| 89341 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ بچوں کو چوسنی (Pacifier) دینا کیسا ہے؟ کیا اس میں کوئی شرعی قباحت ہے؟ کیا بچوں کو چوسنی دینا دھوکے یا مکر کے حکم میں آتا ہے؟ مہربانی فرما کر اس کا مفصل اور مدلل جواب عنایت فرمائیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر بچے کی خوراک کا خیال رکھا جاتا ہے اور کسی وقت غیر ضروری رونے سے بچانے کے لیے عارضی طور پر چوسنی دی جائے تو یہ درست ہے۔ عادت بنانا یا بچے کی ضروریات سے بے فکر ہو کر دینا درست نہیں۔
حوالہ جات
صحيح البخاري (3/108):
ونصوم صبياننا،ونجعل لهم اللعبة من العهن، فإذا بكى أحدهم على الطعام أعطيناه ذاك.
المبسوط للسرخسي (24/ 77):
أن الأصل في الأشياء الإباحة، وأن الحرمة بالنهي عنها شرعا.
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (6/338):
كل مباح حلال.
عزیزالرحمن
دار الافتاءجامعۃ الرشید کراچی
18/جمادی الآخرۃ /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عزیز الرحمن بن اول داد شاہ | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


