| 89311 | طلاق کے احکام | خلع اور اس کے احکام |
سوال
عدالت میں خلع کے لیے ہم نے درخواست دی،درخواست کا مضمون درج ذیل ہے؛
"میں مدعا علیہ (شوہر)کے گھر آباد ہونا نہیں چاہتی ہوں،مدعا علیہ (شوہر)ذہنی طور پر بیمار ہے،جس کی وجہ سے مجھے مدعا علیہ (شوہر)سے شدید نفرت ہے،میں حدود اللہ میں رہتے ہوئے مدعا علیہ (شوہر)کے ساتھ زندگی بسر نہیں کرسکتی،دعوی بربنائے خلع ڈگری جاری کی جائے"۔
مذکورہ درخواست کے نتیجے میں عدالت نے خلع کی بنیاد پرتنسیخ نکاح کا فیصلہ دیا،پھر یونین کونسل سرٹیفیکٹ لینے کے لیے گئے اور وہاں فریقین میں سے ہر ایک سے ایک صفحہ پر مشتمل فارم پر کروایا گیا۔
سوال یہ ہے کہ مذکورہ تفصیل کی رو سے طلاق واقع ہوچکی ہے یا نہیں؟کیا ہم اپنی بیٹی کا نکاح دوسری جگہ کرسکتے ہیں؟
تنقیحات:
یونین کونسل والے فارم میں موجود ایک حصہ خالی ہے،یعنی خالی جگہ میں نام وغیرہ کچھ نہیں لکھا ہوا۔فارم اور عدالت کا فیصلہ منسلک ہے ملاحظہ ہو۔
مدعا علیہ (شوہر) کے ذہنی طور پر بیمار ہونے کی وضاحت یہ کی ہے کہ وہ بیٹی کی پیدائش پر خوش نہیں ہوتے، ایک مرتبہ اسے پھینکنے کی کوشش کرچکے ہیں،ایک مرتبہ دوران حمل ضائع کرنے کی کوشش کرچکے ہیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مذکورہ صورت میں عدالت کا خلع کی بنیاد پر فسخِ نکاح کا فیصلہ شرعاً معتبر نہیں،کیوں کہ فسخ نکاح کی کوئی معتبر شرعی بنیاد عدالتی فیصلے میں نہیں لکھی ہوئی کہ جس کے ثابت ہوجانے کے بعد عدالت نے نکاح فسخ کیا ہو،نیز جو درخواست آپ کی طرف سے عدالت میں جمع کروائی گئی تھی اس میں شوہر کے ذہنی مریض ہونے کا دعوی کیا گیا تھا،اور ذہنی مریض کی جو وضاحت آپ نے سوال میں کی ہے وہ اس درجے کی نہیں ہے، جس سے شوہر کا مجنون ہونا ثابت ہو،اور نہ عدالت نے فیصلے میں لکھی گئی تفصیل کے مطابق شوہر کے ذہنی معذورہونے کے ثبوت کے لیے معتبر شرعی طریقہ کار اختیار کیا ہے،لہٰذا مذکورہ عدالتی فیصلے کی بنیاد پرشرعاً نکاح فسخ نہیں ہوا،عورت بدستور اپنے شوہر کے نکاح میں برقرار ہے۔
وجہ اس کی یہ ہے کہ خلع اور فسخ نکاح(Dissolution) یہ دونوں الگ الگ معاملے ہیں،شرعاًخلع کا اختیار کسی بھی صورت میں شوہر کے علاوہ کسی کے پاس نہیں ہے،البتہ بعض صورتوں میں عدالت کو فسخ نکاح کا اختیار شرعاً حاصل ہے،اور شریعت نے ان تمام صورتوں کی تفصیلات بیان کی ہوئی ہیں،اگر ان میں سے کوئی صورت اپنی شرائط کے ساتھ پائی جائے اور وہ عدالت میں ثابت بھی ہوجائے تو عدالت کو فسخ نکاح کا اختیار حاصل ہوتا ہے ،لیکن اس خاص صورت کو عدالت میں ثابت کرنے اور اس کی بنیاد پر نکاح فسخ کرنے کے لیے شرعی طریقہ کار کا لحاظ رکھنا بھی ضروری ہے،پھر اگرچہ عدالت نے الفاظ خلع کے استعمال کیے ہوں لیکن فسخ ِنکاح کی شرعی بنیاداگر پائی جارہی ہو، نیزاسے ثابت کرنے کے لیے شرعی طریقہ کار اختیار کیاگیا ہو تو بھی نکاح فسخ ہوجاتا ہے۔
مذکورہ صورت میں چونکہ فسخ نکاح کی کوئی معتبرشرعی بنیاد نہیں ہے اور نہ ہی اسے شرعی طریقے سے عدالت میں ثابت کیا گیا ہے، لہٰذا فسخ نکاح سے متعلق عدالت کا مذکورہ فیصلہ شرعاً معتبرنہیں ہے،عورت بدستور اپنے شوہر کے نکاح میں برقرار ہے۔
البتہ اگر شوہر کی ذہنی حالت اس درجے متاثر ہے کہ جنون کی کیفیت تک پہنچی ہوئی ہے تواس بنیاد پر دفع ضرر کے لیے بیوی کا شوہر سے طلاق یا خلع کا مطالبہ کرنا درست ہے بشرطیکہ جنون اس درجے کا طاری ہوتا ہو کہ ایسے شخص کے ساتھ رہنا غیر معمولی حرج کا باعث ہو،البتہ اگر شوہر طلاق یا خلع نہ دے تو عدالت یا جماعت المسلمین کے ذریعے نکاح فسخ کروانے کے لیے درج ذیل طریقہ کار کا اہتمام ضروری ہے:
- سب سے پہلے عورت عدالت میں شرعی گواہوں(دو دیانت دار مرد یاایک دیانت دار مرد اور دو دیانت دار عورتوں) کے ذریعےشوہر کا مجنون ہوناثابت کرے۔
- عدالت معاملے کی تحقیق کرے اور جنون ثابت ہونے پر شوہر کوعلاج کے لیے ایک سال کی مہلت دے۔
- ایک سال کے بعد اگر عورت پھر عدالت سے رجوع کرے کہ شوہر کی جنونی کیفیت اب بھی برقرار ہےا ور حقیقتاً برقرار بھی ہو تو عدالت عورت کو تفریق کے مطالبے کا اختیار دے۔
- عورت اگر اسی مجلس میں تفریق کا مطالبہ کرے تو قاضی تفریق کردے۔
- یہ تفریق فسخ نکاح شمار ہوگی۔
البتہ عدالت یا جماعت المسلمین کے ذریعےفسخِ نکاح کا مذکورہ اختیار درج ذیل شرائط کے ساتھ مشروط ہے:
- نکاح سے پہلے عورت کو ہونے والے شوہر کے مجنون ہونے کا علم نہ ہو۔
- نکاح کے بعد شوہر کی مذکورہ کیفیت(جنون موجِب للفسخ) کا علم ہونے کے بعد ،اس شوہر کے ساتھ رہنے پر رضا مندی کا اظہار نہ کیا ہو، نہ صراحتاً نہ دلالتہً،یعنی زبان سے بھی رضامندی کا اظہار نہ کیا ہواورجماع(ہمبستری) یا دواعی جماع پر اپنےاختیارسےقدرت بھی نہ دی ہو۔
- مہلت کا سال گزرجانے کے بعد دوبارہ درخواست پر عدالت عورت کو اختیا دے تو عورت اسی مجلس میںفرقت اختیار کرلے،اگر مجلس برخاست ہوگئی یا عورت خود یا کسی کے اٹھانے سے کھڑی ہوگئی تو اختیار نہ رہے گا۔
مذکورہ صورت میں جیسا کہ تفصیل ذکر کی کہ سوال اور منسلکہ دستاویزات کے مطابق چونکہ فسخ نکاح کی شرعی بنیاد نہیں اور نہ ہی عدالت نے شرعی طریقہ کار کا اہتمام کیا ہےلہٰذا عدالت کا خلع کی بنیاد پر فسخِ نکاح کا فیصلہ شرعاً معتبر نہیں اور عورت بدستور شوہر کے نکاح میں برقرار ہے۔
عورت کو چاہیے کہ اگر شوہر حقیقتاً مجنون ہو توازسر نو عدالت میں دعویٰ دائر کرے اور عدالت مذکورہ شرعی طریقے کے مطابق عدالتی کارروائی کرے ،البتہ اگر یقین ہوکہ عدالت مذکورہ شرعی طریقے کے مطابق عدالتی کارروائی نہیں کرے گی اورکسی بھی صورت میں عورت شخصِ مذکور کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی تومالکیہ کے مسلک کے مطابق جماعت المسلمین کے ذریعے فیصلہ کروا لیا جائے، جس کا طریقہ یہ ہے کہ علاقے کے چار پانچ سمجھدار اور دیندار لوگوں کو جمع کیا جائے، ان میں ایک یا دو عالم بھی ہوں، ان کے سامنے عورت خود یا اس کا وکیل دعوی پیش کرےاور شرعی گواہوں کے ذریعے شوہر کےذہنی مریض ہونے کو ثابت کرے،شوہر کے ذہنی مریض ثابت ہونے کے بعد فیصلہ کرنے والی جماعت شوہرکوعلاج کےلیےایک سال کی مہلت دے،ایک سال کے بعد اگر عورت پھر جماعت المسلمین سےرجوع کرے کہ شوہر کی جنونی کیفیت اب بھی برقرارہےاورحقیقتاًبرقراربھی ہوتوجماعت المسلمین عورت کوتفریق کے مطالبےکااختیار دے،عورت اگر اسی مجلس میں تفریق کا مطالبہ کرے تو یہ حضرات عورت کے مطالبہ پرفریقین کے درمیان فسخِ نکاح کا فیصلہ کر دیں، اس کے بعد فیصلہ جاری ہونے کی تاریخ سے عورت کی عدت شروع ہو جائے گی،عدت گزارنے کے بعد عورت دوسری جگہ نکاح کر سکتی ہے۔
حوالہ جات
الفتاوى الهندية (1/ 526)
وإذا كان بالزوج جنون أو برص أو جذام فلا خيار لها كذا في الكافي.قال محمد - رحمه الله تعالى - إن كان الجنون حادثا يؤجله سنة كالعنة، ثم يخير المرأة بعد الحول إذا لم يبرأ، وإن كان مطبقا فهو كالجب وبه نأخذ كذا في الحاوي القدسي.
الفتاوى الهندية (1/ 525)
لو وجدت المرأة زوجها مجبوبا خيرها القاضي للحال ولا يؤجل كذا في فتاوى قاضي خان.
البناية شرح الهداية (5/ 590)
(وإذا كان بالزوج جنون، أو برص، أو جذام، فلا خيار لها، عند أبي حنيفة وأبي يوسف وقال محمد: لها الخيار) ش: وبه قال الشافعي ومالك وأحمد م: (دفعا للضرر عنها، كما في الجب والعنة) ش: أي كما كان لها الخيار في الجب والعنة، فتخير دفعا للضرر عنها، حيث لا طريق لها سواه.
حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار شرح تنویر الابصار (۴/۷۶۲)ط:دار الکتب العلمیۃ
قولہ:(وخالف محمد فی الثلاثۃ الاول ) فی بعض النسخ حذفھا.
قولہ: (فی الثلاثۃ الاول) ھی الجنون ،والجذام،والبرص،وألحق بھا القھستانی کل عیب لا یمکنھا المقام معہ إلا بضرر، ونقلہ المؤلف فی ((شارح الملتقی)).
العناية شرح الهداية (6/ 93)
( وإذا كان بالزوج جنون أو برص أو جذام فلا خيار لها عند أبي حنيفة وأبي يوسف ، وقال محمد لها الخيار) لأنه تعذر عليها الوصول إلى حقها لمعنى فيه فكان بمنزلة الجب والعنة فتخير دفعا للضرر عنها حيث لا طريق لها سواه .
المحيط البرهاني في الفقه النعماني (3/ 176)
وقال محمد رحمه الله: وللمرأة الخيار في الجنون والجذام وكل عيب لا يملكها المقام معه إلا بضرر، ألا ترى أنه لها ثبت الخيار في الجبّ والعنة وإنما ثبت دفعاً للضرر عنها، وفرّق بين جانب الرجل وبين جانب المرأة من حيث إنّ الرجل متمكن من دفع الضرر عن نفسه بالطلاق؛ لأن الطلاق في يده بخلاف المرأة وهما سويا بين جانب المرأة وبين جانب الرجل فيما سوى الجب والعنة والله أعلم.
الاختيار لتعليل المختار (3/ 115)
فصل (وإذا كان بأحد الزوجين عيب فلا خيار للآخر إلا في الجب والعنة والخصي) ، أما عيوب المرأة فبإجماع أصحابنا؛ لأن المستحق هو التمكين، وإنه موجود. والاستيفاء من الثمرات، واختلاله بالعيوب لا يوجب الفسخ؛ لأن الفوات بالموت لا يوجبه، فهذا أولى.
وأما عيوب الرجل وهي الجنون والجذام والبرص فكذلك. وقال محمد: لها الخيار؛ لأنه لا ينتظم بينهما المصالح، فيثبت لها الخيار دفعا للضرر عنها، بخلاف الزوج؛ لأنه يقدر على دفعه بالطلاق، وصار كالجب والعنة. ولهما: أن الخيار يبطل حق الزوج، فلا يثبت. وإنما ثبت في الجب والعنة؛ لإخلالهما بالمقصود من النكاح، والعيوب لا تخل به.
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2/ 327)
وقال محمد: خلوه من كل عيب لا يمكنها المقام معه إلا بضرر كالجنون والجذام والبرص، شرط لزوم النكاح حتى يفسخ به النكاح، وخلوه عما سوى ذلك ليس بشرط، وهو مذهب الشافعي.
(وجه) قول محمد أن الخيار في العيوب الخمسة إنما ثبت لدفع الضرر عن المرأة وهذه العيوب في إلحاق الضرر بها فوق تلك؛ لأنها من الأدواء المتعدية عادة، فلما ثبت الخيار بتلك، فلأن يثبت بهذه أولى بخلاف ما إذا كانت هذه العيوب في جانب المرأة؛ لأن الزوج، وإن كان يتضرر بها لكن يمكنه دفع الضرر عن نفسه بالطلاق، فإن الطلاق بيده، والمرأة لا يمكنها ذلك؛ لأنها لا تملك الطلاق، فتعين الفسخ طريقا لدفع الضرر، ولهما أن الخيار في تلك العيوب ثبت لدفع ضرر فوات حقها المستحق بالعقد، وهو الوطء مرة واحدة، وهذا الحق لم يفت بهذه العيوب؛ لأن الوطء يتحقق من الزوج مع هذه العيوب، فلا يثبت الخيار هذا في جانب الزوج.
المبسوط للسرخسي (5/ 177)
فأما المرأة إذا وجدت بالزوج عيب الجنون أو الجذام أو البرص فليس لها أن ترده به في قول أبي حنيفة وأبي يوسف رحمهما الله تعالى وعلى قول محمد لها الخيار إذا كان على حال لا تطيق المقام معه لأنه تعذر عليها الوصول إلى حقها لمعنى فيه فكان بمنزلة ما لو وجدته مجبوبا أو عنينا ولكنا نقول بهذه العيوب لا ينسد عليها باب استيفاء المقصود إنما تقل رغبتها فيه أو تتأذى بالصحبة والعشرة معه وذلك غير مثبت لها الخيار كما لو وجدته سيء الخلق أو مقطوع اليدين أو الرجلين بخلاف الجب والعنة على ما قررنا.
الإنصاف في معرفة الراجح من الخلاف للمرداوي (8/ 199)
ونقل حنبل: إذا كان به جنون أو وسواس، أو تغير في عقل، وكان يعبث ويؤذي: رأيت أن أفرق بينهما. ولا يقيم على هذا.
شرح مختصر خليل للخرشي (4/ 198)
وجماعة المسلمين العدول يقومون مقام الحاكم في ذلك وفي كل أمر يتعذر الوصول إلى الحاكم أو لكونه غير عدل.
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (325/2)
وإن كان الزوج كبيرا مجنونا، فوجدته عنينا قالوا: إنه لا يؤجل كذا ذكر الكرخي؛ لأن التأجيل للتفريق عند عدم الدخول، وفرقة العنين طلاق، والمجنون لا يملك الطلاق.
وذكر القاضي في شرحه مختصر الطحاوي أنه ينتظر حولا ، ولا ينتظر إلى إفاقته بخلاف الصبي؛ لأن الصغر مانع من الوصول، فيستأنى إلى أن يزول الصغر، ثم يؤجل سنة. فأما الجنون، فلا يمنع الوصول؛ لأن المجنون يجامع، فيؤجل للحال، والصحيح ما ذكره الكرخي أنه لا يؤجل أصلا لما ذكرنا.
البحر الرائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (133/4)
قال في البدائع وإن كان الزوج كبيرا مجنونا فوجدته عنينا قالوا إنه لا يؤجل كذا ذكر الكرخي؛ لأن التأجيل للتفريق عند عدم الدخول وفرقة العنين طلاق والمجنون لا يملك الطلاق وذكر القاضي في شرح مختصر الطحاوي أنه ينتظر حولا ولا ينتظر إلى إفاقته بخلاف الصبي؛ لأن الصغر مانع من الوصول فيتأتى إلى أن يزول الصغر ثم يؤجل سنة فأما الجنون فلا يمنع الوصول؛ لأن المجنون يجامع فيولج للحال والصحيح ما ذكره الكرخي إنه لا يؤجل أصلا لما ذكرنا اه.
بدائع الصنائع (55/4)
المجنون الذي يجن في حال ويفيق في حال فما يوجد منه في حال إفاقته فهو فيه بمنزلة سائر العقلاء وما يوجد منه في حال جنونه فهو بمنزلة المجنون المطبق اعتبار اللحقيقة.
حاشية ابن عابدین (244/3) ایچ ایم سعید
والذي يظهر لي أن كلا من المدهوش والغضبان لا يلزم فيه أن يكون بحيث لا يعلم ما يقول بل يكتفى فيه بغلبة الهذيان واختلاط الجد بالهزل كما هو المفتى به في السكران على ما مر ولا ينافيه تعريف الدهش بذهاب العقل فإن الجنون فنون ولذا فسره في البحر باختلال العقل وأدخل فيه العته والبرسام والإغماء والدهش.. .. فالذي ينبغي التعويل عليه في المدهوش ونحوه إناطة الحكم بغلبة الخلل في أقواله وأفعاله الخارجة عن عادته وكذا يقال فيمن اختل عقله لكبر أو المرض أو المصيبة فاجأته فما دام في حال غلبة الخلل في الأقوال والأفعال لا تعتبر أقواله وإن كان يعلمها ويريدها لأن هذه المعرفة والإرادة غير معتبرة لعدم حصولها عن إدراك صحيح كما لا تعتبر من الصبي العاقل.
محمد حمزہ سلیمان
دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی
19.جمادی الآخرۃ1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


