03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
اسٹیٹ بینک میں ملازمت کرنے کاحکم
89065اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلکرایہ داری کے متفرق احکام

سوال

میں طالب علم ہوں،مجھے یہ معلوم کرناہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں ملازمت کرناکیساہے؟کیااسلامی لحاظ سے درست ہے یانہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اسٹیٹ بینک حقیقت میں ملکی معیشت کانگران ہے ،اس کی بنیادی ذمہ داری کرنسی نوٹوں کااجراء ،افراط زرکوکنٹرول کرنااورملکی معیشت کے استحکام کے لئے قوانین بناناہے ،ان بنیادی فرائض اورذمہ داریوں کے حساب سے اسٹیٹ بینک میں انجام پانے والے اکثرکام درست ہیں ،البتہ اس کی ذمہ داریوں میں زرکے بہاؤکوکنٹرول کرنااورتمام تجارتی بینکوں کولائسنس جاری کرنااوران کی نگرانی کرنابھی شامل ہے ،جس کی وجہ سے بعض اوقات یہ ادارہ سودی لین دین بھی کرتاہے ،لہذا اسٹیٹ بینک کے ایسے شعبے میں ملازمت جس کاکام سودی لین یاسودی کاموں سے متعلق حسابات رکھناہو،حلال نہیں ،جبکہ ایسے شعبوںمیں ملازمت جائز ہے (اگرچہ اس ملازمت کواختیارنہ کرنازیادہ بہتر ہے )جن کاکام براہ راست سودی لین دین اوراس کی کتابت وغیرہ سے نہیں ہے بشرطیکہ اس بینک کی ملازمت سے مقصداورنیت سودی لین دین میں تعاون کی نہ ہو۔

حوالہ جات

"السابع:ان یؤجرالمرأنفسه للبنک بأن یقبل فیه وظیفة، فإن کانت الوظیفة تتضمن مباشرة العملیات الربویة،أوالعملیات المحرمةالأخری ،فقبول ھذہ الوظیفة حرام ،وذلک مثل التعاقد بالربوااخذاأوعطاء،أوخصم الکمبیالات،أوکتابة ھذہ العقود،اوالتوقیع علیھا،أوتقاضی الفوائد الربویة،أودفعها،أوقیدھا فی الحساب بقصد المحافظات علیھا،أوإدارةالبنک ،أوإدارةفرع من فروعه،فإن الإدارة مسئولة عن جمیع نشاطات البنک التی غالبھاحرام ۔

ومن کان موظفا فی البنک بھذاالشکل ،فإن راتبه الذی یاخذ من البنک کله من الأکساب المحرمةِ۔۔۔۔ أماإذاکانت الوظیفة لیس لھاعلاقة مباشرة بالعملیات الربویة،مثل وظیفة الحارس، أوسائق السیارة،أوالعامل علی الھاتف ،أوالموظف المسئول عن صیانة البناء،أوالمعدات،أوالکھرباء۔۔۔فلایحرم قبولھاان لم یکن بنیة الإعانةعلی العملیات المحرمة،وإن کان الاجتناب عنھاأولی،ولایحکم فی راتبه بالحرمة، لماذکرنامن التفصیل فی الإعانة والتسبب،وفی کون مال البنک مختلطابالحلال والحرام،ویجوزالتعامل مع مثل ھؤلاء الموظفین ھبة أوبیعاأوشراء." (فقه البیوع :2/1066)

محمد اویس

دارالافتاء جامعة الرشید کراچی

۲۴/جمادی الاولی۱۴۴۷ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد اویس صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب