03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مشترک زمین میں عشر یا زکواة کا مسلہ؟
89178زکوة کابیانعشر اور خراج کے احکام

سوال

اگربھایٸوں اور بہن کی مشترک زمین ہے اوروالدوفات ہے اور بہن کی رخصتی ہواہے شدی شدہ ہےاور بھاٸیوں زمین پر گندم وغیرہ کوٸی فصل اگاٸی مسلہ یہ ہے کہ کیا اپنے بھاٸیوں اپنے بہن کو اس مشترک زمین سے عشر یا زکواة دے سکتا ہےبہن کواور بہن کی حصہ بھی ہے اس زمین میں جو مشترک اور اپنے بھاٸیوں نے عصب کیا ہے مدلل جواب دو؟؟؟؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورت مسئولہ میں بہن اگر مستحق ِزکاۃہوتوبھائی اسےپیداوار کا عشر دے سکتا ہے۔تاہم بہن کاجائیداد میں جو حصہ بنتاہےوہ ان کے حوالے کرناضروری ہے،اور ان کے حصہ کے بقدر پیداوار بھی ان کو دینی چاہیے۔صاحب ِحق کے مال پر ناحق قبضہ کرنااوراسے اپنے حق کی وصولی سے محروم کرناحرام ہے، ایساکرنے والوں کے لیے نصوص میں سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں۔

حوالہ جات

مصنف ابن أبي شيبة (12/ 232 ت الشثري):

عن سعيد بن زيد قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: "من أخذ ‌شبرا من ‌الأرض ظلما فإنه يطوقه من سبع أرضين".

المحيط البرهاني (2/ 325):

وقوله تعالى: {وآتو حقه يوم حصاده} (الأنعام: 141) والمراد من الحق المذكور في الآية ‌العشر، وقوله عليه السلام: ما سقته السماء ففيه ‌العشر، وما سقي بقرب دالية، أو ساقية ففيه نصف ‌العشر.

الأصل لمحمد بن الحسن (10/ 60):

وإذا اغتصب الرجل أرضا من أرض العشر أو من أرض الخراج، فزرعها وأخرجت زرعا كثيرا، ولم تنقصها الزراعة شيئا، فإن الخراج على الزارع والعشر فيما أخرجت الأرض.

الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (1/ 189):

لا يجوز دفع الزكاة إلى من يملك نصابا أي مال كان... ويجوز دفعها إلى من يملك أقل من النصاب، وإن كان صحيحا مكتسبا.

 عزیزالرحمن

  دار الافتاءجامعۃ الرشید کراچی

11/جمادی الآخرۃ/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عزیز الرحمن بن اول داد شاہ

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب