03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
Sora Ai سے ولوگ بنانا
89245جائز و ناجائزامور کا بیانکھیل،گانے اور تصویر کےاحکام

سوال

کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ جیسا کہ آپ حضرات کو معلوم ہے کہ اے آئی بڑی تیزی سے ترقی کررہا ہے،اس میں سے ایک اے آئی Sora ہے،جو کہ ایسی رئیل وڈیو بناتا ہے کہ عام آدمی کو زرہ بھی اندازہ نہیں ہوتا کہ وڈیو رئیل ہے یا فیک۔یہاں اپنے چہرے کے ساتھ وڈیو بھی بنتی ہے کہ جو بالکل رئیل لگتی ہے،اس کو استعمال کرکے ولوگ بنانا کیسے ہوگا کہ لوگ تمیز ہی نہ کرسکے کہ فیک ہے یا رئیل۔مثلا میں نے ولوگ بنایا کہ میں یہاں کعبہ میں آیا ہوں اور طواف کررہا ہوں۔۔۔کیا ایسی وڈیوز بنانے سے جھوٹ لازم آئیگا؟ اور شوشل میڈیا پر اپلوڈ کرکے اپنے اکاونٹ کو گروتھ کرنا ٹھیک ہوگا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اے آئی (AI) سے ویڈیو بنانا، ڈیجیٹل کیمرے سے ویڈیو بنانے کے حکم میں ہے۔ چونکہ ڈیجیٹل کیمرے کی ویڈیو بعض علماء کے نزدیک جائز ہے اور بعض کے نزدیک ناجائزہے، اس لیے احتیاط اسی میں ہے کہ اگر کوئی شرعی ضرورت یا معتبر دینی یا دنیوی مصلحت ہو تو اس کی گنجائش ہے، بشرطیکہ    اس میں فحاشی، غیر محرم کی تصاویر ،جھوٹ ،فراڈ اور دیگر شرعی ممنوعات سے مکمل اجتناب کیا جائے۔

اور اگر کوئی معتبر دینی یا دنیوی مصلحت نہ ہو تو اس سے پرہیز کرنا چاہیے۔

  • صورتِ مسئولہ میں اگر آپ اے آئی کے ذریعہ شرعی دائرے میں ایسی ویڈیو بنانا چاہیں جن میں کوئی دینی یا دنیوی مصلحت ہو، مثلاً اپنی کمپنی یا ادارے کی تشہیر وغیرہ مقصود ہو، تو ایسے ویڈیو بنانا اور  سوشل میڈیا پر اپلوڈ کرکے اپنے اکاؤنٹ کو گروتھ دینا جائز ہوگا۔
  • اور اگر ویڈیو میں شرعی ممانعت ہو، مثلاً فحاشی، موسیقی یا جھوٹ پر مبنی ویڈیو(جیسے یہ دکھانا کہ میں کعبہ میں آیا ہوں اور طواف کر رہا ہوں حالانکہ حقیقت میں وہاں نہ ہوں)تو یہ ناجائز ہے۔
  • اور اگر ویڈیو شرعی حدود کے اندر ہو مگر اس میں کوئی واضح  دینی یا دنیوی مصلحت نہ پائی جائے، تو تقوی کا تقاضا ہے کہ ایسے ویڈیو بنانے سے بھی اجتناب کیا جائے۔
حوالہ جات

فتاوی معاصرۃ:1/740

قال العلامة یوسف القرضاوي رحمه الله:فھذہ العملیۃ ،عملیۃ  حبس الظل  أو عکسہ ، لیس کما یفعل النحات أو الرسام ، و لذا فھو لا یدخل في الحرمۃ و إنما ھو مباح .  ھذا التصویر کما ذکرت  (التصویر بالکامیرا )لا شيء فیہ ،بشرط أن تکون الصورۃ نفسھا التي یلتقطھا أو یعکسھا  حلالا. فلا  یصور امرأۃ عاریۃ أو شبہ عاریۃ أو مناظر لا تجوز شرعا ۔

الجواب  الکافي في إباحۃ التصویر الفوتوغرافي: 23

قال العلامة محمد بخیت رحمه الله:و علی کل حال فأخذ الصورۃ بالفوتغرافیا  الذی ھو عبارۃ عن حبس الظل بالوسائط  المعلومۃ لأرباب ھذہ الصناعۃ،  لیس من التصویر المنہي عنہ في شيء ؛لأن التصویر المنہي عنہ ھو إیجاد صورۃ و صنع صورۃ  لم تکن موجودۃ  و لا مصنوعۃ من قبل ،یضاھي بھا  حیوانا خلقہ اللہ تعالی . 

        تكملة فتح الملهم (4 / 162):

أما التلفزون و الفديو فلا شك في حرمة استعمالهما بالنظر إلى ما يشتملان عليه من المنكرات الكثيرة من الخلاعۃ والمجون ، والکشف عن النساء المتبرجات او العاریات ، و ما الی ذلک من اسباب الفسوق ،ولکن ھل یتاتی فیھما حکم التصویر بحیث اذا کان التلفزیون او الفیدیو خالیا من ھذہ المنکرات باسرھا ، ھل یحرم بالنظر الی کونہ تصویرا؟ فان لھذا العبد الضعیف ۔عفااللہ عنہ۔ فیہ وقفۃ : وذلک لان الصورۃ المحرمۃ ما کانت منقوشۃ او منحوتۃ بحیث یصبح لھا صفۃ الاستقرار علی شیء ،وھی الصورۃ التی کان الکفار یستعملونھا للعبادہ ،أما الصورة التي ليس لها ثبات و استقرار و ليست منقوشة على شيئ بصفة دائمة فانها بالظل اشبه منها بالصورة و يبدوا أنَّ صورة التلفزون و الفديو لا تستقر على شيئ في مرحلة من المراحل.                           

عبداللہ المسعود

دارالافتا ء،جامعۃالرشید کراچی

۱۶⁄جمادی الاخری  ⁄۱۴۴۷ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبدالله المسعود بن رفيق الاسلام

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب