03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
اسٹیٹ بینک کی بائک/موٹرسائیکل اسکیم کا حکم (Cost Sharing Scheme for Electric Bikes and Rickshaws/Loaders)
89110جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

آج کل مختلف اشتہارات میں بینکوں سےاسٹیٹ بینک کی اسکیم کے تحت، بائک کے لیے فائنانسنگ اسکیم متعارف کروائی جارہی ہے،بعض بینک اسے شریعہ کمپلائنٹ بھی کہہ رہے ہیں،پوچھنا یہ تھا کہ کیا اس اسکیم سے فائدہ اٹھانا جائز ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

آپ کے سوال کا اصولی جواب یہ ہے کہ پاکستان میں رائج غیر سودی بینکاری نظام /اسلامی بینکاری نظام کے حوالے سے دارالافتاء جامعۃ الرشید کی رائے جواز کی ہے،اس لیے کہ جس زمانے میں اس نظام کو تشکیل دیا جارہا تھا تو دارالافتاء جامعۃ الرشید کی طرف سے ان اسلامی بینکوں کی طرف سے دی جانے والی بینکنگ سے متعلقہ بنیادی پروڈکٹس اور خدمات کا شرعی جائزہ باقاعدہ لیا گیا تھااور اس کے بعد جواز کا فتویٰ جاری کیا گیا تھا۔

البتہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وقتاً فوقتاً اسلامی بینکوں کی پروڈکٹس اور خدمات میں اضافہ  ہوتا رہتا ہے یا کچھ تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں،ہماری معلومات کے مطابق ان تبدیلیوں اور روز مرہ کے دیگر معاملات کے حوالے سے اسلامی بینکوں میں شرعی نگرانی کا ایک منظم اور مستند نظام موجود ہے،جو اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ اسلامی بینکاری کے تحت کوئی غیر شرعی معاملہ سر انجام نہ دیا جائے۔اسی نگرانی کے سلسلے میں ایک شریعہ بورڈ بھی  ہر اسلامی بینک کا ہوتا ہے،جو کم از کم تین جید مفتیان کرام پر مشتمل ہوتا ہے(ان مفتیان کرام کا تفصیلی تعارف متعلقہ بینک کی ویب سائٹ پر موجود ہوتا ہے) اور وہ اس بینک سے متعلق اسلامی بینکاری کے تحت آفر کی جانے والی تمام پروڈکٹس اور خدمات کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد ،اگر وہ شریعت کے مطابق ہوں تو ان کی مظوری دیتے ہیں اور اس کے بعد کوئی بھی اسلامی بینک ان پروڈکٹس یا خدمات کو آفر کرتا ہے۔

اسٹیٹ بینک کے تحت جب بھی کوئی اسکیم آفر کی جاتی ہے تو عام طور پر وہ مختلف بینکوں کے ذریعے ہی کی جاتی ہے،براہِ راست اسٹیٹ بینک سے کسی عام آدمی کے لیے اسکیم سے فائدہ اٹھانا ممکن نہیں ہوتا،چنانچہ اسٹیٹ بینک جب کوئی اسکیم لانچ کرتا ہے تو وہ اس سے متعلقہ تفصیلی ہدایات بینکوں کو جاری کرتا ہے اور بینکوں میں دونوں طرح کے بینک یعنی سودی اور غیرسودی،ان ہدایات کی روشنی میں اپنی پروڈکٹ تشکیل دے کر عوام کو آفر کرتے ہیں۔

غیر سودی یا اسلامی بینک،اسکیم کی تفصیلی ہدایات کو مد نظر رکھتے ہوئے ایسی پروڈکٹ تشکیل دیتے ہیں جس میں کوئی شرعی خرابی نہ ہو اور اپنے بینک کے شریعہ بورڈ سے اس پروڈکٹ کے حوالے سے تفصیلی مشاورت اور منظوری کے بعد اسے عام عوام کے لیے آفر کرتے ہیں۔چنانچہ آپ "بائک فائنانسنگ اسکیم" یا اس کے علاوہ کوئی اور اسکیم سے فائدہ اٹھاتے ہوئے، جس بھی اسلامی بینک سے یہ سہولت لینا چاہیں تو ان سے اس اسکیم سے متعلق ان کے بینک کے شریعہ بورڈ کا فتویٰ (شریعہ سرٹیفیکٹ) تحریری صورت میں حاصل کر لیں،اور فتوے میں  مذکور مفتیان کرام کی معلومات ان کی ویب سائٹ سے دیکھ لیں،پھر اگر آپ کو ان مفتیان کرام اور ان کی رائے پر اعتماد ہو تو آپ اس فتوے کے مطابق عمل کرتے ہوئے مذکورہ اسکیم سے فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔یاد رہے کہ کسی کنوینشنل سودی بینک سے مذکورہ اسکیم کے تحت سہولت حاصل کرنا جائز نہیں ہے۔

حوالہ جات

محمد حمزہ سلیمان

دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی

26.جمادی الاولیٰ1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب