03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
تین طلاقیں چارجر نہ ملنے پر معلق کرنے کی صورت کا حکم
88003طلاق کے احکامطلاق کو کسی شرط پر معلق کرنے کا بیان

سوال

عمرو نے زید کا موبائل چارجر استعمال کی غرض سے لیا اور بعد میں کسی تیسرے شخص کے پاس رکھ دیا، لیکن پھر خود بھول گیا کہ چارجر کہاں رکھا ہے۔ کچھ دنوں بعد جب زید نے اپنا چارجر واپس مانگا تو عمرو نے اپنے گمان کے مطابق سمجھتےہوئے کہ چارجر گم ہو چکا ہے، زید سے کہا:اگر تمھارا چارجر نہ ملا تو میری بیوی کو تین طلاقیں ہوں۔مطلب یہ تھا کہ میں یہ چارجر ضرور تلاش کرکے دوں گا۔بعد میں عمرو کو یاد آیا کہ وہ چارجر فلاں شخص کے پاس رکھا تھا، چنانچہ  اس نے وہاں سے چارجر لا کر زید کو دے دیا۔واضح رہے کہ عمرو کا نکاح تو ہوچکا ہے، لیکن ابھی رخصتی اور خلوتِ صحیحہ نہیں ہوئی ہے۔اب سوال یہ ہے کہ کیا اس صورت میں عمرو کی بیوی پر طلاق واقع ہوئی یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

جب طلاق کو کسی شرط کے ساتھ معلق کیا جائے تو شرط پائے جانے کی صورت میں طلاق واقع ہوجاتی ہے۔ شرط نہ پائے جانے کی صورت میں طلاق واقع نہیں ہوتی۔ لہذا صورتِ مسئولہ میں عمرو نے جو الفاظ کہے ہیں کہ اگر تمھارا چارجر نہ ملا تو میری بیوی کو تین طلاقیں ہوں،یہ قسم کے الفاظ ہیں، یعنی اس نے ایک چیز (چارجر کے  نہ ملنے) کے ساتھ طلاق کو معلق کیا، چونکہ چارجر بعد میں مل گیا اور زید کو دے دیا گیا، اس لیے جو شرط  معلق  ہوئی تھی وہ شرط پوری نہیں ہوئی تو  عمرو کی بیوی پر طلاق واقع نہیں ہوئی، کیونکہ وہ شرط (چارجر کا نہ ملنا) وجود  میں نہیں آئی۔

حوالہ جات

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (3/ 122):

إذا قال لها أنت طالق إن دخل فلان الدار أنه يقع الطلاق إذا وجد الشرط في أي وقت وجد ولا يتقيد بالمجلس؛ لأن ذلك تعليق الطلاق بالشرط، والتعليق لا يتقيد بالمجلس؛ لأن معناه إيقاع الطلاق في زمان ما بعد الشرط فيقف الوقوع على وقت وجود الشرط ففي أي وقت وجد يقع.

الفتاوى الهندية (9/ 213):

الفصل الثالث في تعليق الطلاق بكلمة إن وإذا وغيرهما إذا أضاف الطلاق إلى النكاح وقع عقيب النكاح نحو أن يقول لامرأة : إن تزوجتك فأنت طالق أو كل امرأة أتزوجها فهي طالق وكذا إذا قال : إذا أو متى وسواء خص مصرا أو قبيلة أو وقتا أو لم يخص وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته : إن دخلت الدار فأنت طالق ولا تصح إضافة الطلاق إلا أن يكون الحالف مالكا أو يضيفه إلى ملك والإضافة إلى سبب الملك كالتزوج كالإضافة إلى الملك فإن قال لأجنبية : إن دخلت الدار فأنت طالق ثم نكحها فدخلت الدار لم تطلق كذا في الكافي.

"الدر المختار  (3/ 355):

 (وتنحل) اليمين (بعد) وجود (الشرط مطلقا) لكن إن وجد في الملك طلقت وعتق وإلا لا".

مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر ": (ج 3 / ص 285) :

"( فإن وجد الشرط فيه ) أي في الملك بأن كان النكاح قائما أو كان في العدة (انحلت اليمين ووقع الطلاق ".

محمد ابراہیم عبد القادر

دارالافتاءجامعۃ الرشید ،کراچی

16/محرم الحرام /7144ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد ابراہیم بن عبدالقادر

مفتیان

سعید احمد حسن صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب