| 89274 | جنازے کےمسائل | جنازے کے متفرق مسائل |
سوال
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے متعلق آج کل یہ عموماً دیکھا جا رہا ہے کہ میت کے انتقال پر اس کا دو دو مرتبہ جنازہ پڑھا جا رہا ہوتا ہے ۔اس کا کیا حکم ہے ؟مثلاً ایک شخص کا انتقال ہوا ہے اسلام آباد میں اور اس کا تعلق تھا کشمیر سے اس کے ولی بھی اس کے ساتھ تھے اسلام آباد میں اس کے انتقال پر اسلام آباد میں موجود رشتہ داروں نے کہا کہ اس کا یہاں جنازہ ہو گا تاکہ جو یہاں اسلام آباد میں موجود ہیں وہ یہاں ہی شریک ہو جائیں انہیں کشمیر نہ جانا پڑے ۔ لہٰذا اس کا جنازہ پڑھا گیا لیکن ولی نے جنازہ نہیں پڑھا مگر وہاں موجود تھا ۔ پھر اس کا دوسرا جنازہ اس کے آبائی گاؤں میں ادا کیا گیا اور ولی نے گاؤں میں جنازہ پڑھا ۔ آیا یہ دو دو مرتبہ نماز جنازہ پڑھنا جائز ہے؟ نیز یہ بھی بتائیے گا کہ پہلی نماز جنازہ کا کیا حکم ہے اور دوسری نماز جنازہ کا کیا حکم ہے؟ نیز یہ بھی بتائیے گا کہ نماز جنازہ پڑھنے والوں کی سہولت کیلئے یہ اقدام جائز ہے؟ مدلل انداز میں فتویٰ عنایت فرمائیے گا نوازش ہو گی ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
شریعت میں نمازِ جنازہ ایک ہی مرتبہ مشروع ہے؛ دوسری مرتبہ پڑھنا درست نہیں۔ البتہ اگر ولی کے علاوہ کسی اور نے ولی کی اجازت کے بغیر نمازِ جنازہ پڑھائی ہو اور کوئی ولی اس جنازے میں شامل نہ ہوا ہو، تو ولی کو دوبارہ جنازہ پڑھنے کا حق حاصل ہے۔ پھر جنہوں نے پہلے نمازِ جنازہ نہیں پڑھی تھی وہ اس ولی کے ساتھ پڑھ سکتے ہیں۔ لیکن اگر نمازِ جنازہ میں ولی خود شامل ہو یا ولی کی اجازت سے پڑھائی گئی ہو، تو پھر ولی کے لیے بھی دوبارہ جنازہ پڑھنا جائز نہیں۔
تاہم مذکورہ مسئلہ میں اگر کوئی بھی ولی پہلے والے جنازے میں شامل نہ تھا اور ان کی اجازت کے بغیر جنازہ پڑھا گیا تھا، تو میت کو گاؤں منتقل کرنے کے بعد اس کے اولیاء اگر چاہیں تو دوبارہ جنازہ پڑھ سکتے ہیں۔
حوالہ جات
شرح مختصر الطحاوي للجصاص (218/2):
قال أبو جعفر: (ولا يصلى على جنازة مرتين، إلا أن يكون الذي صلى عليها غير وليها، فيعيد وليها الصلاة عليها إن كانت لم تدفن، فإن كانت قد دفنت: أعادها على القبر).وإنما لم يصلى عليها مرتين؛ لأن الصلاة الثانية تطوع؛ لأن المفروض هي الأولى، ولا يتطوع بالصلاة على الميت؛ لأنه لو جاز ذلك، لجازت الصلاة على قبر النبي صلى الله عليه وسلم، فلما اتفق الجميع على امتناع جواز الصلاة على قبر النبي صلى الله عليه وسلم، دل على أنه لا يجوز أن يتطوع بالصلاة على الميت.
المبسوط للسرخسي (126/2):
فإن كان حين افتتح الرجل الغريب صلاة الجنازة اقتدى به بعض الأولياء فليس لمن بقي منهم حق الإعادة؛ لأن الذي اقتدى به رضي بإمامته فكأنه قدمه ولكل واحد من الأولياء حق الصلاة على الجنازة كأنه ليس معه غيره؛ لأن ولايته متكاملة فإذا سقط بأداء أحدهم لم يكن للباقين حق الإعادة.
الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (163/ 1):
ولا يصلى على ميت إلا مرة واحدة والتنفل بصلاة الجنازة غير مشروع، كذا في الإيضاح، ولا يعيد الولي إن صلى الإمام الأعظم أو السلطان أو الوالي أو القاضي أو إمام الحي؛ لأن هؤلاءأولى منه وإن كان غير هؤلاء له أن يعيد، كذا في الخلاصة.وإن صلى عليه الولي لم يجز لأحد أن يصلي بعده ولو أراد السلطان أن يصلي عليه فله ذلك؛ لأنه مقدم عليه…….ولو صلى عليه الولي وللميت أولياء أخر بمنزلته ليس لهم أن يعيدوا، كذا في الجوهرة النيرة، فإن صلى غير الولي أو السلطان أعاد الولي إن شاء، كذا في الهداية.
النهاية في شرح الهداية - السغناقي (4/ 134 بترقيم الشاملة آليا):
وإذا افتتح الرجل الغريب صلاة الجنازة، واقتدى به بعض الأولياء، فليس لمن بقي منهم حق الإعادة؛ لأن الذي اقتدى به قد رضي بإمامته فكأن قدمه، ولكل واحد من الأولياء حق الصلاة على الجنازة كأنه ليس معه غيره…والمعنى هو ما ذكر في الكتاب، فإن الصلاة الثانية تقع نفلا، وذلك غير مشروع، ولو جاز هذا؛ لكان الأولى أن يصلي على قبر رسول الله صلى الله عليه وسلم من يرزق زيارته الآن؛ لأنه في قبره كما وضع، فإن لحوم الأنبياء حرام على الأرض به ورد الأثر، ولم يشتغل أحد بهذا، فدل أنه لا يعاد الصلاة على الميت إلا أن يكون الولي هو الذي حضر، فإن الحق له، وليس لغيره ولاية إسقاط حقه.
ملتقى الأبحر (ص269):
وللولي أن يأذن لغيره فإن صلى غير من ذكر بلا إذن أعاد الولي إن شاء ولا يصلي غير الولي بعد صلاته.
ابن امین صاحب دین
دارالافتاءجامعۃالرشیدکراچی
15/جمادی الآخرۃ /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | ابن امین بن صاحب دین | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


