| 89038 | خرید و فروخت کے احکام | قرض اور دین سے متعلق مسائل |
سوال
میرے دادا نے میرے والد صاحب کو 22 لاکھ روپے ادھار دیےتھے، پیسے دینے کے بعد کچھ وقت گزرا تھا کہ دادا نے ابو کو کہا کہ مجھے پیسے دے دو ، ابو نے دادا کو جھوٹ کہا کہ میرے پاس پیسے نہیں، اگر ابو دادا کے مانگنے پر ان کو اپنے پیسے ادا کرتے، مطلب کہ وہ ابو سے جتنے جتنے پیسے مانگتے، ابو انہیں دیتے رہتے اور اگر وہ پیسے کچھ وقت میں ابو دادا کو دے دیتے، مثال کے طور پر اگر 2021 تک ابو دادا کو سارے پیسے دے دیتے، پھر دادا اگر انہی پیسوں سے کوئی کاروبار کرتے، تو ابھی تک ان سے 50 لاکھ کما لیتے ،تو اگر ابو دادا کو وہ پیسے ابھی دیتے ہیں، تو پھر ابو کو دادا کو تقریبا 22 لاکھ روپے دینے چاہیے یا پھر 22 لاکھ سے زیادہ پیسے دینے چاہیے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
آپ کے والد صاحب نے جتنی رقم آپ کے دادا صاحب سے بطور قرض لی تھی، اتنی ہی رقم واپس ادا کرنا ضروری ہے۔ ادائیگی میں کسی بھی سبب سے تاخیر کی وجہ سے زیادہ لینا جائز نہیں۔تاہم اگر دادا کا مطالبہ زیادہ کا نہیں، اور والد صاحب خوش دلی سے زیادہ ادا کرے، تو اس میں کوئی حرج نہیں، بلکہ یہ پسندیدہ عمل ہوگا۔
حوالہ جات
رد المحتار ط : الحلبي (5/ 162):
"وإن استقرض دانق فلوس أو نصف درهم فلوس، ثم رخصت أو غلت ، لم يكن عليه إلا مثل عدد الذي أخذه، وكذلك لو قال: أقرضني عشرة دراهم غلة بدينار، فأعطاه عشرة دراهم، فعليه مثلها، ولا ينظر إلى غلاء الدراهم، ولا إلى رخصها ."
محمد جمال
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
20/جمادی الاولی 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد جمال بن جان ولی خان | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


