| 89235 | پاکی کے مسائل | نجاستوں اور ان سے پاکی کا بیان |
سوال
میرا شہد کا کاروبار ہے۔میں نے پیکنگ کے لیے ڈرم میں تقریبا ۱۰۰ کلو بیری شہد رکھا تھاجس کی مالیت تقریبا دو لاکھ بنتی ہے۔اس میں بلی گرکر مر گئی ہے۔لیکن شہد کے اوصاف میں فرق نہیں آیا ہے۔اور بلی شہد کے سطح پر پڑی ہوئی تھی ۔لیکن یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ وہ کب گری اور کتنی دیر اس کے اندر رہی، کیونکہ شہد گاڑھا ہوتا ہے۔ چونکہ بلی کی موت شہد کے اندر ہوئی ہے اس وجہ سے میں شدید پریشانی میں ہوں۔ میری آپ سے گزارش ہے کہ اس سلسلے میں مکمل رہنمائی فرمائیں: ١۔ کیا اتنی بڑی مقدار کا یہ شہد شرعاً ناپاک ہو گیا ہے؟ ٢۔اور اس صورت میں میرے لیے شرعاً کیا حکم ہے؟ جزاکم اللہ خیراً۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
بلی کے شہد میں گر کر مر جانے کی وجہ سے جہاں تک اس کے اجزا موجود ہوں وہاں تک شہد ناپاک ہو گیا ہے۔البتہ اگر شہد سیال تھا جما ہوا نہیں تھا تو جتنا شہد ہو اتنا یا اس سے زائد پانی ڈال کر اس کو پکایا جائے ، جب پانی جل جائے تو پھر اور (نیا) پانی ڈال کر جلایا جائے ، اس طرح تین دفعہ کرنے سے شہد پاک ہو جائے گا۔
اگر شہد جما ہوا تھا اور بلی سطح پر موجود تھی ( جیسا کہ سوال میں مذکور ہے) تو بلی کو ہٹانے کے بعدمناسب مقدار شہد کو ہٹانے سے باقی کا استعمال درست ہوگا۔
تاہم اگر بلی مر کر پھول پھٹ گئی ہو اور اس کے اجزا ء شہد کے ساتھ مل گئے ہوں تو اس صورت میں اس کا استعمال کسی صورت جائز نہیں۔
حوالہ جات
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (1/ 334):
مطلب في تطهير الدهن والعسل (قوله: ويطهر لبن وعسل إلخ) قال في الدرر: لو تنجس العسل فتطهيره أن يصب فيه ماء بقدره فيغلى حتى يعود إلى مكانه، والدهن يصب عليه الماء فيغلى فيعلو الدهن الماء فيرفع بشيء هكذا ثلاث مرات اهـ وهذا عند أبي يوسف خلافا لمحمد، وهو أوسع وعليه الفتوى كما في شرح الشيخ إسماعيل عن جامع الفتاوى. وقال في الفتاوى الخيرية: ظاهر كلام الخلاصة عدم اشتراط التثليث، وهو مبني على أن غلبة الظن مجزئة عن التثليث وفيه اختلاف تصحيح.
الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (1/ 42):
إذا تنجس العسل يلقى في طنجير ويصب عليه الماء ويغلى حتى يعود إلى مقداره. هكذا ثلاثا فيطهر قالوا وعلى هذا الدبس.
الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (1/ 45):
الفأرة لو ماتت في السمن إن كان جامدا قور ما حوله ورمي به والباقي طاهر يؤكل.
الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (1/ 41):
وإزالتها إن كانت مرئية بإزالة عينها وأثرها إن كانت شيئا يزول أثره ولا يعتبر فيه العدد. كذا في المحيط فلو زالت عينها بمرة اكتفى بها.
عادل ارشاد علی
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
18/جمادی الاخری/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عادل ولد ارشاد علی | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


