03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
والد کا اپنے بیٹے کے ساتھ بدکاری کرنا
89345حدود و تعزیرات کا بیانمتفرّق مسائل

سوال

اگر شوہر اپنی اولاد (بیٹے ) کے ساتھ بدکاری یا جنسی زیادتی کرے باوجود اصلاح کے بار بار اس گناہ کا مرتکب ہو تو شریعت کا کیا حکم ہے؟ اور کیا  ایسے شوہر کے ساتھ نکاح میں رہنا درست ہے برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں جزاکم اللہ خیرا۔

تنقیح: سائلہ سے رابطہ پر معلوم ہوا کہ والد اپنے بیٹے سے بد فعلی کرتا ہے ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

یہ  فعل زنا سے بھی بدتر ہے ، شریعت کے علاوہ عقلاً اور طبعا بھی یہ فعل بہت ہی خبیث ہے، اور اپنی اولاد کے ساتھ بدفعلی کی جائے تو اس کی قباحت اور شناعت میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے ۔ اس کی خباثت ایسی بڑھی ہوئی ہے کہ دنیا میں کوئی خبیث سے خبیث جاندار بھی ایسی خباثت کی رغبت نہیں رکھتا، یہ ایسا گندہ اور گھناؤنا فعل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس فعل کی مرتکب قوم کو ایسا سخت عذاب دیا کہ ان کی بستی کو اوپر اٹھا کر الٹی کر کے پھینک دیا، اور پھر اس پر پتھروں کی بارش برسائی اور ان کے قصہ کو قرآن کریم میں بیان فرما کر رہتی دنیا تک ان کو رسوا کیا ۔

ایسےشخص سے توبہ کی امید ہو تو اصلاح جاری رکھیں مایوس ہونے کی صورت میں  یا  ساتھ رہنے سے مفاسد پیدا  ہوں اور نبھا ممکن نہ ہو تو  الگ ہونے کی گنجائش ہے ۔تاہم  جتنا ممکن ہو بیٹے کو دور رہنا چاہیےتاکہ اس فعل خبیث کی طرف رغبت نہ ہو۔   

اور ایسےشخص کو چاہیے صدق دل سے توبہ استغفارکرےاور آئندہ نہ کرنے کا عزم کرے۔

حوالہ جات

   [الأعراف: 80-81] 

وَلُوطًا إِذ قَالَ لِقَومِهِۦٓ أَتَأتُونَ ٱلفَٰحِشَةَ مَا سَبَقَكُم بِهَا مِن أَحَدٖ مِّنَ ٱلعَٰلَمِين إِنَّكُم لَتَأتُونَ ٱلرِّجَالَ شَهوَةٗ مِّن دُونِ ٱلنِّسَآءِۚ بَل أَنتُم قَوم مُّسرِفُون   .

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (4/ 27):

(قوله أو بوطء دبر) أطلقه فشمل دبر الصبي والزوجة والأمة فإنه لا حد عليه مطلقا عند الإمام منح ويعزر هداية (‌قوله حد) فهو عندهما كالزنا في الحكم فيجلد جلدا إن لم يكن أحصن، ورجما إن أحصن نهر.

مطلب في حكم اللواطة (‌قوله ‌بنحو ‌الإحراق إلخ) متعلق بقوله يعزر. وعبارة الدرر: فعند أبي حنيفة يعزر بأمثال هذه الأمور. واعترضه في النهر بأن الذي ذكره غيره تقييد قتله بما إذا اعتاد ذلك. قال في الزيادات: والرأي إلى الإمام فيما إذا اعتاد ذلك، إن شاء قتله، وإن شاء ضربه وحبسه. ثم نقل عبارة الفتح المذكورة في الشرح، وكذا اعترضه في الشرنبلالية بكلام الفتح. وفي الأشباه من أحكام غيبوبة الحشفة: ولا يحد عند الإمام إلا إذا تكرر فيقتل على المفتى به. اهـ. قال البيري: والظاهر أنه يقتل في المرة الثانية لصدق التكرار عليه. اهـ.

فتح القدير للكمال بن الهمام - ط الحلبي (4/ 211):

(وإذا ‌تشاق الزوجان وخافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس بأن تفتدي نفسها منه بمال يخلعها به) لقوله تعالى {فلا جناح عليهما فيما افتدت به}.

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (3/ 228):

وأما الطلاق فإن الأصل فيه الحظر، بمعنى أنه محظور إلا لعارض يبيحه، وهو معنى قولهم الأصل فيه الحظر والإباحة للحاجة إلى الخلاص، فإذا كان بلا سبب أصلا لم يكن فيه حاجة إلى الخلاص بل يكون حمقا وسفاهة رأي ومجرد كفران النعمة وإخلاص الإيذاء بها وبأهلها وأولادها، ولهذا قالوا: إن سببه الحاجة إلى الخلاص عند تباين الأخلاق وعروض البغضاء الموجبة عدم إقامة حدود الله تعالى، فليست الحاجة مختصة بالكبر والريبة كما قيل، بل هي أعم كما اختاره في الفتح، فحيث تجرد عن الحاجة المبيحة له شرعا يبقى على أصله من الحظر، ولهذا قال تعالى {فإن أطعنكم فلا تبغوا عليهن سبيلا} [النساء: 34] أي

لا تطلبوا الفراق، وعليه حديث «أبغض الحلال إلى الله الطلاق» قال في الفتح: ‌ويحمل ‌لفظ ‌المباح على ما أبيح في بعض الأوقات أعني أوقات تحقق الحاجة المبيحة اهـ.

عادل ارشاد

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

۱۸/جمادی الاخری/۱۴۴۷ھ 

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عادل ولد ارشاد علی

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب