03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
وکیل کا کوئی چیز خرید کر مؤکل کو نفع کےساتھ بیچنا
89034وکیل بنانے کے احکاممتفرّق مسائل

سوال

میں بلڈنگ کنسٹریکشن کے کام میں اپنے کزن کے پاس کام کرتا ہوں، اس پیشے میں میٹیریل کی خریداری میرے ذمہ ہے۔میں میٹیریل منگوا کر دیتا ہوں، اور اپنی کمپنی سے دوکاندار کو پیسے دلوا دیتا ہوں۔  کیا میں اس طرح کر سکتا ہوں کہ وہ میٹیریل دوکاندار سے میں اپنے پیسوں سے خرید کر آگے کمپنی کو اپنا مناسب  نفع  رکھ کر فروخت کر دوں؟ کیا ایسا کرنے سے جو کمائی حاصل ہو گی وہ حلال ہو گی یا سود /حرام ہو گی؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

کمپنی کی طرف سے  کسی ملازم کو متعین چیز کی خریداری کے لیے رکھنا بطور وکیل ہوتا ہے، اور وکیل کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اس چیز کو اپنے لیے خرید کرآگے مؤکل یعنی کمپنی کو بیچے۔   لہذا سائل کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ میٹیریل خود اپنےلیے خرید کر  آگے کمپنی کو  نفع کےساتھ فروخت کرے۔  ایسی صورت میں  جو کمائی حاصل ہوگی وہ بھی جائز نہیں، اور  اسے کمپنی کو واپس کرنا ضروری ہوگا۔

حوالہ جات

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع   ط: دار الكتب العلمية (6/ 31):

"الوكيل بالشراء لا يملك الشراء من نفسه؛ لأن الحقوق في باب الشراء ‌ترجع ‌إلى ‌الوكيل، ‌فيؤدي ‌إلى ‌الإحالة: وهو أن يكون الشخص الواحد في زمان واحد مسلما ومتسلما مطالبا ومطالبا؛ ولأنه متهم في الشراء من نفسه."

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع ط: دار الكتب العلمية  (6/ 31):

"والوكيل بشراء شيء بعينه لا يملك أن يشتريه لنفسه، وإذا اشترى يقع الشراء للموكل؛ لأن شراءه لنفسه عزل لنفسه عن الوكالة، وهو لا يملك ذلك إلا بمحضر من الموكل."

      رد المحتار ط الحلبي (5/ 516):

"(هلك المبيع من يده قبل حبسه هلك من مال موكله ولم يسقط الثمن) ؛ لأن يده كيده."

"بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع ط: دار الكتب العلمية  (6/ 29):

وإن اشترى جارية بثمانمائة درهم، ومثلها يشترى بألف، لزم الموكل؛ لأن الخلاف إلى خير لا يكون خلافا معنى.

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع ط: دار الكتب العلمية  (6/ 34):

"أن المقبوض في يد الوكيل بجهة التوكيل بالبيع والشراء وقبض الدين والعين وقضاء الدين - أمانة بمنزلة الوديعة، لأن يده يد نيابة عن الموكل بمنزلة يد المودع، فيضمن بما يضمن في الودائع."

محمد جمال

دار  الافتاء جامعۃ الرشید

20/جمادی الاولی 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد جمال بن جان ولی خان

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب