| 89043 | ہبہ اور صدقہ کے مسائل | ہبہ کےمتفرق مسائل |
سوال
خیر محمد مرحوم اپنی زندگی میں اپنے بھانجوں کے ساتھ رہائش پذیر تھے۔ کاروبار، کھانا پینا، اور زمین کا کام سب اکھٹے کرتے تھے۔محنت مزدوری کر کے کچھ زمین خرید کی ۔خیرمحمد نےاپنی اہلیہ کو گھریلو ناچاقی کی وجہ سےطلاق دے دی تھی ایک بیٹا تھا جو والدہ کے پاس رہا جوان ہوکر والد کے پاس نہیں آیا خیر محمد بیمار ہوا علاج معالجہ بھانجے کراتے رہے وہ بیٹا قریب بھی نہ آیا ۔خیر محمد نے اپنی زندگی میں نا فرمان بیٹے کو محروم کرنے کے لیے وہ زمین اپنے بھانجوں کے نام انتقال کر دی۔ اب خیر محمد کا ایک بیٹا موجود ہے جو نافرمان تھا۔ کیا خیر محمد کے انتقال کے بعد اس بیٹے کو اس زمین میں کوئی شرعی حق حاصل ہے یا نہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
ہر شخص اپنی زندگی میں اپنی جائیداد کا خود مالک و مختار ہوتا ہے ، وہ اس میں بحالت صحت ہر جائز تصرف کر سکتا ہے ، نیز والدین کی زندگی میں اولاد و غیرہ کا اس کی جائیداد میں حصہ نہیں ہوتا، اور نہ ہی کسی کو مطالبہ کا حق حاصل ہوتاہے ۔اس تفصیل کے بعد صورت مسئولہ میں اگر مرحوم خیر محمدنے باقاعدہ اپنی زندگی میں جائیدادبھانجوں کے نام کرکے انہیں تصرف کااختیار دے دیا تھا تو یہ ہبہ تام ہے ،بیٹے کے لیے جائیداد کا مطالبہ کرنا جائز نہیں ۔
حوالہ جات
وفی العالمکیریۃ :
(الباب الثاني فيما يجوز من الهبة و مالا يجوز، ج : 4 ص :378 ،ط: رشيديه)
"لا يثبت الملك للموهوب له إلا بالقبض هو المختار.
هكذا في الفصول العمادية".
(ردالمحتار:كتاب الهبة ، ج: 5، ص: 688، ط: دار الفكر)
("وشرائط صحتها في الموهوب أن يكون مقبوضاغير مشاع مميزا غير مشغول)".
فی الفتاوی ہندیہ :
(كتاب الهبة، الباب الثاني فيما يجوز من الهبة وما لا يجوز، ج 4، صفحہ: 377، ط: دار الفکر )
ولا يتم حكم الهبة إلا مقبوضة ويستوي فيه الأجنبي والولد إذا كان بالغا، هكذا في المحيط.
( مجمع الأنهر، كتاب الهبة، دار الكتب العلمية بیروت ۳/ ۴۹۷، قدیم : ۲/ ۳۵۸.
وينبغي أن يعدل بين أولاده في العطايا ..
عادل ارشاد
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
۲۲/جمادی الاول/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عادل ولد ارشاد علی | مفتیان | شہبازعلی صاحب / مفتی محمد صاحب |


