| 89204 | ہبہ اور صدقہ کے مسائل | ہبہ کےمتفرق مسائل |
سوال
کیا نکاح کے بعد اور رخصتی سے پہلے لڑکا اور لڑکی ایک دوسرے کو( لڑکا اپنی فیملی اور لڑکی کی فیملی) کے سامنے تحفہ اور پھول دے سکتا ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
نکاح کے بعد میاں بیوی اجنبی نہیں رہتے،لہذا شرعا ایک دوسرے کو تحفہ دینا معیوب نہیں۔لیکن آج کل ایک رواج چل پڑاہے کہ نکاح کرنے کے بعد اس قسم کی رسوم کے لیے باقاعدہ تقریب ہوتی ہے جس میں رشتہ داروں کے مجمع میں لڑکا لڑکی ایک دوسرے کو تحفہ دیتے ہیں، جب کہ دیکھنے والے اکثر نامحرم ہوتے ہیں،اگر ایسی صورت ہے تو یہ شرعا ناجائز و حرام ہے اس سے بچنا لازم ہے۔
حوالہ جات
ومن آياته أن خلق لكم من أنفسكم أزواجا لتسكنوا إليها وجعل بينكم مودة ورحمة.[ سورة الروم:21]
وفي مختصر القدوري (1/125) كتاب الهبة:
و إن وهب هبة لذي رحم محرم منه فلا رجوع فيها،وكذلك ما وهب أحد الزوجين للآخر.
احسان اللہ گل محمد
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
12/6/7144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | احسان ولد گل محمد | مفتیان | شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب |


