03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
دوران نماز کمر کو چٹخانے کا حکم
89271نماز کا بیانامامت اور جماعت کے احکام

سوال

ہمارے گھر سے مسجد دور ہے، تو ہم گھر میں نماز پڑھتے ہیں ۔والد صاحب امام ہوتے ہیں اور میں مقتدی ۔ لیکن پچھلے چند ہفتوں سے، والد صاحب سجدے میں جا کر جان بوجھ کر اپنی کمر کو چٹخاتے ہیں (میں دیکھ رہا ہوتا ہوں)۔ ایک دن میں نے ان سے کہا کہ ایسا کرنا نماز کو مکروہ کر دیتا ہے، تو انہوں نے کہا کہ وہ خود ہی ہو جاتا ہے (جبکہ میں دیکھتا ہوں کہ وہ اپنی اوپر کی کمر کو نچوڑتے ہیں اور ان کا بازو بھی پورا پیچھے چلا جاتا ہے اور زور سے کئی سارے کریک ہونے کی آوازیں آتی ہیں۔) میں نے والد صاحب کو یہ بھی کہا ہے کہ اگر آپ نے یہ کرنا ہی ہے تو فرض سے پہلے کی سنتوں میں یہ کر لیں۔ لیکن وہ ابھی بھی فرض میں کرتے ہیں اور تقریباً ہر فرض نماز میں وہ ایسا کرتے ہیں۔

کیا مجھے انہیں دوبارہ ایک بار بتانا چاہیے، یا اپنی الگ سے نماز پڑھ لینی چاہیے، یا نماز کی ایک پہلی رکعت جماعت سے چھوڑ کر دوسری رکعت سے جماعت میں شامل ہو جانا چاہیے؟رہنمائی کر دیں۔

تنقیح:سائل نے مزید بتایا کہ ہمارا گھر مسجد سے تقریبا آدھے گھنٹے کے فاصلے پر ہیں، اور  مسجد والے لوگ کافی ماڈرن ہے۔  وہ مشینی ذبح کو حلال سمجھتے ہیں۔ ہم وہاں صرف جمعہ کی نماز پڑھنے جاتے ہیں۔

مجھے اس بات کا اندازہ کہ والد صاحب قصدا کمر چٹخاتے ہیں اس طرح ہوتا ہے کہ  میں سجدہ میں بائیں جانب ہوتا ہوں اور والد صاحب کو دیکھتا ہوں کہ وہ سجدہ میں اپنے بازو اوپر کرتے ہیں اور دباتے ہیں، تاکہ کمر کے اوپر والے حصے پر  پریشر آئے اور پھر کمر چٹخاتے ہیں۔اگر کبھی وہ اپنے ہاتھوں کو اوپر نہ کریں اور کمر پر دباؤ نہ لائیں تو کمر نہیں چٹخاتی۔والد صاحب علم و عمل میں مجھ سے بڑھے ہیں اس لیے میں انہیں یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ آپ پیچھے آئیں امامت میں کرواتا ہوں کیونکہ آپ کمر چٹخاتے ہیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

نماز میں جسم کے کسی جوڑ کو چٹخانا نامناسب عمل ہے، اس سے نماز مکروہ ہوجاتی ہےاور جب نماز مکروہ ہوتی ہے تو کراہت یا کسی خاص حصے یا رکعت کے ساتھ خاص نہیں ہوتی بلکہ مکمل نماز مکروہ ہوجاتی ہے، لہذا آپ اگر ایک رکعت چھوڑ دیں تب بھی کراہت سے خود کو بچا نہیں سکتے۔والد صاحب کو بتائیں کہ اس عمل سے نماز مکروہ ہوجاتی ہے، اگر پھر بھی نہیں چھوڑتے اور آپ کو ان کی اقتداء میں اطمینان نہیں ہورہا  اور نہ ہی آپ خود امامت کرواسکتے ہیں، تو اگر کہیں اور اس سے اچھی  جماعت میسر ہو تو وہاں پڑھ لیا کریں، اگر میسر نہیں ،  تو آپ والد صاحب کے پیچھے پڑھ لیا کریں، کیونکہ باجماعت نماز پڑھنا اکیلے نماز پڑھنے سے افضل ہے۔

حوالہ جات

الہدایۃ شرح بدایۃ المبتدی:(1/233)

الجماعۃ سنۃ مؤکدۃ لقولہﷺ: الجماعۃ من سنن الھدی لایتخلف عنھا إلا منافق.

الدرالمختار مع رد المحتار:(1/552)

(والجماعة سنة مؤكدة للرجال) ...(و أقلھا إثنان )...(و قیل واجبۃ و علیہ العامۃ) أي عامة مشايخنا وبه جزم في التحفة وغيرها. قال في البحر: وهو الراجح عند أهل المذهب...

الفتاوی الھندیۃ:(1/82)

الجماعة سنة مؤكدة. كذا في المتون والخلاصة والمحيط ومحيط السرخسي وفي الغاية قال عامة مشايخنا: إنها واجبة وفي المفيد وتسميتها سنة لوجوبها بالسنة.

الدرالمختار مع رد المحتار:(2/409)

(وفرقعۃ الأصابع)و تشبیکھا ولومنتظرا للصلاۃ أو ماشیا ألیھا للنھی ... شرحہ : وھو ما رواہ ابن ماجہ مرفوعا''لاتفرقع أصابعک و أنت تصلی''.

الہدایۃ شرح بدایۃ المبتدی:(1/275)

ولایفرقع أصابعہ لقولہ علیہ السلام ''لاتفعرق أصابعک و أنت تصلی''.

البحر الرائق شرح کنز الدقائق:(2/21)

(قوله وفرقعة الأصابع) وهو غمزها أو مدها حتى تصوت ونقل في الدراية الإجماع على كراهتها فيها ومن السنة ما رواه ابن ماجه مرفوعا ''لا تفرقع أصابعك وأنت تصلي'' لكنه معلول بالحارث.

زبیر احمد ولد شیر جان

دارالافتاءجامعۃ الرشید ، کراچی

15/06/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

زبیر احمد ولد شیرجان

مفتیان

شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب