| 89041 | ایمان وعقائد | ایمان و عقائد کے متفرق مسائل |
سوال
عقیدہ کیا ہونا چاہیے؟ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عالم الغیب ہیں؟
کچھ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو عالم الغیب کہتے ہیں اور بطور دلیل یہ تین آیات پیش کرتے ہیں۔
پہلی آیت: "وَلَوْلَا فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكَ وَرَحْمَتُهُ لَهَمَّت طَائِفَةٌ مِّنْهُمْ أَن يُضِلُّوكَ وَمَا يُضِلُّونَ إِلَّا أَنفُسَهُمْ وَمَا يَضُرُّونَكَ مِن شَيْءٍ وَأَنزَلَ اللَّهُ عَلَيْكَ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَعَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُن تَعْلَمُ وَكَانَ فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكَ عَظِيمًا" (سورۃ النساء، آیت 113)
وہ کہتے ہیں کہ اللہ نے کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سب کچھ سکھا دیا، اب آپ فہرست بنا لیں کہ اللہ نے کیا نہیں سکھایا۔
میں نے جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو غیب کی بہت سی باتوں کا علم دیا ہے مگر مکمل طور پر ہر چیز نہیں، تو وہ کہنے لگے کہ "آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے علم پر شک کر رہے ہیں، ناپ تول کر بات کر رہے ہیں، آپ گستاخ ہیں" اور مجھے کافر بھی کہہ دیا۔
دوسری آیت: "وَمَا هُوَ عَلَى الْغَيْبِ بِضَنِينِ" (سورۃ التکویر، آیت 24)
تیسری آیت: "مَّا كَانَ اللَّهُ لِيَذَرَ الْمُؤْمِنِينَ عَلَى مَا أَنتُمْ عَلَيْهِ حَتَّى يَمِيزَ الْخَبِيثَ مِنَ الطَّيِّبِ وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَيْبِ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَجْتَبِي مِن رُّسُلِهِ مَن يَشَاءُ فَآمِنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ وَإِن تُؤْمِنُوا وَتَتَّقُوا فَلَكُمْ أَجْرٌ عَظِيمٌ" (سورۃ آل عمران، آیت 179)۔
اب مجھے آپ تفصیل سے جواب دیجئے اور کوئی آسان اردو کتاب بھی بتائیے جس کا مطالعہ کر کے میں ایسے لوگوں کو جواب دے سکوں۔ مجھے بہت برا لگا جب اس نے مجھے کافر کہا۔ جزاک اللہ خیراً۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
علم غیب وہ علم ہے جو اسباب اختیار کیے بغیر حاصل ہو۔ اور یہ صرف اللہ تبارک وتعالی کا خاصہ ہے، مخلوق میں کسی کو بھی یہ وصف حاصل نہیں۔
سورۃ النساء کی آیت"وَعَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُن تَعْلَمُ" (ترجمہ: اور آپ کو وہ سب کچھ سکھا دیا جو آپ نہیں جانتے تھے۔) علمِ غیب ثابت نہیں کرتی، بلکہ اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سارا علم اللہ کا سکھایا ہوا (عطائی) ہے۔ یہ کہنا کہ "اللہ نے سب کچھ سکھا دیا" اور پھر یہ کہنا کہ "فہرست بناؤ کیا نہیں سکھایا"، یہ قرآن کی دیگر آیات کے خلاف ہے۔ خود قرآن میں اللہ تعالیٰ نے کئی مقامات پر فرمایا کہ (وحی سے پہلے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فلاں بات کا علم نہیں تھا۔ یہ آیت علم کے دیئے جانے کا ثبوت ہے، خود سے عالم الغیب ہونے کا نہیں۔
سورۃ ال عمران کی آیت "مَا كَانَ اللَّهُ لِيُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَيْبِ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَجْتَبِي مِن رُّسُلِهِ مَن يَشَاءُ" (ترجمہ: اور اللہ کی یہ شان نہیں کہ وہ تم (عام لوگوں) کو غیب پر مطلع کرے، لیکن اللہ اپنے رسولوں میں سے جسے چاہتا ہے، (غیب کی خبر دینے کے لیے) چُن لیتا ہے-)تو خود اس عقیدے کی تردید کر رہی ہے کہ کوئی مخلوق عالم الغیب ہے۔ یہ "اِطلاع علی الغیب" (غیب پر مطلع کرنا) ہے، نہ کہ "علمِ غیبِ کُلّی"۔
اسی طرح سورۃ التکویر کی آیت"وَمَا هُوَ عَلَى الْغَيْبِ بِضَنِينٍ" (ترجمہ: اور وہ (نبی) غیب (کی باتیں بتانے) پر بخیل نہیں ہیں۔) کا مطلب ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وحی کے ذریعے جو غیب کی باتیں معلوم ہوتی ہیں، وہ انہیں امت تک پہنچانے میں بخل (کنجوسی) سے کام نہیں لیتے (جیسا کہ اُس دور کے کاہن کیا کرتے تھے)۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمام غیب جانتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ جو غیب آپ کو بتایا جاتا ہے، وہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) امانت داری سے پہنچا دیتے ہیں۔
یاد رہے کہ تمام اہل السنت والجماعت کا اجماعی اور متفقہ علیہ عقیدہ ہے کہ علم غیب حق تعالی جل شانہ کی مخصوص صفت ہے اور قرآن پاک کی آیات سے صراحۃ ثابت ہے کہ اللہ تعالی کے سوا اور کوئی عالم الغیب نہیں ہے ۔البتہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا علم اللہ رب العالمین کے بعد تمام مخلوق سے زیادہ ہے اور اللہ تعالی نے بہت سی غیب کی باتیں بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بتلائی تھی۔ مگر اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا عالم الغیب ہونا یعنی کہ بذات خود بلا اختیار اسباب تمام معلومات کا علم ہونا لازم نہیں آتا،بلکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے علمِ غیب کی نفی کئی آیات و آحادیث میں صراحت کے ساتھ موجود ہے، اللہ تعالیٰ کا فرمان سورۃ الانعام آیت نمبر 50 میں ہے کہ ترجمہ:"آپ کہہ دیجیے کہ میں تمہیں یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں، نہ میں غیب جانتا ہوں، نہ ہی میں تمہیں یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں"۔ اسی طرح سورۃ النمل آیت نمبر 65 میں ہے۔ ترجمہ:" آپ کہہ دیجیے کہ آسمانوں اور زمین میں کوئی بھی غیب نہیں جانتا سوائے اللہ کے"۔ اسی طرح ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا اپنی شادی کا قصہ بیان کرتے ہوئے فرماتی ہیں کہ کچھ بچیاںمیرے باپ اور چچا جو جنگ بدر میں شہید ہوئے تھے ، ان کا مرثیہ پڑھنے لگیں ۔ اتنے میں ان میں سے ایک لڑکی نے پڑھا " اور ہم میں ایک نبی ہے جو ان باتو ں کی خبر رکھتا ہے جو کچھ کل ہونے والی ہیں" ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ شعر پڑھنے سے منع کیا اور فرمایا کہ اس کے سوا جو کچھ تم پڑھ رہی تھیں وہ پڑھو۔
اگر واقعۂ افک جیسے ذاتی کرب، غزوۂ احد جیسے اجتماعی صدمے، اور عرینین جیسے دھوکہ دہی کے معاملات میں بھی اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے فوری طور پر غیب کو ظاہر نہیں فرمایا، تو یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ "عالم الغیب" (ہر چھپی اور کھلی چیز کو ہمیشہ سے جاننے والا) ہونا صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی صفت ہے۔
اس کے علاوہ بھی بہت ساری آیات و احادیث میں یہ پوری وضاحت کے ساتھ آیا ہےکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عالم الغیب نہیں تھے۔لہذا علم الغیب کی نسبت جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کرنا گمراہی ہے، اس سے بہر حال بچنا ضروری ہے۔
مزید یہ کہ عوام الناس کو دینی معاملات میں بحث مباحثہ سے اجتناب کرنا چاہیے ۔بالخصوص عقائد کے مسائل میں اور جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں افراط وتفریط تو نہایت ہی باریک ترین مسئلہ ہے اس میں زبان لڑکھڑانے سے انسان گستاخی کا مرتکب ہوسکتاہے اورکبھی ایسی بات نکل جاتی ہےجس سے اللہ رب العالمین کی صفات میں شرک لازم آجاتا ہے۔ اپنی اصلاح کے لیے علامہ محمدیوسف لدھیانوی شہید رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب اختلاف امت اور صراط مستقیم مطالعہ کرنا چاہیے۔
حوالہ جات
(الأنعام : 50)
قُل لَّا أَقُولُ لَكُمْ عِندِي خَزَائِنُ اللّٰهِ وَلَا أَعْلَمُ الْغَيْبَ وَلَا أَقُولُ لَكُمْ إِنِّي مَلَكٌ
(النمل:65)
قل لَّا يَعْلَمُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ الْغَيْبَ إِلَّا اللّٰهُ
حدثنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ ذَكْوَانَ، قَالَ قَالَتِ الرُّبَيِّعُ بِنْتُ مُعَوِّذٍ ابْنِ عَفْرَاءَ. جَاءَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَدَخَلَ حِينَ بُنِيَ عَلَىَّ، فَجَلَسَ عَلَى فِرَاشِي كَمَجْلِسِكَ مِنِّي، فَجَعَلَتْ جُوَيْرِيَاتٌ لَنَا يَضْرِبْنَ بِالدُّفِّ وَيَنْدُبْنَ مَنْ قُتِلَ مِنْ آبَائِي يَوْمَ بَدْرٍ، إِذْ قَالَتْ إِحْدَاهُنَّ وَفِينَا نَبِيٌّ يَعْلَمُ مَا فِي غَدٍ. فَقَالَ دَعِي هَذِهِ، وَقُولِي بِالَّذِي كُنْتِ تَقُولِينَ.
عن ابن عمر ـ رضى الله عنهما ـ عن النبي صلى الله عليه وسلم قال مفاتيح الغيب خمس لا يعلمها إلا الله، لا يعلم ما تغيض الأرحام إلا الله، ولا يعلم ما في غد إلا الله، ولا يعلم متى يأتي المطر أحد إلا الله، ولا تدري نفس بأي أرض تموت إلا الله، ولا يعلم متى تقوم الساعة إلا الله.
تفسیر جلالین ( 116/6)
(إِنَّكَ أنتَ عَلامُ الغُيُوبِ) ما غاب عن العباد… فعله : غابَ، وعُبِّر به عن اسم الذات لتوكيد المبالغة، أي: الشيء في محل نصب حال. والمهد ما يُمهّد للطفل يستقر فيه وينام . الذي غاب عن حواس المخلوقات وعقولهم.
احکام القران (45/3)
و حاصله : أن الغيب والغائب فى القرآن العزيز أطلق على عدة معان : ففي قوله تعالى:" أم كان من الغائبين" أريد بالغائب هو المعنى اللغوى المعروف، أعنى الغائب عن الحاسة. وفى قوله تعالى: ولا يعلم من في السموات والأرض الغيب إلا الله، وأمثالها مما نحن فيه أريد بالغيب ما لا يقع تحت الحواس، ولا يدرك بالدلائل العقلية أو التجربية والحسابية ، فما أمكن إدراكه بإحدى الحواس أو بالدليل العقلى أو التجربة أو الحساب أو بشئ من الأسباب العادية، أو الطبيعية لم يكن غيباً بهذا المعنى ، وهو المخصوص بذاتـه تعـالى.
قال في النبراس - حاشية شرح العقائد: والتحقيق أن الغيب ما غاب عن الحواس والعلم الضرورى والعلم الاستدلالى، وقد نطق القرآن بنفي علمه عمن سواه تعالى؛ فمن ادعى أنه يعلمه كفر ومن صدق المدعى كفر، وأما ما علم بحاسة أو ضرورة أو دليل فليس بغيب ولا كفر في دعواه، ولا فى تصديقه على الجزم في اليقينى والظن في الظني عند المحققين ، وبهذا التحقيق اندفع الإشكال في الأمور التي يزعم أنها من الغيب ، وليست منه ، لكونها مدركة بالسمع أو البصر أو الدليل. فأحدها : أخبار الأنبياء عليهم السلام ، لأنها مستفادة من الوحى أو من خلق العلم الضرورى منهم ، أو من انكشاف الكوائن على حواسهم …
مجموعة رسائل ابن عابدين (311/2)
ذكر في جامع الفصولين مسألة بالفارسية حاصلها فيما لو تزوجها بلا شهود وقال إن الله ورسوله أو الملك يشهدان أنه يكفر لأنه اعتقد أن الرسول والملك يعلم الغيب ثم استشكل ذلك بما أخبر به صلى الله تعالى عليه وسلم من المغيبات وكذا ما أخبر به عمر وغيره من السلف ثم أجاب بأنه يمكن التوفيق بان المنفى هو العلم بالاستقلال لا العلم بالاعلام او المنفى هو المجزوم لا المظنون.
احکام القراں (52/3)
اختصاصه تعالى بالعلم الكلي المحيط، وامتناعه عن غيره سبحانه وتعالى بالذات او بالواسطه مطلقا، فقد نطقت به نصوص الكتاب والسنة ايضا.
أما الكتاب فقوله تعالى: "يعلم ما في البر والبحر وما تسقط من ورقة إلا يعلمها ولا حبة في ظلمات الأرض ولا رطب ولا يابس إلا في كتاب مبين" (انعام) وقوله تعالى " يا بني إنها إن تك مثقال حبة من خردل فتكن في صخره او في السماوات او في الارض يات بها الله إن الله لطيف خبير" (لقمان) وقال تعالى: " يعلم ما بين ايديهم وما خلف ولا يحيطون بشيء من علمه إلا بما شاء". قال في روح المعاني والعلم ما بين أيديهم وما خلفهم كناية عن إحاطة علمه سبحانه وتعالى، والمعنى: لا يعلم أحد من هؤلاء كنه شيء من معلوماته تعالى إلا بما شاء أن يعلم (روح). وقال: "لا يعزب عن ربك من مثقال ذرة في الأرض ولا في السماء "(يونس) وقال تعالى ليعلموا أن الله على كل شيء قدير وأن الله قد أحاط بكل شيء علما" (الطلاق)، وقال سبحانه وتعالى: " وأحاط بما لديهم واحصى كل شيء عددا" (الجن) وقال الله سبحانه وتعالى: " والله بكل شيء عليم". فهذه الآيات وأمثالها التي يعز إحصائها ناطقة بأن العلم المحيط الكلي بحيث لا يعزب عنه مثقال ذرة إنما هو من صفات الله المخصوصة به الممنوعه عن الخلق كما يناوی عليه سياق هذه الآيات بأجمعها، ونفي مثل هذا العلم عن غير الله تعالى صراحه في بعضها.
وحاصل الكلام: أن المخصوص بذاته جل وعلا هو علم الغيب بلا واسطة، والعلم المحيط الكلي الذي لا يغيب عنه مثقال ذرة مما كان أو يكون مطلقا،وما سوى ذلك فحاصل للأنبياء والأصفياء من عباده باعطائه سبحانه وتعالى. فلا إشكال في الأحاديث التي صح فيها عن نبينا صلى الله عليه وسلم الإخبار عن المغيبات وبذلك صرح المحققون من العلماء۔۔۔
قال العلامة ابن عابدين الشامي بعد نقله في رسالته ۔ سل حسام الهندي ۔ حاصلہ: أن الله سبحانه وتعالى متفرد بعلم الغيب المطلق المتعلق بجميع المعلومات، وإنه إنما يطلع رسله على بعض غيوبه المتعلقة بالرسالة إطلاعا جليا واضحا لا شك فيه بالوحي الصريح، ولا ينافي بذلك ان يطلع بعض اوليائه على بعض ذلك إطلاعا دونه في الرتبه، فمن ادع علم بعض الحوادث الغائبه بالوحي من أهله او بكشف من ذوي الكرامات فهو الصادق، ودعواه جائزه لأن ما اختص به تعالى هو الغيب المطلق على أن ما يدعيه العبد ليس غيبا حقيقه، لانه يكون بإعلام من الله تعالى انتهي.
ظہوراحمد
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
21جمادی الاولی 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | ظہوراحمد ولد خیرداد خان | مفتیان | شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب |


