| 89058 | پاکی کے مسائل | نجاستوں اور ان سے پاکی کا بیان |
سوال
اگر کوئی شخص چارپائی پر سورہا ہو اور اسے احتلام ہوجائے تو جس چادر پر سویا ہوا ہے یا جس کمبل کو اوڑھا ہوا ہے وہ کب ناپاک ہوگا؟
اگر رات کو پہنے ہوئے کپڑوں میں احتلام ہوجائے تو کیا وہی کپڑے بغیر دھوئے دوبارہ رات کو پہن سکتا ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
جب تک چادر یاکپڑوں پر نجاست نہ لگے انہیں پاک تصور کیا جائے گا۔
رات کو احتلام کی وجہ سے گندے ہونے والے کپڑے پر لگی نجاست اگر خشک نہیں ہوئی تو وہ کپڑے نہ پہنے تاکہ نجاست کا اثر دیگر کپڑوں اور بدن تک نہ چلا جائے۔ تاہم اگر نجاست خشک ہوچکی ہے تو بغیر دھوئے رات کو دوبارہ پہننا جائز ہے، اگرچہ اس صورت میں بھی بدلنا بہتر ہے۔
حوالہ جات
الدر المختار مع رد المحتار: (1/559)
(يجوز رفع نجاسة حقيقية عن محلها) ولو إناء أو مأكولا علم محلها أو لا (بماء لو مستعملا) به يفتى (وبكل مائع طاهر قالع) للنجاسة ينعصر بالعصر (كخل وماء ورد) .....(ويطهر مني) أي: محله (يابس بفرك) ولا يضر بقاء أثره (إن طهر رأس حشفة) كأن كان مستنجيا بماء.
الفتاوی الہندیہ: (1/49)
ومنها الفرك في المني: المني إذا أصاب الثوب فإن كان رطبا يجب غسله وإن جف على الثوب أجزأ فيه الفرك استحسانا. كذا في العناية والصحيح أنه لا فرق بين مني الرجل والمرأة وبقاء أثر المني بعد الفرك لا يضر كبقائه بعد الغسل. هكذا في الزاهدي.
فتح القدیر: (1/197)
والمنی نجس یجب غسلہ إن کان رطبا(فإذا جف علی الثوب أجزا فیہ الفرک) لقولہ ﷺ لعائشۃ ؓ :'' فاغسلیہ إن کان رطبا و افرکیہ إن کان یابسا'' ْوقال الشافعیؒ: المني طاھر، والحجۃ علیہ مارویناہ، وقال علیہ السلام:'' إنما یغسل الثوب من خمس''، وذکر منھا ''المني''، ولوأصاب البدن، قال مشایخناؒ: یطھر بالفرک، لإن البلویٰ فیہ أشد.
زبیر احمد بن شیرجان
دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی
20/05/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | زبیر احمد ولد شیرجان | مفتیان | شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب |


