03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
احتلام کے بعد بستر اور کپڑوں کے نجاست کے احکام
89058پاکی کے مسائلنجاستوں اور ان سے پاکی کا بیان

سوال

اگر کوئی شخص چارپائی پر سورہا ہو اور اسے احتلام ہوجائے تو جس چادر پر سویا ہوا ہے یا جس کمبل کو اوڑھا ہوا ہے وہ کب ناپاک ہوگا؟

اگر رات کو پہنے ہوئے کپڑوں میں احتلام ہوجائے تو کیا وہی کپڑے بغیر دھوئے دوبارہ رات کو پہن سکتا ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

جب تک چادر یاکپڑوں پر نجاست نہ لگے انہیں پاک تصور کیا جائے گا۔

رات کو احتلام کی وجہ سے گندے ہونے والے کپڑے پر لگی نجاست اگر خشک نہیں ہوئی تو وہ کپڑے نہ پہنے تاکہ نجاست کا اثر دیگر کپڑوں اور بدن تک نہ چلا جائے۔ تاہم اگر نجاست خشک ہوچکی ہے تو بغیر دھوئے رات کو دوبارہ پہننا جائز ہے،  اگرچہ اس صورت میں بھی بدلنا بہتر ہے۔

حوالہ جات

الدر المختار مع رد المحتار: (1/559)

 (يجوز رفع نجاسة حقيقية عن محلها) ولو إناء أو مأكولا علم محلها أو لا (بماء لو مستعملا) به يفتى (وبكل مائع طاهر قالع) للنجاسة ينعصر بالعصر (كخل وماء ورد) .....(ويطهر مني) أي: محله (يابس بفرك) ولا يضر بقاء أثره (إن طهر رأس حشفة) كأن كان مستنجيا بماء.

الفتاوی الہندیہ: (1/49)

ومنها الفرك في المني: ‌المني إذا أصاب الثوب فإن كان رطبا يجب غسله وإن جف على الثوب أجزأ فيه الفرك استحسانا. كذا في العناية والصحيح أنه لا فرق بين مني الرجل والمرأة وبقاء أثر المني بعد الفرك لا يضر كبقائه بعد الغسل. هكذا في الزاهدي.

فتح القدیر: (1/197)

والمنی نجس یجب غسلہ إن کان رطبا(فإذا جف علی الثوب أجزا فیہ الفرک) لقولہ ﷺ لعائشۃ ؓ :'' فاغسلیہ إن کان رطبا و افرکیہ إن کان یابسا'' ْوقال الشافعیؒ: المني طاھر، والحجۃ علیہ مارویناہ، وقال علیہ السلام:'' إنما یغسل الثوب من خمس''، وذکر منھا  ''المني''، ولوأصاب البدن، قال مشایخناؒ: یطھر بالفرک، لإن البلویٰ فیہ أشد.

زبیر احمد بن شیرجان

دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی

20/05/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

زبیر احمد ولد شیرجان

مفتیان

شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب