03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کیا لا علمی میں شرط پر عمل کرنے سے معلق طلاق واقع ہو جاتی ہے؟
89082طلاق کے احکامطلاق دینے اورطلاق واقع ہونے کا بیان

سوال

ہمارے گھر ایک صاحب میرے بیٹے اور بیٹی کو پڑھاتے تھے۔ اُن سے بات کرنے کے معاملے پر میرے اور میرے شوہر کے درمیان بحث و تکرار شروع ہوئی۔ چند دن جھگڑے کے بعد ایک موقع پر میرے شوہر نے مجھے منہ سے دو طلاقیں دیں، اور ایک شرط بھی رکھی کہ  اگر میں آئندہ اپنے فون سے اُس صاحب سے بات کروں، تو طلاق واقع ہو جائے گی۔ اس کے بعد اُس نے دوبارہ کہا: اگر میں کسی بھی نرم یا محبت بھرے لہجے میں بات کروں، تو اللہ کی طرف سے طلاق ہو جائے گی، اُسے دوبارہ منہ سے کہنے کی ضرورت نہیں۔ اور اگر میں خفیہ طور پر بھی بات کروں، خواہ میرے شوہر کو علم ہو یا نہ ہو، اللہ گواہ ہے، طلاق ہو جائے گی۔ ‎ ‎اُس صاحب سے فون پر بات کرنے کے بارے میں میرے شوہر نے آخر میں وضاحت کی کہ اگر محبت کے اظہار کے لیے فون کرو تو طلاق واقع ہو جائے گی۔ ‎ ‎لیکن میری لاعلمی کی وجہ سے میں نے اس بات کو معمولی سمجھا، کیونکہ میں یہ سمجھتی تھی کہ صرف منہ سے طلاق دینے سے ہی طلاق ہوتی ہے، شرط کے ذریعے طلاق واقع ہو جاتی ہے یہ میں نہیں جانتی تھی۔ لہٰذا ایک موقع پر میں نے اُس صاحب پر ناراضگی ظاہر کرنے کے لیے اُنہیں فون کیا۔اس کے بعد میں نے اپنے شوہر سے کئی بار کہا کہ "کسی عالم سے پوچھ لو، چونکہ دو طلاقیں ہو چکی ہیں، تو اب کیا  کوئی شرعی حل یا حکم ہے؟" ‎ ‎لیکن میرے شوہر نے مجھے بار بار سمجھایا کہ "اللہ سے توبہ کرو، استغفار کرو، سب ٹھیک ہو جائے گا۔" ‎ ‎میں نے بھی یہی مناسب سمجھا اور خاموش رہی۔ لیکن کچھ دن پہلے شیخ احمد اللہ صاحب کا ایک وعظ سننے کے بعد یہ مسئلہ دوبارہ میرے ذہن میں آیا کہ کیا ہمارا تعلق اب شرعاً درست ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

جب شوہر نے تیسری طلاق کو شرط پر معلق کردیا، تو شرط پائی جانے کی وجہ سے  تیسری طلاق واقع ہوگئی،  اور بیوی شوہر کے لیے حرام ہوگئی، چاہے بیوی کو   اس طرح طلاق واقع ہونے کا علم ہو یا نہ ہو۔   لہذا  میاں بیوی کا فوری طور پر ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کرنا ضروری ہے ۔ عدت ختم ہونے پر بیوی جہاں چاہے نکاح کرسکتی ہے ۔

حوالہ جات

قال الله تعالى: ﵟٱلطَّلَٰقُ مَرَّتَانِۖ فَإِمۡسَاكُۢ بِمَعۡرُوفٍ أَوۡ تَسۡرِيحُۢ بِإِحۡسَٰنٖۗ ﵞ [البقرة: 229] 

وقال  تعالى: ﵟفَإِن طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُۥ مِنۢ بَعۡدُ حَتَّىٰ تَنكِحَ زَوۡجًا غَيۡرَهُۥۗﵞ [البقرة: 230]                                               

الفتاوى الهندية   ط: دار الفكر بيروت (1/ 420):

"وإذا أضافه إلى الشرط وقع ‌عقيب ‌الشرط اتفاقا، مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق."

    الهداية في شرح بداية المبتدي ط: دار احياء التراث العربي (2/ 257):

"وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة أو ثنتين في الأمة لم تحل له، حتى ‌تنكح ‌زوجا ‌غيره نكاحا صحيحا، ويدخل بها، ثم يطلقها أو يموت عنها ."

محمد جمال

دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

25/جمادی الاولی  /1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد جمال بن جان ولی خان

مفتیان

شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب