03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ہبۃ المشاع کا حکم
89425ہبہ اور صدقہ کے مسائلکئی لوگوں کو مشترکہ طور پرکوئی چیز ہبہ کرنے کا بیان

سوال

والد صاحب نے اپنی زندگی میں نسوار کی دکان تینوں بیٹوں کے درمیان ملکیت کے طور پر تقسیم کردی تھی، اور یہ طے ہوا تھا کہ دکان کو چھ چھ ماہ باری باری چلایا جائے گا، اور جو نفع حاصل ہوگا اسے جمع کرکے بعد میں تینوں بھائی آپس میں برابر تقسیم کریں گے۔

جب چھوٹے بھائی کی باری آئی تو اس نے معذرت کی کہ میں دکان نہیں چلا سکتا۔ اس کے بعد والد صاحب کے فیصلے سے دو بھائیوں نے دکان کا کنٹرول ایک بھائی کے حوالے کردیا، اور باقی دونوں کے لیے رقم دینے کا وعدہ کیا، جو والد کی وفات کے بعد ادا بھی کردی گئی۔

تنقیح: سائل نے زبانی بتایا کہ دکان نسوار کی تھی، اور تینوں بھائیوں کے درمیان منافع کی تقسیم اس طرح طے ہوئی تھی کہ جو نفع آئے گا وہ جمع کرلیا جائے گا، پھر بعد میں تینوں بھائیوں میں ملا کر تقسیم کردیا جائے گا۔ لیکن جب چھوٹے بھائی کی باری آئی تو اس نے کہا کہ میں دکان نہیں چلا سکتا۔ لہٰذا اب دونوں بھائیوں نے اپنی اپنی باری میں جو نفع حاصل ہوا وہ خود لے لیا۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

والد صاحب نے دکان جوکہ بڑی اور قابل تقسیم تھی اسے تقسیم کیے بغیر بیٹوں کو ہبہ کیا ، ایسا ہبہ نافذ نہیں ہوتا ، لہذابیٹے اس دکان کے مالک نہیں ہوئے تھے ، دکان بدستور والد ہی کی ملکیت میں رہی ۔ اس دوران جوبھی وصولیاں ہوئیں چونکہ وہ والد صاحب کی رضامندی سے ہوئیں تو ان کی واپسی ضروری نہیں ۔ چنانچہ چھوٹے بھائی کی باری یا اس کے بدلے کسی عوض کا شرعا کوئی حق ثابت نہیں ہوتا۔

اوروالد صاحب کی اجازت سے دوسرے فیصلے کے مطابق دکان کی ملکیت کسی ایک بیٹے کو دے کر اسے قیمت دینے کا پابند کیاگیاجس سے وہ بیٹا  دکان کا مالک بن گیا اور دکان کی قیمت اس کے ذمے ہوگئی۔وہ رقم  دونوں بھائيوں کو دینا والد کی طرف سے ہبہ تھا ، لیکن  چونکہ والد صاحب کی زندگی میں وہ رقم دونوں بھائیوں نے قبضہ نہیں کی،   لہذا ہبہ مکمل نہیں ہوا،  بلکہ وہ رقم والد ہی کی ملکیت میں برقراررہی، جووالد کا ترکہ  ہوگا، ہاں اگر والد صاحب کے سب ورثہ بالغ ہوں اور وہ والد صاحب کی چاہت کو سامنے رکھتے ہوئے بخوشی  دونوں بھائیوں کو  اس رقم   کا مالک بنادیں  تو یہ ان کے لیے باعث اجر وثواب ہوگا ۔

حوالہ جات

الهداية في شرح بداية المبتدي (3/ 224)

وإن وهبها واحد من اثنين لا يجوز عند أبي حنيفة، وقالا يصح"؛ لأن هذه هبة الجملة منهما، إذ التمليك واحد فلا يتحقق الشيوع كما إذا رهن من رجلين.

الدر المختار مع رد المحتار (5/ 697)

(وإن وهب اثنان دارا لواحد صح) لعدم الشيوع (وبقلبه) لكبيرين (لا) عنده للشيوع فيما يحتمل القسمة.

الهداية في شرح بداية المبتدي (3/ 222)

الهبة عقد مشروع لقوله عليه الصلاة والسلام: "تهادوا تحابوا" وعلى ذلك انعقد الإجماع.وتصح بالإيجاب والقبول والقبض أما الإيجاب والقبول فلأنه عقد، والعقد ينعقد بالإيجاب، والقبول، والقبض لا بد منه لثبوت الملك.

الهداية في شرح بداية المبتدي (3/ 222)

وتصح(الهبة) بالإيجاب والقبول والقبض.

محمد امداداللہ بن مفتی شہیداللہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

25/جمادی الآخرۃ 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

امداد الله بن مفتی شہيد الله

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب