگر حقیقت پر مبنی ہے توان کا یہ نکاح درست نہیں ہوا کیونکہ نکاح کےصحیح ہونےکے لیے دومرد یا ایک مرداور دو عورتوں کا  گواہ ہوناشرط ہے، جبکہ اس نکاح میں گواہوں کی تعداد پوری نہیں  لہذا دونوں  پر لازم ہےکہ وہ فوری طورپرالگ ہوجائیں اور اپنے اس عمل پر ندامت کےساتھ ساتھ صدقِ دل سے توبہ اورکثرت سےاستغفارکریں اور  اللہ تعالی سےتوبہ و استغفارکی قبولیت کی امید رکھیں۔

          آئندہ اگرنکاح کرنا چاہتےہوں تو بہترصورت یہی ہےکہ والدین کی اجازت واعتمادسےنکاح کریں ۔تاہم دونوں خاندان ہم پلہ ہونےکی صورت میں اگر والدین کی اجازت کےبغیر شرعی گواہوں کی موجودگی میں ازسرنونکاح کرلیں تو بھی درست ہوجائےگا۔

          یادرہےکہ ایسےخفیہ نکاح اکثر ناکام ہوجاتےہیں ۔خاص طورپراگرلڑکاوفانہ کرےتولڑکی کی زندگی تباہ ہوجاتی ہے۔

حوالہ جات

الهداية في شرح بداية المبتدي: (1/ 185)

ولا ينعقد نكاح المسلمين إلا بحضور شاهدين حرين عاقلين بالغين مسلمين رجلين أو رجل وامرأتين عدولا كانوا أو غير عدول أو محدودين في القذف " قال رضي الله عنه اعلم أن الشهادة شرط في باب النكاح لقوله عليه الصلاة والسلام " لا نكاح إلا بشهود ".

     حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي: (3/ 21)

 (و) شرط (حضور) شاهدين (حرين) أو حر وحرتين (مكلفين سامعين قولهما معا).

فتح القدير للكمال بن الهمام - ط الحلبي: (3/ 199)

وروى الترمذي من حديث ابن عباس ‌البغايا ‌اللاتي ‌ينكحن أنفسهن بغير شهود.

 البحر الرائق شرح كنز الدقائق: (3/ 87)

يستحب ‌أن ‌يكون ‌النكاح ‌ظاهرا، وأن يكون قبله خطبة، وأن يكون عقده في يوم الجمعة، وأن يتولى عقده ولي رشيد، وأن يكون بشهود عدول منها.

رشيدخان

دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی

20/جمادی الاولی 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

رشید خان بن جلات خان

مفتیان

شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب