03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کنائی الفاظ سے طلاق واقع ہونے کا حکم
89075طلاق کے احکامالفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان

سوال

شوہر بیوی کو اکثر ناراضگی میں گانا ،شاعری یا کوئی پوسٹ شیئر کرتا ہے، جس کے الفاظ میں اکثر چھوڑ دیا ،آزاد کر دیا جیسے الفاظ ہوتے ہیں۔ مثلاً پھر یوں ہوا کہ ساتھ تیرا چھوڑنا پڑا ۔ہم ایسے لوگوں کو چھوڑ دیتے ہیں۔ایسےلوگوں کوچھوڑ دینا چاہیے ۔ایسے لوگو ں کو آزاد کر دو۔تم جا رہے تھے ہم نے جانے دیا وغیرہ۔تو ان الفاظ سے طلاق ہوتی ہے؟ جبکہ نیت طلاق کی نہیں ہوتی۔

شوہر یہ الفاظ بھی بولتے ہیں : تم تو آزاد عورت ہو،تمہیں تو آزادی چاہیے ،تم اور آزادی کہتی کس کوہو؟، میرا تم پر کوئی حق نہیں ، اور بیوی کہتی ہے :میری جان چھوڑ دو ،میرا پیچھا چھوڑ دو ،شوہر کہتا ہے :میں نے پیچھا چھوڑ دیا ہے ،تم نے اپنا گھر اجاڑ دیا ، تم جیسی عورت کو میں نے نہیں رکھنا، تم نے میرے لیے فیصلہ آسان کر دیا ،میں گندی عورت کو رکھوں گا پر تم جیسی نیک عورت کو نہیں ،اپنا سامان اٹھا کر لے جاؤ، فلاں لوگوں کی وجہ سے تم نے مجھے چھوڑ دیا  تھا میں نے تمہیں چھوڑ دیا  تھا، اور بیوی اکثر طلاق کا مطالبہ کرتی ہےتوشوہر کہتے ہیں  :خلع لے لو۔اور کبھی کہتی ہے: طلاق دو، شوہر کہتا ہے:اچھا ٹھیک ہے ۔اور ان تمام الفاظ سے شوہر کی نیت طلاق کی نہیں ہوتی ،بلکہ ناراضگی یا غصے میں ہو تو بولتے ہیں ۔تو اسکا کیا حکم ہے ؟ کیا ان الفاظ سے طلاق ہوتی ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

ان الفاظ  کا غیر ضروری اور  کثرت سے استعمال انتہائی  نامناسب بات ہے،تاہم صورتِ مسؤلہ میں مذکورہ الفاظ سے طلاق واقع نہیں ہوتی، نکاح برقرار رہتا ہے۔ طلاق واقع ہونے کے لیے ضروری ہے کہ یا تو صریح الفاظ استعمال کیے جائیں، یا کنائی الفاظ کے ساتھ طلاق کی نیت کی جائے۔ جب تک طلاق کی نیت نہ ہوطلاق واقع نہیں ہوتی۔ البتہ اگر کنائی الفاظ ایسے ہوں  جن میں طلاق کے علاوہ کوئی دوسرا  معنیٰ لینا ممکن نہ ہو تو ان  سے بغیر نیت کے بھی طلاق واقع ہو جائے گی۔شوہر کو چاہیے کہ آیندہ ایسے الفاظ  استعمال  نہ کرے جن میں طلاق واقع ہونے کا اندیشہ ہو۔

حوالہ جات

الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية» (1/ 375):

إذا قال لا أريدك أو لا أحبك أو لا أشتهيك أو لا رغبة لي فيك فإنه لا يقع وإن نوى في قول أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - كذا في البحر الرائق...... وفي قوله حبلك على غاربك لا يقع الطلاق إلا بالنية كذا في فتاوى قاضي خان. وانتقلي وانطلقي كالحقي وفي البزازية وفي الحقي برفقتك يقع إذا نوى كذا في البحر الرائق.

المحيط البرهاني» (3/ 231):

في قوله أنت خلية أو ما أشبهها إذا قال لها أنت خلية أو قال برية، أو قال بتة أو قال بائنة، وقال لم أنو به الطلاق فالأصل في جميع ألفاظ الكنايات أنه لا يقع الطلاق إلا بالنية…..أنه ألحق قوله خليت سبيلك لا سبيل لي عليك، لا ملك لي عليك، الحقي بأهلك، فارعتك، سرحتك بقوله خلية، برية وأشباهها فقال لا يصدّق الزوج في القضاء، إذا قال الزوج لم أنوبها الطلاق.

شرح مختصر الطحاوي» للجصاص (5/ 56):

قال أبو جعفر: ومن قال لزوجته: أنت خلية، أو: برية، أو: بائن، أو: بتة، أو: حرام، أو: اعتدي، أو: أمرك بيدك، أو: اختاري، فقالت قد اخترت نفسي، فقال الزوج: لم أرد بذلك طلاقًا، فإن كان في ذكر طلاق: لم يقبل قوله، وكان ذلك طلاقًا بائنًا، غير اعتدي: فإنه رجعي".

قال أبو بكر: إذا لم يكن في ذكر الطلاق: فالقول قوله؛ لأن اللفظ المحتمل للطلاق وغيره لا يوقع به الطلاق إلا بالنية، لما في حديث يزيد بن ركانة من الدلالة عليه، وقد بيناه.

ابن امین صاحب دین

دارالافتاءجامعۃالرشیدکراچی

26/جمادی الاولی /1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

ابن امین بن صاحب دین

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب