| 89039 | طلاق کے احکام | تین طلاق اور اس کے احکام |
سوال
بسم الله الرحمن الرحيم السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ حضرات علماء کرام ایک سال پہلے کی بات ہے کہ میری ایک لڑکی سے فون پر بات ہوئی تھی اس دوران بیوی کو اس بات کا پتہ چل گیا کہ میری کسی لڑکی سے بات ہوتی ہے اس بات پر میری بیوی کا مجھ سے جھگڑا ہو گیا اور بہت پریشانی ہوئی لیکن پھر ایک شرط پر صلح ہو گئی وہ شرط یہ تھی کہ میں اس کے بعد اگر کسی لڑکی کو فون کروں یا میسج کروں یا کسی قسم کا تعلق رکھوں تو آپ میرے لیے نہیں۔ میری بیوی نے تین طلاق کی شرط رکھی(کہ پھر3 شرطوں پر طلاق، ہمارے عرف میں اس سے مراد 3 طلاقیں ہوتی ہیں) اور اس کا جملہ پورا ہونے سے پہلے میرے زبان سے ہاں نکل گیا، میں چاہ رہا تھا کہ بیوی کسی طرح راضی ہو جائے ۔۔ ورنہ طلاق دینے کا میرا کوئی ارادہ نہیں تھا۔۔ بس پریشانی کی وجہ سے بیوی کے آگے جی جی کرتا رہا ۔ کل مجھ سے پھر غلطی ہوئی اور میں نے ایک لڑکی کو میسج کیا اور بیوی کو پتہ چل گیا ۔ اب میری بیوی کہتی ہے کہ طلاق ہو گئی لیکن میں کہتا ہوں کہ طلاق نہیں ہوئی۔ مہربانی فرما کر مسئلہ کی وضاحت فرمائیں۔
تنقیح: سائل سے فون پر رابطہ ہوا توانہوں نے وہ ریکاڈنگ بھیجی جو شوہر اور بیوی کے درمیان تھی جس کے الفاظ یہ ہیں: میں نے آج کے بعد کسی بھی غیرلڑکی سے فون پریامیسج پررابطہ کیایاتعلق رکھنے کی کوشش کی بے شک وہ جواب نہ دے،توتومیرےسے نہیں ہے، (یہ شوہر کے الفاظ تھے)بیوی نے کہاکہ:"تین شرطوں کی طلاق ہے"،شوہر نے بیوی کےالفاظ(تین شرطوں کی ) کہنے کے ساتھ ہی بیوی کا لفظ ِطلاق کہنے سے پہلے لفظ "ہاں " کہا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت مسئولہ کے مطابق تین طلاقیں واقع ہوکر حرمت مغلظہ ثابت ہوگئی ہے ،لہذافوری علیحدگی اختیارکرناضروری ہے ۔عورت عدت (تین حیض)گزار کر جہاں چاہے شادی کرسکتی ہے۔
حوالہ جات
[البقرة: 230]:
ﵟفَإِن طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُۥ مِنۢ بَعۡدُ حَتَّىٰ تَنكِحَ زَوۡجًا غَيۡرَهُۥۗﵞ
سنن الترمذي (3/45):
عن ابن ماهك عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ثلاث جدهن جد وهزلهن جد: النكاح، والطلاق، والرجعة.
الهداية في شرح بداية المبتدي (1/244):
وإذا أضافه إلى شرط وقع عقيب الشرط مثل أن يقول لامرأته إن دخلت الدار فأنت طالق" وهذا بالاتفاق لأن الملك قائم في الحال والظاهر بقاؤه إلى وقت وجود الشرط فيصح يمينا أو إيقاعا.
الفتاوى التاتارخانية537/5)):
عن ابن سماعة قال :سمعت أبايوسف يقول في رجل قال لامرأةرجل:"إن دخلت هذه الدار فأنت طالق"،فقال الزوج :"نعم"فقد خلف الزوج بذلك كله،فإن دخلت الدار بعد قوله "نعم"فهي طالق.
الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (1/420):
وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق.
الجامع الكبير لمحمد بن الحسن (27):
وقال: إن كلمت فلانا فأنت طالق، لم يقع عليها شيء حتى تكلم فلانا.
الفتاوى التاتارخانية538/5)):
ولوقالت: أناطالق بألف درهم ،فقال الزوج :"نعم"لزمهاتطليقة بألف درهم.
عزیزالرحمن
دار الافتاءجامعۃ الرشید کراچی
25 /جماد ی الاولی1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عزیز الرحمن بن اول داد شاہ | مفتیان | شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب |


