| 89383 | حدیث سے متعلق مسائل کا بیان | متفرّق مسائل |
سوال
کیا فرماتے ہیں مفتیان ِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ نظر بد کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ کیا یہ وجود رکھتی ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ نظرِ بد حق ہے اور اس کا لگنا ایک حقیقت ہے، اور جمہور علماء کرام اور اہلِ حق کا مسلک یہی ہے کہ جاندار اشیاء، خواہ انسان ہوں یا جانور، حتیٰ کہ مال و متاع وغیرہ پر بھی نظرِ بد کی تاثیر، یعنی نظر سے نقصان پہنچنا، واقع ہو سکتا ہے۔ اور یہ متعدد احادیث سے بھی ثابت ہے۔حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "نظر حق ہے (یعنی نظر لگنا ایک حقیقت ہے)، اگر تقدیر پر سبقت لے جانے والی کوئی چیز ہوتی تو وہ نظر ہی ہوتی، اور جب تم سے غسل (نظرِ بد کے ازالے کے لیے) کا مطالبہ کیا جائے تو غسل دے دو۔"
لہٰذا معلوم ہوا کہ نظرِ بد شرعاً ثابت اور برحق ہے، تاہم اس کو بالذات مؤثر نہ سمجھا جائے، بلکہ درحقیقت اللہ تعالیٰ نے اس میں یہ خاصیت رکھی ہے کہ وہ نقصان یا ہلاکت کا باعث بنے۔
حوالہ جات
أخرج الامام البخاري رحمہ اللہ :عن أبي هريرة رضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "العين حق"(صحيح البخاري:7/ 382)،(رقم الحدیث: 5740]
أخرج الامام المسلم رحمہ اللہ :أعن ابن عباس عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: العين حق، ولو كان شيء سابق القدر سبقته العين، وإذا استغسلتم فاغسلوا.(صحيح مسلم:7/ 13)،( رقم الحدیث:2188)
وفی مصنف ابن أبي شيبة: عن عبد اللَّه بن عامر بن ربيعة، عن أبيه قال ،قال رسول اللہﷺ: اللهم أذهب حرها وبردها و (وصبها) ، ثم قال: "قم"، فقام، فقال ﷺ: إذا رأى أحدكم من نفسه أو ماله أو أخيه فليدع بالبركة ،فإن العين حق. (مصنف ابن أبي شيبة:13/ 167)
أخرج الامام المسلم رحمہ اللہ :أبو هريرة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكر أحاديث، منها: وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " العين حق" .(صحيح مسلم: 7/ 13)
سخی گل بن گل محمد
دارالافتاءجامعۃالرشید،کراچی
/16جماد الثانی،1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سخی گل بن گل محمد | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


