03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
جمعہ کے دن کاروبار بند کرنے میں کس مسجد کی اذان معتبر ہوگی؟
89074نماز کا بیانجمعہ و عیدین کے مسائل

سوال

مفتی صاحب ہم دو بھائی ہیں، جمعہ کے دن اذان ہونے پر ایک بھائی محلے کی مسجد میں جمعہ کی نماز ادا کرنے کے لیے جاتا ہے، اس کے  واپس آنے کے بعد میں دوسری  مسجد میں نماز پڑھنے جاتا ہوں جو ہم سے دور ہے،  وہاں کی اذان بعد میں ہوتی ہے۔ ہم کئی سالوں سے اس طرح کر رہے ہیں لیکن اب ایک صاحب نے بتایا کہ یہ ناجائز ہے، کیونکہ علاقے کی کسی بھی مسجد کی اذان ہوجائے تو پھر آ پ کو دکان بند کرنا ہوگا۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

جمعہ کے دن محلے کی جامع مسجد کی اذان کے بعد خریدوفروخت بند کرنا واجب ہے۔ صورت مسؤلہ میں  ایک بھائی کا مسجد جانا اور دوسرے بھائی کا خریدوفروخت جاری رکھنا جائز نہیں۔ محلے کی اذان کے بعد آپ کو اپنی دکان بند کرکے جمعہ پڑھنا چاہیے اورنماز جمعہ کے بعد دوبارہ اپنے کاروبار میں مصروف ہونا چاہیے۔

تاہم اگر دکان بند کرنے میں واضح حرج   ہو تو خریدوفروخت سے گریز کرتے ہوئے صرف دکان کی نگرانی کے لیے ذیل میں مذکور متبادل اختیار کیا جاسکتا ہے۔

  1. ایک بھائی کسی ایسی جگہ جمعہ پڑھ آئے جہاں جمعہ محلے والی مسجد سے پہلے ہوتا ہو اور دوسرا بھائی اپنے محلے کی مسجد میں نماز جمعہ ادا کرنے جائے۔
  2. کسی غیر مسلم ملازم کو اس دوران دکان پر بٹھایا جائے۔
حوالہ جات

معاني القرآن للفراء: (3/ 157)

وقوله تبارك وتعالى ''وَذَرُوا الْبَيْعَ'' : إِذَا [أمر بترك البيع فقد]  أمر بترك الشراء لأن المشتري والبيِّع يقع عليهما البيِّعان، فإذا أذن المؤذن  من يوم الجمعة حرم البيع والشراء .

الأصل للإمام محمد بن الحسن الشیبانی:(4/426)

ألا ترى أن الله تعالى قال في كتابه: {إذا نودي للصلاة من يوم الجمعة فاسعوا إلى ذكر الله ‌وذروا ‌البيع}. أفرأيت من باع في تلك الساعة أيجوز بيعه. ألا ترى أن بيعه جائز في تلك الساعة وقد أساء في ذلك.

الدر المختار مع رد المحتار:(57)

وفی التاترخانیۃ إنما یجیب أذان مسجدہ.

فقہ البیوع للمفتی محمد تقی العثمانی: (2/361)

وقد تعود بعض التجار أنھم لایغلقون محلاتھم التجاریۃ بعد أذان الجمعۃ، ویبررون عملھم بأن أصحاب دکان واحد یتناوبون فی أداء صلوٰۃ  الجمعۃ فی مساجد مختلفۃ فی أوقات مختلفۃ، فلاتفوت الجمعۃ علی أحد منھم. والظاھر أن ھذا لایجوز، وذلک لأنہ یمکن جمیع المشترین من عقد الشراء بعد الأذان، حتی الذین لایجوز لھم ذلک لأخلالھم بالسعی الواجب فی حقھم. وقد ذکر الفقھاء أن کل واحد من  العاقدین یأثم فی ھذہ الصورۃ .

فقہ البیوع للمفتی محمد تقی العثمانی:(2/362)

والذی یظھر لی أن قول اللہ تعالی''وذروا البیع'' لیس نھیا عن عمل فردی فقط، بل ھو سد لباب البیع و الشراء فی ھذا الوقت علی مستوی المجتمع، لأن الجمعۃ من شعائر الاسلام، وینبغی أن یکون لھا مظھر عام.

المھذب فی فقہ الإمام الشافعی للشیرازی:(1/207)

إن تبايع رجلان أحدهما من أهل فرض الجمعة والآخر ليس من أهل الفرض أثما جميعا لأن أحدهما توجه عليه الفرض وقد اشتغل عنه والآخر شغله عن الفرض ولا يبطل البيع لأن النهي لا يختص بالعقد فلم يمنع الصحة كالصلاة في أرض مغصوبة.

زبیر احمد بن شیرجان

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

27/05/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

زبیر احمد ولد شیرجان

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب