| 89346 | خرید و فروخت کے احکام | خرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
بکر(بائع) نے ٹماٹرکی فصل زید(مشتری) پرفروخت کی،پھرزید نے ٹماٹر کی فصل کی کٹائی کی،اس کے بعد جوتنا،لکڑی وغیرہ رہ جاتی ہے اس پرکس کاحق بنتاہے؟زید کاحق ہے یابکر کا؟ہمارے ہاں عرف یہ ہے کہ وہ لکڑی تناوغیرہ سب بائع( مالک زمین) کاحق سمجھاجاتاہے؟دلیل کے ساتھ واضح کردیجئے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگربکرنے صرف ٹماٹرکی فصل زید کوفروخت کی اورعقد میں تنااورلکڑی کی شمولیت کاکوئی ذکر نہیں ہوا تواس صورت میں تنا،لکڑی وغیرہ خریدوفروخت کے معاملہ میں شامل نہیں ہوں گے،خاص طورپرجبکہ مقامی عرف بھی یہی ہو ،لہذاصورت مسؤلہ میں تنا،لکڑی وغیرہ کاحق داربکر ہے،زید نہیں،البتہ اگرمعاملہ میں فصل کے ساتھ تنا اورلکڑی کی بھی صراحت کردی جائے تواس صورت میں تنا،لکڑی فروخت شدہ چیز کاحصہ بن کر خریدارکی شمارہوں گی۔
حوالہ جات
فی درر الحكام شرح غرر الأحكام (ج 6 / ص 173)
الأول أن كل ما هو متناول اسم المبيع عرفا يدخل في البيع ، وإن لم يذكر صريحا والثاني أن كل ما كان متصلا بالمبيع اتصال قرار كان تابعا له داخلا في المبيع وما لا فلا قالوا إن ما وضع لأن يفصله البشر بالآخرة ليس باتصال قرار وما وضع لا لأن يفصله فهو اتصال قرار ، والثالث أن ما لا يكون من القسمين إن كان من حقوق المبيع ومرافقه يدخل في البيع بذكرها وإلا فلا ۔
وفی رد المحتار (ج 3 / ص 161):
والعرف في الشرع له اعتبار لذا عليه الحكم
وفی البحر الرائق شرح كنز الدقائق للنسفي (ج 12 / ص 312):
وشجرة الباذنجان لا تدخل في بيع الارض فهي للبائع إلابالشرط، كذا في الخانية من غير ذكر هكذا ذكر الحاكم السمرقندي.
والكراث بمنزلة الرطبة. وذكر الخصاف في الحطب والقصب والطرفاء وأنواع الخشب أنها للبائع۔
محمد اویس
دارالافتاء جامعة الرشید کراچی
۲۲/جمادی الثانی۱۴۴۷ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد اویس صاحب | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


