03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
قانونی کاروائی کے لیے کاغذ پر طلاق لکھنا
89433طلاق کے احکامتحریری طلاق دینے کا بیان

سوال

میری پاکستان میں شادی ہو چکی ہے، اور میں امریکہ میں دوسری شادی کرنا چاہتا ہوں۔ دوسری خاتون کو میری پہلی شادی کا علم ہے اور میری پہلی بیوی بھی میری دوسری شادی کے لیے راضی ہے۔ لیکن امریکہ کے قانون کے مطابق، دوسری شادی کرنے کے لیے پہلی بیوی کو قانونی طور پر طلاق دینا ضروری ہوتا ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ: اگر میں صرف قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے کاغذی طلاق جمع کرواؤں ( اور دل میں حقیقی اسلامی طلاق دینے کا ارادہ نہ ہو ) اور پھر دوسری شادی کے بعد پاکستان میں اپنی حیثیت دوبارہ "شادی شدہ" کروا دوں، تو کیا یہ اسلام میں جائز ہے؟سوال یہ ہے کہ کیا صرف قانونی طلاق کا جمع کروانا شریعت میں حقیقی طلاق شمار ہوگا یا نہیں؟ برائے مہربانی اس مسئلے کی شرعی حیثیت سے رہنمائی فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیراً۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اس صورت میں آپ کی بیوی پر طلاق واقع ہوجائے گی ، لیکن آپ درج ذیل طریقہ اختیار کرکے نسبتا آسان صورت اختیار کرسکتے ہیں:

1- آپ پاکستانی بیوی کو ایک طلاق دیں اور  پھر عدت گزرنے کے بعدامریکی عدالت میں طلاق نامہ جمع کرالیں اوربعد میں دوبارہ پاکستانی بیوی سے نکاح کرلیں، لیکن اس صورت میں آپ کے پاس آئندہ کے لیے صرف دو طلاقوں کا اختیار باقی رہے گا۔

2- یا امریکہ میں قانونی کاروائی کرتے وقت طلاق کے دستاویزات  پر طلاق کے ساتھ ان شاء اللہ بھی لکھ دیں تو طلاق واقع نہیں ہوگی۔3- یا شوہر کسی شخص سے جھوٹا طلاق نامہ لکھوائے، اسے صراحتا بتائیں کہ یہ جھوٹا طلاق نامہ ہے اور لکھنے والے کو طلاق کا وکیل نہ بنائے اور نہ ہی اس جھوٹے طلاق نامہ سے طلاق دینے کی نیت کرے۔ پھر خود نہ اس پر سائن کرے اور نہ ہی انگھوٹا لگائے بلکہ کسی اور شخص کے ذریعے اپنا جھوٹا دستخط کروائےاور بعد میں کبھی بھی  اس جھوٹے طلاق نامہ کے ذریعے حقیقی طلاق دینے کا اقرار نہ کرے اور جھوٹے طلاق نامے کی اس کاروائی سے پہلے کسی شخص کو اس بات پر گواہ بنائے کہ میں اس طرح کا جھوٹا طلاق نامہ تیار کر رہا ہوں آپ میرے گواہ رہنا کہ اس طلاق نامہ سے میرا مقصود طلاق دینا نہیں ہےبلکہ یہ ایک جھوٹا طلاق نامہ ہے۔

حوالہ جات

سنن أبی داؤد:(2/255)

عن أبي هريرة : أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ''ثلاث جدهن جد وهزلهن جد: النكاح، والطلاق، والرجعة.''

ردالمحتار علی درالمختار:(3/246)

ولو استکتب من آخر کتابا بطلاقھا و قرأہ علی الزوج فأخذہ الزوج و ختمہ و عنون و بعث بہ إلیھا فأتاھا وقع إن أقرالزوج أنہ کتابہ أو قال للرجل : إبعث بہ إلیھا، أو قال لہ: اکتب نسخۃ و ابعث بھا إلیھا، وإن لم یقر أنہ کتابہ ولم تقم بینۃ لکنہ وصف الأمر علی وجھہ لاتطلق قضاء و لادیانۃ، وکذا کل کتاب لم یکتبہ بخطہ و لم یملہ بنفسہ لایقع الطلاق مالم یقر أنہ کتابہ....

بدائع الصنائع:(3/100)

وكذا كونه جادا ليس بشرط فيقع طلاق الهازل بالطلاق واللاعب لما روي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه قال: '' ثلاث جدهن جد وهزلهن جد النكاح والطلاق والعتاق، وروي النكاح والطلاق والرجعة''  وعن أبي الدرداء رضي الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه قال: '' من لعب بطلاق أو عتاق لزمه''

فتح القدیر:(3/487)

(ويقع طلاق كل زوج إذا كان عاقلا بالغا ولا يقع طلاق الصبي والمجنون والنائم) لقوله عليه الصلاة والسلام ''كل طلاق جائز إلا طلاق الصبي والمجنون''  ولأن الأهلية بالعقل المميز وهما عديما العقل.

الفتاوی الھندیۃ:(1/378)

ولو كتب إليها أما بعد فأنت طالق ثلاثا إن شاء اللہ تبارك وتعالى موصولا بكتابته لا تطلق وإن كان مفصولا تطلق كذا في الظهيرية.

الفتاوی الھندیۃ:(1/378)

وإذا كتب الطلاق واستثنى بلسانه أو طلق بلسانه واستثنى بالكتابة هل يصح لا رواية لهذه المسألة وينبغي أن يصح كذا في الظهيرية.

الفتاوی الھندیۃ:(1/379)

رجل أكره بالضرب والحبس على أن يكتب طلاق امرأته فلانة بنت فلان بن فلان فكتب امرأته فلانة بنت فلان بن فلان طالق لا تطلق امرأته كذا في فتاوى قاضي خان.

الفتاوی التاترخانیۃ:(4/530)

لو کتب وسط الکتاب '' إذا جاءک کتابی ھذا فأنت طالق '' وکتب قبلہ حوائج و بعدہ حوائج ثم بدا لہ فمحی الطلاق و ترک ماقبلہ طلقت.

الدرالمختار مع ردالمحتار:(3/306)

(الصريح يلحق الصريح و) يلحق (البائن) بشرط العدة.

زبیر احمد ولد شیرجان

دارالافتاء جامعة الرشید کراچی

24/جمادی الآخرہ 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

زبیر احمد ولد شیرجان

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب