| 89037 | خرید و فروخت کے احکام | قرض اور دین سے متعلق مسائل |
سوال
تقریبا چھ سال پہلے میرے دادا نے میرے والد صاحب کو 22 لاکھ روپے ادھار دیےتھے، پیسے دینے کے بعد کچھ وقت گزرا تھا کہ دادا نے ابو سے اپنے پیسوں کا مطالبہ کیا، اگر چہ دادا نے ابو سے سارے پیسوں کا مطالبہ نہیں کیا تھا، ابو نے دادا کو جھوٹ کہا کہ میرے پاس پیسے نہیں ہیں،بالآخر پھر ابو نے کسی طرح میری امی کے واسطے سے دادا کو کہا کہ ہم جس گھر میں رہتے ہیں، وہ گھر ہم بیچ دیتے ہیں، پھر آپ کو آپ کے سارے پیسے دے دیں گے، تو دادا نے میری امی کو کہا کہ آپ ان کو کہہ دیجیے کہ وہ گھر نا بیچے، میں وہ پیسے ان کے حصے سے کاٹ دوں گا ۔ تو اگر دادا اپنی زندگی میں اپنے بچوں میں اپنی جائیداد تقسیم کرتے ہیں، تو کیسے تقسیم کریں اور ابو کے پیسے شریعت میں کتنے کٹنے چاہیے ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
آپ کے دادا صاحب اگر اپنی زندگی میں ہی اپنی اولاد میں جائیداد تقسیم کرتے ہیں، تو یہ ہبہ ہوگا۔اگر کوئی وجہ ترجیح موجود نہ ہوتو ضروری ہے کہ وہ اپنی ساری اولاد (چاہے بیٹا ہو یا بیٹی)میں برابر کا حصہ دیں۔ لہذا صورت مسئولہ میں اگر آپ کے دادا صاحب زندگی ہی میں اپنی جائیداد اپنی اولاد میں تقسیم کر تےہیں،تو جتنی رقم دادا صاحب کی آپ کے والد صاحب کے ذمہ قرض ہے اتنی ہی رقم ان کے حصے سے وصول کر لیں اور اس سے زیادہ رقم لینا جائز نہیں ۔
حوالہ جات
الفتاوى العالمكيرية (4/ 391):
"يعطي الابنة مثل ما يعطي للابن، وعليه الفتوى، هكذا في فتاوى قاضي خان وهو المختار، كذا في الظهيرية."
رد المحتار ط: الحلبي (5/ 696):
"فسوى بينهم، يعطي البنت كالابن عند الثاني، وعليه الفتوى."
رد المحتار ط: الحلبي(3/ 840):
(وهبة) الدائن (الدين منه) أي من المديون (ليس بقضاء) لأن الهبة إسقاط لا مقاصة
محمد جمال
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
20/جمادی الاولی 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد جمال بن جان ولی خان | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


