03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
طلاق دینے والے کے اقرار اور اس کے خلاف گواہی کی موجودگی میں کس کا اعتبار ہوگا؟
89028طلاق کے احکامطلاق سے رجو ع کا بیان

سوال

تنقیح شدہ سوال:

     ایک شخص کی شادی کو نو سال گزر چکے تھے۔ گھریلو اختلافات کی وجہ سے شوہر روزگار کے سلسلے میں سعودی عرب میں مقیم تھا، جبکہ بیوی پاکستان میں رہتی تھی۔ فریقین کے درمیان خاندانی سطح پر بات چیت اور مشاورت (جرگہ) کے دوران شوہر نے فون کال پر کہاکہ"میں نے اپنی بیوی کو طلاق دی۔"اس وقت کال سننے والے کے ساتھ ایک اور شخص بھی موجود تھا جس نے یہ بات سنی۔ بعد ازاں شوہر نے عدت کے اندر اپنی بیوی سے رجوع کرلیا۔ کچھ عرصہ بعد وہی دونوں اشخاص گواہی دینے لگے کہ شوہر نے تین طلاقیں دی تھیں، حالانکہ شوہر کے رجوع سے پہلے انہوں نے تین طلاق کا کوئی ذکر نہیں کیا تھا۔ مزید یہ کہ عورت کی عدت کے دوران انہی گواہوں کی طرف سے نکاح کے پیغامات بھیجے گئے، جنہیں رد کردیا گیا۔

   شوہر قسم کھا کر کہتا ہے کہ اس نے صرف ایک طلاق دی تھی، اور یہی الفاظ استعمال کیے تھے :"میں نے ایک طلاق دی" یا "میں ایک طلاق دیتا ہوں"۔رجوع کے دو دن بعد بیوی اپنے میکے چلی گئی۔ ایک مہینہ بعد شوہر دوبارہ سعودی عرب چلا گیا اور وہاں سے فون پر کہا:"اب تمہیں حلالہ کرانا ہوگا۔"

  اب سوال یہ ہے کہ جب شوہر قسم کھا کر ایک طلاق دینے کا اقرار کر رہا ہے، اور اس کے خلاف تین طلاق دینے پر دو گواہ موجود ہیں، تو شرعاً گواہی کا کیا اعتبار ہوگا؟کتنی طلاق واقع ہوئی؟کیا رجوع درست ہوا یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

      صورت مسئولہ میں شوہراقرار کرتا ہے  کہ اس نے ایک طلاق دی تھی اور رجوع بھی کر لیا ہے۔بیوی کی جانب سے اس کے خلاف تین طلاق کا کوئی دعویٰ موجود نہیں۔نیز  اگر بالفرض مذکورہ دوگواہوں میں سے کسی ایک کو مدعی مان لیا جائے تو بھی نصاب شہادت (دو گواہوں) کی تکمیل نہیں ہوتی۔لہٰذا بہر صورت تین طلاق کی گواہی معتبر نہیں، اور نکاح  برقرار ہے۔البتہ چونکہ یہ ساری زندگی کے حلال و حرام کا معاملہ ہے، اس لیے شوہر کو چاہیے کہ وہ اپنے اقرار پر دوبارہ غور کرے۔اگر اسے یقین و اطمینان ہے کہ اس نے صرف ایک طلاق دی تھی،تو محض گواہوں کی گواہی یا دعوے سے اس کے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

حوالہ جات

    المحيط البرهاني في الفقه النعماني (8/ 311)

"يجب أن يعلم أن العدالة شرط لتصير الشهادة واجبة القبول؛ لأنه ما لم يظهر الحق عند القاضي للمدعي لا يجوز له القضاء به، فضلاً عن الوجوب، وظهور الحق بالشهادة باعتبار صدق الشهود، ودليل صدق الشهود العدالة.

البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (7/ 204)

(قوله ولا ترد يمين على مدع) لقوله - عليه السلام - «البينة على المدعي واليمين على من أنكر» قسم والقسمة تنافي الشركة وجعل جنس الأيمان على المنكرين، وليس وراء الجنس شيء...

المحيط البرهاني في الفقه النعماني (8/ 458)

"والشهود إذا شهدوا بأكثر مما ادعاه المدعي لا تقبل شهادتهم، لأن المدعي يصير مكذباً شهوده في بعض ما شهدوا به وهو الزيادة على ما ادعى، وتكذيب المدعي شهوده في بعض ما شهدوا به يمنع قبول الشهادة.

الهداية في شرح بداية المبتدي (2/ 254)

" وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض " لقوله تعالى: {فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ} [البقرة: 231]

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 472)

(قوله بل لتهمة إلخ) ومن التهمة المانعة أن يجر الشاهد بشهادته إلى نفسه نفعا أو يدفع عن نفسه مغرما خانية، فشهادة الفرد ليست مقبولة لا سيما إذا كانت على فعل نفسه هداية، كذا في الهامش.

 محمد شاہ جلال

دار الافتاء، جامعۃ الرشید، کراچی

21/جماد الاولی /1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد شاہ جلال بن خلیل حولدار

مفتیان

شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب